Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آرکٹک میں نئے جزیرے نمودار ہونے کا امکان


روس میں ماہرین نے کہا ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے اور پیچھے ہٹنے سے ملک کے آرکٹک خطے میں نئے جزیرے نمودار ہوسکتے ہیں، جس سے روس کے رقبے میں معمولی اضافہ ممکن ہے۔


روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کے مطابق سینٹ پیٹرز برگ کی ایڈمرل مکاروف اسٹیٹ یونیورسٹی کے آرکٹک اسٹڈیز کے سربراہ آندرے لیونوف نے بتایا کہ نوایا زیملیا اور فرانز جوزف لینڈ کے علاقے خاص طور پر ماہرین کی توجہ کا مرکز ہیں، جہاں گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے نئی زمینی سطح سامنے آنے کا امکان ہے, ان علاقوں میں نئے جزائر بننے کی توقع ہے، تاہم اس پیش گوئی کے بارے میں 100 فیصد یقین نہیں کیا جاسکتا۔


ماہر کے مطابق ماضی میں بھی آرکٹک میں نئے جزیرے سامنے آچکے ہیں، تاہم نئی بننے والی زمینی سطح ہمیشہ مستقل جزیرہ نہیں رہتی۔ بعض اوقات برفانی تودے یا گلیشیئر کے پیچھے ہٹنے سے جزیرہ وجود میں آتا ہے، لیکن چند برس بعد ریت کا راستہ بننے سے وہ دوبارہ خشکی سے مل جاتا ہے اور جزیرے کے بجائے جزیرہ نما بن جاتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ فرانز جوزف لینڈ میں 1990 کی دہائی میں ایک زمینی حصے کو مسیاتسیف کیپ کا نام دیا گیا تھا، جسے بعد میں مسیاتسیف جزیرہ کہا جانے لگا، تاہم 2024 میں یہ مکمل طور پر غائب ہوگیا۔ ماہر کے مطابق وہ دراصل برف کا ایک بڑا حصہ تھا جو بعد میں پگھل گیا۔


https://x.com/canaltn8/status/2102374420459213118?s=20


رپورٹ کے مطابق آرکٹک خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے قابل رسائی ہورہا ہے۔ روس اس علاقے میں اقتصادی سرگرمیوں، معدنی وسائل اور بحری تجارت کے امکانات کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے آئس بریکر بیڑے میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔


روسی حکام کے مطابق شمالی بحری راستہ مستقبل میں عالمی تجارت کے لیے اہم ہوسکتا ہے، جبکہ آرکٹک روس کے لیے فوجی اور تزویراتی اعتبار سے بھی اہم خطہ ہے-

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL