افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد طالبان نے بگرام جیل سے ہزاروں دہشتگرد رہا کیے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر ایک بار پھر سابق صدر جو بائیڈن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انخلا کی ناکام حکمتِ عملی نے طالبان کو بگرام جیل سے ہزاروں دہشتگرد اور خطرناک جرائم پیشہ افراد کو رہا کرنے کا موقع دیا۔
ٹرمپ نے کابل ایئرپورٹ پر 2021 میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں افغانستان سے امریکی انخلا کو امریکی تاریخ کی بدترین ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا۔
امریکی صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انخلا کے دوران امریکی فوجیوں کو مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ اس صورتحال نے طالبان کو بگرام جیل سمیت اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھالنے کا موقع دیا, بگرام جیل کے دروازے کھولے جانے کے بعد ہزاروں قیدی آزاد ہوگئے، جن میں طالبان، القاعدہ اور داعش کے ارکان بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کابل ایئرپورٹ حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کیں اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی, وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد ان کی انتظامیہ نے حملے کے مرکزی منصوبہ ساز کو گرفتار کرکے اس معاملے میں اپنا وعدہ پورا کیا۔
26 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ کے قریب خودکش دھماکا ہوا تھا، جس کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔ حملے میں 13 ام ریکی فوجیوں سمیت 160 سے زائد افغان شہری ہلاک ہوئے تھے,یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب افغانستان سے امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران ہزاروں افغان اور غیر ملکی شہری کابل ایئرپورٹ کے ذریعے ملک سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بگرام ایئر بیس افغانستان میں کئی برس تک امریکی فوجی اور انٹیلی جنس کارروائیوں کا مرکز رہا، تاہم امریکی افواج نے جولائی 2021 میں اس اڈے کا کنٹرول افغان فورسز کے حوالے کردیا تھا,بعد ازاں اگست 2021 میں طالبان نے کابل سمیت افغانستان کے بیشتر حصوں پر تیزی سے قبضہ کرلیا اور امریکی انخلا مکمل ہوگیا۔
مزید پڑھیں





