کوہاٹ پولیس لائنز دھماکہ: بم ڈسپوزل یونٹ کی تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی

کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کی بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ مکمل کر کے سینٹرل پولیس آفس کو ارسال کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 18 ستمبر کو کوہاٹ کے گنجان آباد علاقے ہنگو روڈ پر واقع اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ جاری تھی کہ بارود سےبھری گاڑی کےذریعےحملہ کیا گیادھماکے کے فوری بعد مسلح شدت پسندوں نےپولیس لائنز میں داخل ہوکر اسپیشل برانچ بلاک میں مضبو ط مورچے قائم کرلیے حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کردی آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسزاور شدت پسندوں کےدرمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے گرینیڈ حملے میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی بھی زخمی ہوئے، تاہم ابتدائی طبی امداد کے بعد وہ دوبارہ فرنٹ لائن پر پہنچے اور آپریشن کی قیا دت کرتے رہے۔
بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 869 کلوگرام سے زائد انتہائی طاقتور دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ جائے وقوعہ پر 6.6 فٹ بائی 11 فٹ کا گڑھا بنا، جس کی گہرائی 4.6 فٹ تھی، جب کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ابتدائی شناخت بھی کرلی گئی ہے اسپیشل برانچ کی عما رت کےاندر سےبغیر پھٹا ہوا دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا،جبکہ گراؤنڈ فلور سے 2 آئی ای ڈیز اور پہلی منزل پر موجود ایک خودکش جیکٹ سے مزید 4 آئی ای ڈیز برآمد کی گئیں۔
اولڈ پولیس لائنز کوہاٹ انتہائی اہم اور حساس علاقہ ہے، جہاں سی ٹی ڈی کے دفاتر، اہم پولیس اسٹیشنز اور ملٹری کینٹ کی جانب جانے والے راستے موجود ہیں،واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی کلیئرنس مکمل کرلی ہے اور پشاور، کوہاٹ روڈ کو معمول کی آمدورفت کے لیے بحال کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ حملے کے تمام پہلوؤں کی سائنسی اور فنی بنیادوں پر تحقیقات بھی جاری ہیں۔





