پنجاب میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ

محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں امن و امان کی ترجیحی صورتحال، عوامی سکون اور جان و مال کو لاحق شدید سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں عوامی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت احکامات جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق 15 اکتوبر تک بلا تعطل جاری رہے گا۔
ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پنجاب بھر میں ہر قسم کے سیاسی و مذ ہبی اجتماعات، ریلیوں، دھرنوں اور مظاہروں پر مکمل پابندی رہے گی۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحہ و ہتھیار لے جانے، ان کی نمائش اور غیر قانونی اجتماعات کی ترغیب یا لوگوں کو اکسانے پر بھی سخت قدغن عائد کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے مو صول ہونے والی خفیہ اطلاعات کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں عوامی اجتماعات، ریلیوں اور دھرنوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اس تناظر میں ایسے اجتماعات دہشتگردوں کے لیے آسان ہدف (سافٹ ٹارگٹ) بن سکتے ہیں سیکیورٹی اداروں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور فوری حفاظتی تدابیر کے پیشِ نظر حکومت پنجاب سے معاونت کی درخواست کی تھی، جس پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے وضاحت کی ہے کہ عوامی سہولت اور مذہبی فرائض کی ادائیگی کے مدِنظردینی و مذہبی رسومات ( مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں باقاعدہ عبادات، نمازِ جنازہ اور تدفین) خاندانی تقریبات( شادی بیاہ اور طے شدہ قانونی خاندانی تقاریب)،حکومتی و عدالتی امور( عدالتیں، تمام سرکاری دفاتر اور باضابطہ حکومتی اجازت سے ہونے والی تقریبات) کواس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہو گا،علاوہ ازیں سیکیورٹی اہلکار( ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار )اس پابندی سے آزاد ہوں گے-
ترجمان محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ صوبے کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت قانون جوئی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں





