Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

افسانہ،بھیڑیا ،تحریر:تمثیلہ لطیف

نقطہ نظر

دسمبر کا مہینہ تھا، رات آٹھ بجے کا وقت چوھدری احمد خان سونے کی تیاری کر رہا تھا جب اُسے کال آئی اور وہ افراتفری میں اٹھ کھڑا ہوا ۔ بیوی اور نوجواں بیٹی زینب پوچھتے رہ گئے اور وہ یہ جا وہ جا ۔ دو گھنٹے بعد اُس کی واپسی ہوئی تو ایک نومولود بچی اُس کے ہاتھوں میں تھی جو سردی سے ٹھٹھر رہی تھی ۔ بچی اُس نے زینب کے حوالے کی تاکہ اُس کا مناسب خیال کرے۔ یہ پہلا موقع تھا جب زینب کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھرے تھے ۔ اُس نے بچی کو اٹھایا اور چپ چاپ کمرے سے نکل گئی

احمد خان نوجوانی میں بہت حسین و جمیل تھا۔ وہ اپنے والدین کا پہلا بیٹا تھا اس لیے ناز و نعم سے پلا۔ وہ تین بھائی اور دو بہنیں تھے۔ وہ ایک با اثر سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتا تھا اس لیے. جہاں اُس میں جوا کھیلنے جیسا عیب تھا وہاں اُس نے حویلی میں کام کرنے والی کسی نوکرانی کو بھی اپنے حسن کی خیرات بانٹنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ نوکرانیوں کے لیے بھی یہ نعمت غیر مترقبہ تھی اس لیے وہ خوش و خرم تھیں ایسے ہی ایک نوکرانی جو شادی شدہ تھی حاملہ ہوئی اور اس کا پہلا بیٹا جوں جوں بڑا ہوتا گیا سیاہ فام والدین کے بالکل بر عکس سردار احمد خان کی رنگت کے ساتھ ساتھ صورت بھی لیتا چلا گیا احمد خان کرکٹ کا لاجواب کھلاڑی تھا۔ اس کی بد قسمتی تھی کہ وہ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔ سیاست کے کھلاڑیوں نے یہاں علم کی روشنی اس لیے نہیں پھیلنے دی تاکہ غریبوں کے بچے پڑھ لکھ کر علاقے سے باہر نہ چلے جائیں کہ پھر ان کی حویلیوں میں کام کون کرے گا ۔ احمد خان نے ایف اے تو کر لیا لیکن مزید تعلیم کی طرف اس کی توجہ نہ تھی چنانچہ وہ آزاد خیال آدمی بے کار ہی رہا کہ اُس کے پرکھوں کی زمین بہت زیادہ تھی ۔ بیالیس سال کی عمر میں اُس نے شادی کی کچھ عرصہ بعد اُسے شوگر کی بیماری ہوگئی ۔ اُس نے بہت اچھا گھر بنایا۔ اللہ نے اُسے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تو اچانک وہ تبدیل ہو گیا ۔ اس نے غریبوں کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دی۔ انہی دنوں کوئی سنگ دل اُس کے گاؤں میں نومولود بچی چھوڑ گیا تو اس نے اس کی کفالت کا ذمہ اٹھایا ۔ یہ بچی زینب تھی ۔ چوہدری احمد خان کی بیوی بھی بہت نیک سیرت اور نرم دل عورت تھی۔ اُس نے خاوند کا بھر پور ساتھ دیا۔ زینب بہت خوب صورت بھی تھی ۔ چودھری احمد نے ولدیت میں اپنا نام اُسے دیا۔ جب وہ ذرا بڑی ہوئی تو اُسے شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کرایا گیا ، زینب کا ذہن اچھا تھا۔ وہ جو پڑھتی اُسے فوراً یاد ہو جاتا۔ یہ چار سال بعد کا واقعہ ہے۔ اُس وقت زینب تیسری جماعت میں تھی ۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی جب اُس کی چچی کچھ عورتوں کے ساتھ اس کی حویلی میں آئی ۔ اُن میں سے ایک عورت نے اس کی چچی سے پوچھا۔ یہ لڑکی کون ہے۔ اُس کی چچی نے زہرا آلود لہجے میں جواب دیا " یہ وہی ہے جسے چودھری صاحب لے آئے تھے کوئی پھینک گیا تھا۔ یہ الفاظ نہیں تھے بم کا گولا تھا جو زینب کی طرف پھینکا گیا اور اُس کے جسم کو چیتھڑوں میں تبدیل کر گیا ۔ وہ گم سم گھڑی رہ گئی کھیل کہیں بہت پیچھے رہ گیا ۔ اُس کی سہیلیاں اسے بلاتی رہیں لیکن وہ حویلی کے ایک طرف جاکے بیٹھ گئی جب وہ عورتیں چلی گئیں تو اس نے روتے ہوئے ماں سے پوچھا: "امی کیا میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں ؟ " ماں نے حیرت سے اپنی کم سن بیٹی کی طرف دیکھا : پھر اُسے جواب دیا : " ہونا " زینب روتی رہی ہچکیوں کے وقفے کے دوران اس کی آواز ابھری :" پھر چچی نے کیوں کہا کہ میں ابو کو کہیں سے ملی تھی.

ماں چکرا گئی۔ اُسے اسی بات کا ڈر تھا۔ وہ جانتی تھی کہ دیورانی حسد کی آگ میں جل رہی ہے وہ ضرور کوئی نہ کوئی زہر گھولے گی اور وہی ہوا بہت ٹھہرے لیکن پر سکون لہجے میں ماں زینب سے مخاطب ہوئی " کیا تمھیں ہماری جانب سے ماں باپ کا پیار نہیں ملا ؟ " زینب نے روتے ہوئے لہجے میں کہا "ملا" تو پھر تم اس بات کو بھول جاؤ تم ہماری بیٹی ہو اور یہی حقیقت ہے ۔ زینب ساری بات سمجھ گئی اُسے اب چچی سے بچنا تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ زینب اب چودہ برس کی خوبرو لڑکی تھی ۔ اُس کا باپ ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور لے آیا تھا ۔ جن کی پرورش کی ذمہ داری اب زینب پر تھی ۔ وہ گھر کا سارا کام کرتی ، کوئی نوکرانی وہاں نہ ٹھہرتی کیونکہ چوہدری احمد غصے کا بہت تیز تھا۔ وہ رفاعی کاموں میں سب سے آگے تھا۔ لوگ اُس کی نیک نامی کے گیت گاتے انہی دنوں زینب کی امی کو ننہیال جانا پڑا ۔ اتفاقاً چودھری کی طبیعت خراب ہوگئی تو زینب کو گھر رُکنا پڑا۔ اس نے سرِ شام کھانا تیار کیا اور بچوں کو کھلادیا۔ ابو کو کھانا دیا اور خود کھا کہ بستر میں گھس گئی ۔ یہ نومبر کا مہینہ تھا ۔ بارش ہو رہی تھی اِس لیے اُسے جلد ہی نیند آگئی وہ گہری نیند میں تھی جب اُسے کسی کے پاس ہونے کا احساس ہوا۔ اُس کی آنکھ کھل گئی اُس نے دیکھا اُس کا والد اُس کے اوپر تھا۔ وہ اُس کی قمیص کے اندر ہاتھ ڈال رہا تھا۔ اس کے منہ سے مارے وحشت کے نہ" ابو " ۔ چودھری نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ اُس کا منہ ہوس اور غصے کے مارے بگڑا ہوا تھا ۔ "خبردار جو بولی تو " زینب کی رہی سہی کسر خوف اور باپ کے رویے نے ختم کر دی تھی ۔ اُس نے ہمت ہار دی ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد درد اور اذیت نے اُسے چیخیں مارنے پر مجبور کر دیا ۔ حوا کی بیٹی سسکتی رہی لیکن چودھری کو زرا رحم نہ آیا ہے چوہدری ہوس کے گھوڑے پر سوار ہوا اور تازہ تازہ تیار ہوتی فصل کے خوشوں کو روندتا بڑھتا چلا گیا ۔ زینب کرچی کرچی ہو گئی۔