Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

یورپی یونین میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

social-media-platforms-1

یورپی یونین نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی اور 15 سال کی عمر تک محدود و والدین کی نگرانی میں رسائی دینے کا منصوبہ پیش کردیا۔


یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے بدھ کو یورپی پارلیمنٹ سے سالانہ خطاب کے دوران یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے لیے سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ ضوابط کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ بچوں کی مختلف عمروں کے لیے تحفظ کی مختلف سطحیں مقرر کی جائیں گی۔


مجوزہ منصوبے کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ 13 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے والدین یا سرپرست کی جانب سے بنائے گئے اور ان کی نگرانی میں چلنے والے محدود اکاؤنٹس کی اجازت ہوگی،ا ن محد ود اکاؤنٹس میں سہولیات کم ہوں گی اور استعمال کا دورانیہ روزانہ ایک گھنٹے تک محدود رکھا جائے گا، 15 سے 18 سال کی عمر کے نوجو انوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر محفوظ ڈیزائن یقینی بنانا لازمی قرار دیا جائے گا۔


ارُسولا فان ڈیر لاین نے کہا کہ بچوں کی عمریں مختلف حساسیت رکھتی ہیں، اس لیے ہر عمر کے لیے تحفظ کی سطح بھی مختلف ہونی چاہیے ، یورپ اپنے قوانین خود طے کرے گا اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ان قوانین پر عمل کرنا ہوگا، مجوزہ قانون کے تحت بچوں کو متاثر کر نے والی نشہ آور ڈیزائن خصوصیات، جن میں مسلسل اسکرولنگ بھی شامل ہے، پر پابندی عائد کی جائے گی۔ قوانین کی خلاف ور زی کرنے والے پلیٹ فارمز پر سالانہ کاروباری آمدن کے 6 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔


یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ معاملہ یہ نہیں کہ نابالغ سوشل میڈیا تک کیسے رسائی حاصل کرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو نابا لغوں تک کب اور کس طرح رسائی دی جائے،ا نہوں نے اپنے خطاب میں بیلجیئم کی 14 سالہ لڑکی اولیا کا بھی ذکر کیا، جو ایک ماہ قبل مبینہ طور پر آن لائن ہراسانی کے بعد خودکشی کر کے ہلاک ہوگئی تھی۔ فان ڈیر لاین نے لڑکی کی والدہ کے بیان کا حوالہ بھی دیا۔


مجوزہ قانون میں آن لائن گیمز اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس پر بھی پابندیاں عائد کیے جانے کی توقع ہے یورپی کمیشن کی ٹیکنالوجی امور کی سربراہ ہینا ویرکونن کے ساتھ ارسولا فان ڈیر لاین جمعرات کو یورپی پارلیمنٹ میں مجوزہ ‘کڈز ایکٹ’ باضابطہ طور پر پیش کریں گی۔


یورپی یونین کے رکن ممالک فرانس، ڈنمارک اور یونان سمیت کئی ممالک پہلے ہی بچوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کے لیے مزید اقداما ت کا مطالبہ کرچکے ہیں،تاہم ڈیجیٹل اور بچوں کے حقوق کی تنظیموں نےمجوزہ پابندیوں کےعملی نفاذ اورعمر کی تصدیق کے نظام پر تحفظا ت کا اظہار کیا ہے۔ یورپی صارفین کی تنظیم بیوک کے آگسٹن رینا نے کہا کہ عمر کی تصدیق تمام مسائل کا مکمل حل نہیں اور اس سے رازدا ر ی اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔


مجوزہ قانون فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا اسے قانون بننے کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ کے درمیان حتمی مسو دے پر مذاکرات مکمل کرنا ہوں گے، جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔


واضح رہے کہ 10 دسمبر 2025 کو آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا۔ اس روز جب آسٹریلوی بچوں نے اپنے فون پر سوشل میڈیا ایپس کھولیں تو انہیں پلیٹ فارمز کی جانب سے نوٹیفکیشن ملے کہ وہ آسٹریلوی قانون کے تحت سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکتے۔


آسٹریلوی حکومت کے مطابق اس پابندی سے سوشل میڈیا کے ایسے ’ڈیزائن فیچرز‘ کے منفی اثرات کم ہوں گے جو نوجوانوں کو سکرین پر زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دیتے ہیں اور انہیں ایسا مواد دکھاتے ہیں جو ان کی صحت اور ذہنی و جسمانی بہبود کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔


آسٹریلیا کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی اور دیگر اقدامات پر غور و فکر شروع کر دی تھی۔ اب تک آسٹریلیا کے علاوہ برازیل، چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور ویت نام اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔


ان میں سے زیادہ تر ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ برازیل اور ویت نام میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے جبکہ چین میں عمر کے مختلف گروپس کے لیے الگ الگ پابندیاں عائد کی گئی ہیں،یورپی یونین جمعرات کو 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز، اے آئی چیٹ بوٹس اور آن لائن گیمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کرنے جا رہی ہے-