امریکا سمیت اتحادی افواج کا عراق سے مکمل انخلا، یکم اکتوبر یومِ خودمختاری قرار

ایک دہائی سے زائد عرصے بعد عراق میں امریکا کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد اپنا مشن مکمل کر کے ملک سے انخلا کر رہا ہے، جو آج یعنی بدھ کے روز مکمل کرلیا جائے گا جبکہ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اعلان کیا ہے کہ اتحادی افواج کے انخلا کے اگلے روز یکم اکتوبر کو یومِ خودمختاری کے طور پر منایا جائے گا۔
اتحادی افواج نے 2014 میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے کارروائیاں شروع کی تھیں , داعش نے اس وقت دونوں ممالک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا تھا اور بڑے پیمانے پر قتل عام اور دیگر مظالم کیے تھے۔
عراق میں داعش کو 2017 جبکہ شام میں 2019 میں شکست دے دی گئی، تاہم اتحادی افواج نے تنظیم کے باقی ماندہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں اور سیکیورٹی تعاون کے لیے اپنی موجودگی برقرار رکھی۔
بغداد اور واشنگٹن نے 2024 میں اتحادی مشن کو مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کیا، جس کے بعد اتحادی فوجیوں نے ملک بھر کے مختلف اڈوں سے بتدریج انخلا شروع کردیا,اتحادی افواج نے اپنی موجودگی بالآ خر عراق کے خودمختار کردستان کے شمالی علاقے تک محدود کردی تھی، جہاں سے آخری فوجیوں کا ا نخلا بدھ کو مکمل ہونے کا شیڈول ہے۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے ملک میں موجود طاقتور مسلح دھڑوں کے پاس ہتھیار برقرار رکھنے کا ایک اہم جواز ختم ہوجائے گا,حکومت طویل عرصے سے ریاستی اداروں کے پاس ہتھیاروں کا مکمل اختیار یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اعلان کیا ہے کہ اتحادی افواج کے انخلا کے اگلے روز یکم اکتوبر کو یومِ خودمختاری کے طور پر منایا جائے گا۔
https://x.com/IranPress_eng/status/2105140111960690847?s=20
ایگزیکٹو، قانون ساز اور عدالتی شعبوں کے سربراہان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ دن عراق کی خود مختاری کے سفر کی تکمیل اور ریاستی اداروں کے کردار کو مضبوط بنانے کی علامت ہوگا,حکومت نے ریاستی اختیار سے باہر موجود ہتھیاروں کے مسئلے کو بھی حل کرنے پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم الزیدی نے ریاستی اداروں کی بالادستی قائم کرنے اور مسلح دھڑوں سے ہتھیار ریاست کے حو الے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
حکومت نے ابتدا میں مسلح گروہوں کو غیر مسلح ہونے کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم ہتھیاروں کے انتظام اور انہیں ریاستی نظام میں لانے سے متعلق مذاکرات جاری رہنے کے باعث یہ حتمی مدت واپس لے لی گئی۔
متعدد طاقتور گروہوں کے غیر مسلح ہونے سے انکار کے بعد سینئر سیاست دان بھی مذاکرات میں شامل ہو گئے ہیں اور کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے,مسلح دھڑوں نے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ امریکی سیاسی اور اقتصادی مداخلت کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
طاقتور گروپ کتائب حزب اللہ نے اتحادی افواج کے انخلا کو مکمل خودمختاری کی جانب قدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ عوام کے مفاد میں کام نہ کرنے والی حکومت کو مختلف ذرائع سے اقتدار سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
داعش کے خلاف جنگ کے دوران امریکا کی قیادت میں اتحاد اور عراق کے بعض مسلح گروہ ایک مشترکہ دشمن کے خلاف لڑتے رہے، تاہم داعش کی شکست کے بعد اتحادی افواج کی موجودگی ان گروہوں اور عر اقی حکام کے درمیان کشیدگی کا اہم سبب بن گئی۔
مسلح گروہوں نے امریکی فوجیوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کے جواب میں امریکا نے مختلف مواقع پر کارروائیاں کیں، جن میں متعدد مسلح دھڑوں کے کمانڈر بھی مارے گئے۔
مزید پڑھیں





