ریاض ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کے بادل، دھماکوں کے بعد ہائی الرٹ

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہفتے کے روز مرکزی ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کے بڑے بادل دکھائی دیے، جبکہ رات گئے دارالحکومت اور گردونواح میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے شہریوں کو الرٹس جاری کیے گئے۔ یہ پیش رفت یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریاض کے علاقے میں سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا ستون بلند ہوتا دکھائی دیا، جس کے سامنے ایئرپورٹ کی ہائی وے، مرکزی ٹرمینل اور دیگر تنصیبات نظر آ رہی تھیں۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کے حوالے سے شدید خلل کی اطلاع دی، جہاں متعدد پروازیں منسوخ اور کئی تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایئرپورٹ کو ویب سائٹ کے زیادہ سے زیادہ ڈسٹرپشن انڈیکس 5.0 پر رکھا گیا، جو طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سعودی سول ڈیفنس نے رات گئے ریاض اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع شہر الخرج کے شہریوں کو ممکنہ خطرے کے حوالے سے موبائل فون پر الرٹس بھیجے۔ صبح کے وقت صورتحال معمول پر آنے کا اعلان کردیا گیا۔ریاض کے رہائشیوں کو موصول ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’’علاقہ دشمن فضائی خطرے کی زد میں ہے‘‘ اور شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے کچھ دیر بعد صحافیوں نے دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنیں۔ایک مقامی شہری نے بتایا کہ الارم سنائی دینے کے بعد اس کے گھر کی کھڑکیاں ہلنے لگیں، جبکہ ایک اور رہائشی نے صورتحال کو خوفناک قرار دیا۔
سعودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر دھوئیں کے منبع یا رات گئے جاری کیے گئے الرٹس کی وجہ کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ سعودی حکام نے یہ بھی نہیں بتایا کہ خطرہ کہاں سے آیا تھا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب نے رواں ہفتے یمن کے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم حوثیوں نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے ’’جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں





