تنخواہ دار طبقہ: ٹیکس کا سب سے آسان ہدف ،تحریر:سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
پاکستان میں ٹیکس کا ذکر آتے ہی عموماً حکومت کی آمدن، ایف بی آر کے اہداف اور نئے ٹیکسوں کی بات شروع ہو جاتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ کن طبقات پر پڑ رہا ہے اور کیوں؟
جولائی اور اگست 2026 کے اعداد و شمار ایک اہم تصویر سامنے لاتے ہیں۔ دستیاب ایف بی آر اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں تنخواہ دار افراد سے تقریباً 91 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں وصول ہونے والے 84.7 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 7.5 فیصد زیادہ ہے۔
اب ذرا اس کا دوسرے شعبوں سے موازنہ کیجیے۔ اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سے تقریباً 28 ارب روپے جبکہ ریٹیل اور ہول سیل شعبوں سے مجموعی طور پر تقریباً 12 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا۔ یعنی ان اعداد کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سے تقریباً 225 فیصد زیادہ اور ریٹیل و ہول سیل کے مجموعی ٹیکس سے تقریباً 658 فیصد زیادہ بنتا ہے۔
یہ اعداد کسی ایک طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے پالیسی سوال کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔
تنخواہ دار شخص ریاستی نظام میں سب سے زیادہ دستاویزی معیشت کا حصہ ہوتا ہے۔ اس کی آمدن ریکارڈ پر ہوتی ہے اور اکثر ٹیکس تنخواہ ملنے سے پہلے ہی منہا کر لیا جاتا ہے۔ یوں اس طبقے کے لیے ٹیکس سے بچ نکلنے کی گنجائش نسبتاً محدود رہتی ہے۔
دوسری طرف معیشت کے وہ شعبے جہاں آمدن اور کاروباری سرگرمیوں کی مکمل دستاویز بندی نہیں، وہاں ٹیکس وصولی ایک مختلف نوعیت کا چیلنج بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اصل بحث صرف ٹیکس کی شرح بڑھانے کی نہیں بلکہ ٹیکس بیس وسیع کرنے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس قوانین پر یکساں عمل درآمد کی ہونی چاہیے۔
ایف بی آر نے جولائی اور اگست 2026 میں مجموعی طور پر تقریباً 1.722 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا، جبکہ دو ماہ کا ہدف تقریباً 1.710 ٹریلین روپے تھا۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ محصولات کی وصولی ریاستی مالیات کے لیے کتنی اہم ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس آمدن میں مختلف معاشی طبقات کا حصہ کس تناسب سے ہونا چاہیے۔
ایک مضبوط ٹیکس نظام وہی ہوتا ہے جس میں قانون کی پابندی کرنے والا شہری خود کو غیر معمولی دباؤ میں محسوس نہ کرے اور ٹیکس سے باہر رہنے والی معاشی سرگرمیاں بھی بتدریج دستاویزی دائرے میں آئیں۔
پاکستان کو زیادہ ٹیکس ضرور چاہیے، لیکن اس سے پہلے ایک ایسا نظام بھی چاہیے جس پر شہری اعتماد کر سکیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست کتنا ٹیکس جمع کرتی ہے؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ٹیکس کون دیتا ہے، کون نہیں دیتا، اور کیوں نہیں دیتا؟
مزید پڑھیں





