خیبرپختونخوا حکومت بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پیشہ افراد کی سہولتکاری کر رہی ہے،اختیار ولی خان

اسلام آباد میں ممبر قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کے پمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اطلاعات برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کی لاپرواہی تشویشناک ہے، خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ امن و امان کا گراف مسلسل گر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ادوار کے اعدادوشمار کے مطابق پولیس شہداء کی تعداد دوگنا ہوئی، زخمیوں کی تعداد میں 108 فیصد اور دہشتگردی کے حملوں میں 33.9 فیصد اضافہ ہوا ہے 2025 میں 63 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 2026 میں اب تک یہ تعداد 122 ہوچکی ہے مختلف اداروں سے اعدادوشمار کی تصدیق کرائی گئی ہے۔ اسمگلنگ اور منشیات کے سوداگروں کے درمیان کٹھ جوڑ ہےجبکہ شہدا کے جنازو ں میں عدم شرکت ریاست سے لاتعلقی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پیشہ افراد کی سہولتکاری کر رہی ہے، خیبرپختونخوا میں مثالی حکومت اور مثالی پولیس کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم زمینی حقائق مختلف ہیں۔
جبکہ ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے عوام کی ترجمانی کے لیے آئے ہیں سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد پہلی اپیکس کمیٹی کا ا جلاس ہوا، جبکہ ان کے دور میں اب تک انہوں نے صرف ایک اجلاس کی صدارت کی، اس عرصے کے دوران اپیکس کمیٹی کے 4 اجلاس ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 18 ستمبر کو پولیس لائن پر حملے میں 20 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے، جبکہ سہیل آفریدی کے دور میں پولیس پر یہ 10واں حملہ تھا۔ اس دوران وزیراعلیٰ لاہور میں ٹک ٹاک بناتے رہے جب کہ خیبرپختونخوا کے لوگ مر رہے تھے، وزیراعلیٰ صرف زخمیوں کو دیکھنے گئے، شہدا کے گھروں میں نہیں گئے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ان کے گھروں میں گئے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس کے بعد اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا اعلان کیا گیا اور بیان دیا گیا کہ کسی کے باپ میں بھی جرأت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں خیبرپختونخوا پولیس کا کوئی ثانی نہیں، لیکن صوبائی حکومت نے نیا پولیس ایکٹ نافذ کردیا، جس پر سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ یہ ایکٹ کیوں منظور کیا گیا یہ ایکٹ پولیس کا مورال ڈاؤن کرنے اور پولیس میں سیاسی مداخلت کے لیے لایا گیا ہے، حالانکہ پولیس کو غیر سیاسی رہ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں پولیس کو ڈی مور الائز کرنا کیوں ضروری ہے؟
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے ان بزدلانہ احکامات کے سامنے سر نہیں ٹیکا اور آج بھی عوام کی حفاظت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایکٹ کا معاملہ کسی صورت ممکن نہیں، اسے گورنر اور آئینی عدالت کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا، ہیروئن، چرس، افیون اور آئس کہاں سے آ رہی ہے، پشاور کے بازاروں سے یہ منشیات ہمارے بچوں کے ہاتھوں تک پہنچ رہی ہیں، یہ کس قسم کی حکو مت ہے؟ انہوں نے کہا کہ منشیات کے انسداد کا ہدف بھی پورا نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں





