چمکتی اسکرینیں، بجھتی آنکھیں،تحریر ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
جدید انسانی تاریخ میں شاید ہی کسی ایجاد نے ہمارے روزمرہ معمولات، سماجی رویوں اور جسمانی ساخت کو اس قدر خاموشی اور گہرائی سے بدلا ہو جتنا ڈیجیٹل اسکرین نے بدلا ہے۔ چند انچ کے چمکتے ہوئے شیشے نے بظاہر تو پوری دنیا کو انگلیوں کی پوروں پر سمیٹ دیا ہے، لیکن اس بے پناہ آسائش کے عوض ہم سے جسمانی اور اعصابی تندرستی کا بھاری خراج وصول کیا جا رہا ہے۔ صبح جاگتے ہی موبائل اسکرین پر نگاہیں جمانے سے لے کر رات گئے تک کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور ٹیلی ویژن کے سامنے مگن رہنے کا یہ لامتناہی سلسلہ دراصل ایک ایسی خاموش بیماری کی بنیاد رکھ رہا ہے جس کے بھیانک اثرات اب ہر گھر میں نمایاں ہونے لگے ہیں۔ قدرت نے انسانی آنکھ کو دور کے وسیع اور متحرک مناظر دیکھنے، نرم اور منعکس شدہ روشنی سے مانوس ہونے اور تھری ڈی دنیا کی گہرائیوں کو ناپنے کے لیے تخلیق کیا تھا۔ اس کے برعکس، ڈیجیٹل اسکرین آنکھ کے عین سامنے ایک فلیٹ سطح پر براہِ راست نیلی روشنی خارج کرتی ہے اور آنکھ کے نازک عضلات کو ایک ہی فاصلے پر مستقل منجمد کر دیتی ہے، جس سے اعصابی اور بصری نظام میں مسلسل تصادم جنم لیتا ہے۔
اسکرین کے طویل اور مسلسل استعمال کا سب سے پہلا وار آنکھ کی قدرتی نمی اور حفاظتی تہہ پر ہوتا ہے۔ ایک عام اور صحت مند انسان ایک منٹ میں پندرہ سے بیس مرتبہ خودکار طریقے سے پلکیں جھپکتا ہے، جس کی بدولت آنسوؤں کی ایک شفاف رطوبت قرنیہ کو نم، چکنا اور جراثیم سے محفوظ رکھتی ہے۔ اسکرین پر باریک بینی سے کام کرنے، پڑھنے یا مسلسل ویڈیوز دیکھنے کے دوران پلک جھپکنے کی یہ شرح گھٹ کر محض پانچ سے سات بار رہ جاتی ہے۔ نتیجتاً آنسو تیزی سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں، آنکھیں بنجر زمین کی طرح خشک ہونے لگتی ہیں، اور ان میں ریت کے ذرات چبھنے کا احساس، جلن، لالی اور پانی بہنے کی تکلیف ابھرتی ہے۔ دوسری جانب آنکھ کے اندر موجود سیلیئری عضلات کو باریک پکسلز پر گھنٹوں مسلسل فوکس قائم رکھنے کے لیے غیر معمولی محنت کرنا پڑتی ہے، جو بتدریج پٹھوں کے مستقل اکڑاؤ اور اعصابی تناؤ میں بدل جاتی ہے۔ یہی کھنچاؤ آدھے سر کے درد، آنکھوں کے ڈھیلوں کے پیچھے شدید کچوکے لگنے اور گردن سے لے کر کندھوں اور کمر تک کے پٹھوں میں دائمی درد کا روپ دھار لیتا ہے۔ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی ہمارے دماغ کے غدود کو یہ دھوکا دیتی ہے کہ ابھی دن باقی ہے، جس سے نیند لانے والے قدرتی ہارمون میلاٹونن کا اخراج رک جاتا ہے اور انسان بے خوابی، چڑچڑے پن اور اعصابی تھکن کی گہری دلدل میں دھنس جاتا ہے۔
عمر کے مختلف ادوار میں اسکرین کے منفی اثرات الگ الگ اور خطرناک انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں، جن میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتِ حال معصوم بچوں کی ہے۔ بچوں کا بصری نظام اور آنکھ کا ڈھیلا جسمانی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے، اور اس نازک عمر میں موبائل اسکرین کا بے جا استعمال دور کی بینائی کی شدید خرابی یعنی مائیوپیا کو بے پناہ فروغ دے رہا ہے۔ کمسن بچوں کو بہلانے یا کھانا کھلانے کے لیے موبائل ان کے ہاتھوں میں تھما دینا ان کی فطری نشوونما کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہونا چاہیے، جبکہ ابتدائی اسکول کی عمر کے بچوں کے لیے تفریحی اسکرین ٹائم دن بھر میں ایک گھنٹے سے زیادہ ہرگز نہ ہو۔ سب سے اہم اقدام یہ ہے کہ بچوں کے ہاتھ اور اسکرین کے درمیان کم از کم چودہ سے سولہ انچ کا فاصلہ لازمی رکھا جائے اور اندھیرے کمرے میں فون دیکھنے پر قطعی پابندی لگائی جائے کیونکہ تاریکی میں پتلی پھیل جانے کی وجہ سے نیلی روشنی ریٹینا کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اکسیر نسخہ یہ ہے کہ بچوں کو روزانہ کم از کم ڈیڑھ سے دو گھنٹے کھلی فضا، باغ اور قدرتی دھوپ میں کھیلنے کا موقع دیا جائے، کیونکہ قدرتی روشنی ریٹینا میں ایک خاص مادے کے اخراج کو متحرک کرتی ہے جو آنکھ کے ڈھیلے کو غیر طبعی طور پر لمبا ہونے اور نظر کو خراب ہونے سے روکتا ہے۔
نوجوانوں، طلبہ اور پیشہ ور افراد کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے، کیونکہ دفتری کام کاج، تعلیم اور آن لائن ذمہ داریوں کے باعث ان کا آٹھ سے دس گھنٹے اسکرین پر گزارنا مجبوری بن چکا ہے۔ اس عمر کے افراد کے لیے کام کی جگہ کے ارگونومکس کو درست کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ کمپیوٹر مانیٹر ہمیشہ چہرے سے تقریباً بیس سے چھبیس انچ دور اور آنکھوں کی سیدھ سے پندرہ سے بیس ڈگری نیچے ہونا چاہیے تاکہ پپوٹے آنکھ کے زیادہ حصے کو ڈھانپ کر رکھیں اور رطوبت محفوظ رہے۔ اسکرین پر پڑنے والی روشنی کی چکاچوند کو روکنے کے لیے اینٹی ریفلیکٹو یا اینٹی گلیر کوٹنگ اور بلیو کٹ لینز والے چشمے استعمال کرنے چاہییں تاکہ پکسلز کی چمک آنکھ کے پردے پر براہِ راست دباؤ نہ ڈالے۔ کام کے دوران کمرے کی روشنی اور اسکرین کی برائٹنس کا توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے، اور ایئر کنڈیشنر یا پنکھے کی تیز ہوا کے براہِ راست رخ سے بچنا چاہیے تاکہ آنکھ کی نمی کو زبردستی اڑنے سے روکا جا سکے۔
بزرگ افراد کی آنکھیں عمر بڑھنے کے ساتھ قدرتی طور پر کمزور اور خشک ہو جاتی ہیں، اور چالیس برس کے بعد عدسے کی لچک ماند پڑنے سے قریب کی نظر کا مسئلہ جنم لیتا ہے۔ بزرگ جب موبائل یا ٹیبلٹ پر باریک تحریر پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آنکھوں کو حد سے زیادہ بھینچتے ہیں جس سے ان کی پہلے سے کمزور بصارت پر شدید بوجھ پڑتا ہے۔ بزرگوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی ڈیوائسز پر فونٹ کا سائز بڑا اور واضح رکھا جائے اور بیک گراؤنڈ کا کنٹراسٹ نرم ہو۔ پنکھے یا ہیٹر کی ہوا کے سامنے بیٹھنے سے گریز کیا جائے اور معالج کے مشورے سے کسی اچھے پرزرویٹیو فری آئی ڈراپ کا استعمال معمول بنایا جائے یا عرق گلاب سے آنکھیں دھوئیں تاکہ آنکھوں میں ریت اور خشکی کے احساس سے نجات مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگوں کو چاہیے کہ وہ مانیٹر کے لیے اپنے معالج سے انٹرمیڈیٹ فاصلے کا مخصوص چشمہ بنوائیں، تاکہ عام ریڈنگ گلاسز کی وجہ سے اسکرین پر جھکنے اور گردن کے مہروں کو نقصان پہنچانے سے بچا جا سکے۔
اسکرین کے مستقل زہر کا تریاق چند نہایت سادہ، آسان اور مفید ورزشوں میں پوشیدہ ہے جنہیں کام کے وقفوں کے دوران اپنایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا اور سنہری اصول بیس-بیس-بیس کا ضابطہ ہے، یعنی ہر بیس منٹ کے مسلسل کام کے بعد بیس سیکنڈ کے لیے اپنی نظریں اسکرین سے ہٹا کر کم از کم بیس فٹ دور کسی چیز پر ٹکا دی جائیں۔ یہ مختصر سا وقفہ عضلات کو فوری ڈھیلا کر کے آرام دہ حالت میں لے آتا ہے۔ اس کے بعد فوکس بدلنے کی ورزش لینز کی لچک کو دوبارہ زندہ کرتی ہے، جس میں اپنی ناک کے سامنے دس انچ پر انگوٹھا رکھ کر پانچ سیکنڈ تک اس پر نگاہ جمائی جائے اور پھر اچانک دور کسی کھڑکی یا دیوار پر پانچ سیکنڈ فوکس کیا جائے۔ دوسری مشق آنکھوں سے انگریزی کا بڑا ہندسہ آٹھ یا لامتناہی کی علامت بنانے کی ہے، جس میں گردن کو ہلائے بغیر صرف پتلیوں کو اس خیالی لکیر پر گھمایا جاتا ہے، جس سے آنکھ کے بیرونی پٹھے مضبوط اور لچکدار رہتے ہیں۔ کام کے دوران جان بوجھ کر ہر تھوڑی دیر بعد آنکھیں بند کر کے پپوٹوں کو دو سیکنڈ کے لیے ہلکا سا دبانا مائبومین غدود کو حرکت میں لا کر قدرتی آنسوؤں کی پیداوار بحال کرتا ہے۔ سیشن کے اختتام پر دونوں ہتھیلیوں کو رگڑ کر گرم کرنا اور نرمی سے بند آنکھوں پر پیالہ بنا کر رکھنا آپٹک نرو کو فوری تاریکی اور حرارت کے ذریعے وہ گہرا سکون بخشتا ہے جو گھنٹوں کی تھکن کو چند لمحوں میں زائل کر دیتا ہے۔
ڈیجیٹل دور کی سہولیات سے مکمل کنارہ کشی تو شاید اب ممکن نہیں رہی، مگر دانشمندی اور بروقت احتیاط کے ذریعے ہم ٹیکنالوجی کو اپنی آنکھوں کا قاتل بننے سے ضرور روک سکتے ہیں۔ اسکرین کا اعتدال پسندانہ استعمال، مناسب فاصلہ، ورک اسٹیشن کی درست ترتیب اور چند لمحوں کی یہ آسان ورزشیں محض آنکھوں کی حفاظت نہیں بلکہ انسان کی ذہنی، اعصابی اور جسمانی توانائی کو برقرار رکھنے کا وہ بنیادی تقاضا ہیں جنہیں نظر انداز کرنا مستقبل میں بینائی کے ناقابلِ تلافی نقصان پر پچھتانے کے مترادف ہوگا۔
مزید پڑھیں





