Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ڈینگی،علامات، احتیاط، پرہیز اور خوراک،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

نقطہ نظر

ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو ڈینگی پھیلانے والے مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ برسات اور گرمی کے موسم میں اس بیماری کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔ ڈینگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی علامات کو پہچانیں، خوراک کا خیال رکھیں اور مچھروں سے بچاؤ کی کوشش کریں۔ ڈینگی میں عموماً اچانک تیز بخار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سر میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، جسم اور جوڑوں میں درد، تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ کچھ مریضوں کو متلی، قے اور بھوک کم لگنے کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ بعض اوقات جسم پر سرخ دانے یا خارش بھی ہو سکتی ہے۔ اگر بخار کے دوران یا بخار اترنے کے بعد پیٹ میں شدید درد ہو، بار بار قے آئے، ناک یا مسوڑھوں سے خون آئے، قے یا پاخانے میں خون نظر آئے، سانس لینے میں مشکل ہو، بہت زیادہ کمزوری یا غنودگی ہو یا پیشاب بہت کم آئے تو اسے خطرے کی علامت سمجھیں اور فوراً طبی مدد حاصل کریں۔ ڈینگی میں اکثر بھوک کم ہو جاتی ہے، لیکن جسم کو پانی اور طاقت کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ اس لیے مریض کو تھوڑا تھوڑا کرکے بار بار پانی اور دوسرے صحت بخش مشروبات دیتے رہیں۔ پانی اور او آر ایس سب سے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ ناریل پانی، یخنی، سوپ، لسی اور دیگر مناسب مشروبات بھی لیے جا سکتے ہیں۔ اگر متلی ہو تو ایک وقت میں زیادہ پانی یا غذا دینے کے بجائے تھوڑی مقدار وقفے وقفے سے دیں۔ ڈینگی میں ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا بہتر رہتی ہے۔ دلیہ، کھچڑی، چاول، دال، سبزیاں، دہی اور یخنی اچھی غذائیں ہیں۔ پھلوں میں کیلا، سیب، کینو، مالٹا، انار، پپیتا اور دوسرے موسمی پھل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگر مریض کی بھوک اچھی ہو تو انڈہ، چکن یا مچھلی بھی خوراک میں شامل کی جا سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ مریض ایک وقت میں بہت زیادہ کھانا کھائے، بہتر ہے کہ دن میں کئی بار تھوڑی تھوڑی غذا دی جائے۔ ڈینگی کے دوران بہت زیادہ تلی ہوئی، چکنی اور مرچ مصالحے والی چیزوں سے پرہیز کریں، خاص طور پر اگر مریض کو متلی یا قے ہو رہی ہو۔ بہت زیادہ چائے اور کافی بھی نہ لیں۔ سافٹ ڈرنکس اور بہت زیادہ میٹھی چیزیں بھی پانی اور صحت بخش مشروبات کا متبادل نہیں ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ڈینگی کے دوران اسپرین، آئبوپروفن اور ڈکلوفیناک جیسی درد کی دوائیں خود سے استعمال نہ کریں کیونکہ ان سے خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ڈینگی کے دوران پپیتے کے پتوں کا جوس استعمال کرنے کا مشورہ عام طور پر سننے کو ملتا ہے، لیکن اسے ڈینگی کا ثابت شدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی ایک پھل، جوس یا گھریلو نسخے پر بھروسا کرنے کے بجائے متوازن غذا اور مناسب مقدار میں پانی اور دوسرے سیال لینا زیادہ اہم ہے۔ ڈینگی کے مریض کو بھی مچھر سے بچانا ضروری ہے، تاکہ مچھر اسے کاٹ کر بیماری دوسرے لوگوں تک نہ پہنچائے۔ گھر میں مچھر دانی استعمال کریں، جسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر رکھیں اور مچھر بھگانے کے مناسب طریقے اختیار کریں۔ گھر اور اردگرد کہیں بھی پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ گملوں، پرانے ٹائروں، برتنوں اور دوسری جگہوں پر جمع پانی کو باقاعدگی سے ختم کریں، کیونکہ یہی پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈینگی میں سب سے اہم بات گھبرانا نہیں بلکہ احتیاط کرنا ہے۔ مریض کو مناسب مقدار میں پانی اور او آر ایس دیں، ہلکی اور متوازن غذا دیں اور مچھر سے بچائیں۔ ڈینگی میں کوئی ایک پھل یا گھریلو نسخہ جادوئی علاج نہیں۔ پانی، مناسب خوراک، آرام، صفائی اور خطرے کی علامات پر بروقت توجہ سب سے اہم ہیں ڈینگی کے مریض کو اکیلا نہ چھوڑیں اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھیں۔ اگر خون بہنے، شدید پیٹ درد، بار بار قے، سانس میں دشواری، بے ہوشی، غیر معمولی غنودگی یا پیشاب بہت کم آنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو گھریلو نسخوں پر وقت ضائع نہ کریں اور فوراً قریبی ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ مچھر کی افزائش روکنا صرف ایک گھر کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے؛ اپنے گھر اور اردگرد پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔