Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے بغیر دنیا میں پائیدار امن ممکن نہیں،انتونیو گوتریس


 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ہمراہ دفتر خارجہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی-


نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پاکستان آمد پر گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انتونیو گوتیرس نے اپنی مصروفیات کے باوجود پاکستان کی دعوت قبول کی، جو عالمی مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے کے حوالے سے پاکستان اور اقوام متحدہ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے پاکستان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور عالمی امن کے لیے کردار کو سراہتا ہے اور گوتیرس پاکستان کے نہایت قریبی دوست ہیں۔


اسحاق ڈار نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر وسائل متحرک کرنے میں انتونیو گوتیرس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی قیادت اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔


نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملاقات کے دوران پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون، عالمی امن و سلا متی اور مختلف علاقائی و عالمی تنازعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو طاقت کے بجائے بات چیت، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ مذاکرات کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


اسحاق ڈار نے پاکستان کے مصالحانہ اور ثالثی کے کردار کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور عالمی مسائل کے سفارتی حل کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔


مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی کشمیر تنازع پر مستقل پوزیشن کو سراہتا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا۔


اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کو شش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بند کرے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے پاکستان کے حالیہ سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے حالات سازگار بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


گوئترس نے کہا کہ یہ قابل ذکر بات ہے کہ امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین تنازعات میں سے ایک میں ثالث کے طور پر قبول کیا انہوں نے پاکستانی قیادت کو اس کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کا پاکستان پر اعتماد انتہائی اہم ہے اور یہ عالمی سطح پر پاکستان کے قابل اعتماد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کا موقع ملا۔ ایسے معاملات میں اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اس وقت جب مذاکرات کرنے والے فریق ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلافات رکھتے ہوں،تمام مسائل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کا دفتر اس حوالے سے ہر وقت معاونت کے لیے دستیاب ہے۔


فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے بغیر دنیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین، خلیج اور دیگر تنازعات کے دوران دنیا کو فلسطین کے مسئلے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

گوتیرس نے 7 اکتوبر کے حماس حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ فلسطینی عوام کی مشکلات کا خاتمہ چاہتی ہے۔ انہوں نے غزہ میں فوری امن اور انسانی بحران کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ امن منصوبے پر فوری عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

انتونیو گوتیرس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سلامتی کونسل آج کی دنیا کی حقیقی عکاسی نہیں کرتی اور اسے اپنی ساکھ اور مؤثریت کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔


انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل شدید تقسیم کا شکار ہے، تاہم پاکستان نے کونسل میں مثبت پیش رفت کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سلامتی کونسل میں کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں بھی مثبت کردار ادا کیا۔


گوتیرس نے سلامتی کونسل میں افریقی نمائندگی کے کم ہونے کے مسئلے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔


اسحاق ڈار نے بتایا کہ ملاقات میں سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور ایران امریکا تنازع، حوثیوں اور باب المندب سمیت متعدد مسائل عالمی امن و سلامتی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔


نائب وزیراعظم نے کہا کہ بہت سے عالمی اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں،تاہم اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد کا ہے،انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اس کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ قراردادوں کی موجودگی کے باوجود ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔


اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد کے لیے مؤثر میکنزم بھی ہونا چاہیے۔ اگر کسی قرارداد پر عمل درآمد نہ ہو تو اس کے لیے مؤثر جواب دہی اور سزا و جزا کا طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے۔

ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ 28 فروری کے بعد خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے فوری بعد پاکستان نے حملوں کی مذمت کی۔


اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کرکے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

انتونیو گوتیرس نے پاکستان کا دوبارہ دورہ کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً دس برس تک اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور اس دوران پاکستان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق قائم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور عالمی مباحثوں میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گوتیرس نے افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت اور منظم وطن واپسی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

گوتیرس نے پاکستان کے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوجی اور اہلکار فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے پاکستانی مردوں اور خواتین نے دنیا کے مختلف حصوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بہادری سے خدمات انجام دی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، اس کے باوجود عالمی امن اور سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے پاکستان کے ساتھ ان کا گزشتہ دورہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ہوا تھا۔


انہوں نےپاکستان کیجانب سے موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کے ازالے کے لیے Loss and Damage Fund کے قیام میں اہم کردار کا ذکر کیا، کہا کہ دنیا کو ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخر اج میں کمی لانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اقوام متحدہ اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

اپنے عہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد مستقبل کے حوالے سے سوال پر انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں،جب وہ سیکرٹری جنرل کا منصب چھوڑیں گے تو ایک عالمی شہری کی حیثیت سے اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔


انہوں نے کہا کہ دنیا کو عالمی مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے ادارے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عالمی امن، استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، مکالمہ اور سفارت کاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔


پریس کانفرنس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے سفارتی کردار، کثیرالجہتی نظام سے وابستگی اور عالمی امن کے لیے اس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔