لاہور:زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا

لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون ڈیانا نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ خاتون کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند کیا گیا۔
عدالتی بیان کے مطابق ڈیانا نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی اور پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آگئی اس کا اسکردو جانے کا ارادہ تھا، تاہم اکیلی ہونے کے باعث اس نے لاہور میں اپنی دوستوں نمرہ اور مسکان سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔
ڈیانا کے مطابق وہ رات تقریباً 11 بجے اکیلی ایک کیفے گئی جہاں مسکان اس سے ملی بعد ازاں دونوں بحریہ ٹاؤن گئیں، خاتون نے بتایا کہ رات تقریباً2 بجے ایک سفید گاڑی وہاں پہنچی، جس میں احمد اور محسن نامی دو افراد موجود تھے۔
بیان کے مطابق وہ لوگ ایک اپارٹمنٹ پہنچے جہاں بعد میں علی زین سمیت مزید افراد بھی آئے ڈیانا نے الزام عائد کیا کہ نمرہ اور محسن نے الگ کمرے میں بات کی، جبکہ نمرہ نے محسن سے رقم بھی لی اور اسے بتایا گیا کہ یہ رقم ایک تقریب کے لیے ہے۔
خاتون کے مطابق اس نے پیسوں اور شراب لینے سے انکار کیا، جس کے بعد محسن نے اسے چھونے کی کوشش کی اور ایک کمرے میں بند کردیا ڈیانا کا کہنا ہے کہ جب اس نے اپنی دوستوں کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ وہ وہاں سے جا چکی ہیں اور اسے بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
https://x.com/shehrozazhar1/status/2104810783683252679?s=20
ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ اس نے خود 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش کی تاکہ اسے وہاں سے جانے دیا جائے، تاہم اس کے مطابق علی زین نے اسے دھمکایا اور بلیک میل کیا خاتون نے الزام عائد کیا کہ محسن، احمد اور علی زین نے اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔
بعد ازاں ڈیانا کے مطابق اسے ایک گاڑی میں بٹھایا گیا اس کا کہنا ہے کہ اس کے بیگ میں تقریباً دو لاکھ روپے، ایک آئی فون اور ایک ریڈمی موبائل فون موجود تھا، جو اسے واپس نہیں کیا گیا۔
خاتون کے مطابق ملزمان نے پولیس سے شکایت نہ کرنے کے بدلے بیگ واپس کرنے کی بات کی، تاہم جب اس نے پولیس کو اطلاع دینےکاکہا تو اسے دھمکیاں دی گئیں ڈیانا کے بیان کے مطابق بعد ازاں اسے گاڑ ی سے باہر دھکا دیا گیا، جہاں موجود افراد نے اس کی مدد کی اور پولیس کو اطلاع دی۔
دوسری جانب تفتیشی ذرائع کے مطابق کیس میں شامل ایک مشتبہ شخص احمد تنویر کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور اپارٹمنٹ اسی سے منسلک ہیں، تفتیشی ذرائع کے مطابق احمد تنویر ایک کاروباری شخصیت کا بیٹا ہے جس کا تعلق دواسازی کے شعبے سے ہے۔
ذرائع کے مطابق کیس میں شامل ایک اور مشتبہ شخص محسن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بطور متاثر کن شخصیت سرگرم ہے، جبکہ ایک اور شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ پولیس واقعے میں ملوث تمام افراد کے کردار اور شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس نے شکایت پر مقدمہ درج کرکے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے، ملزم علی کو چشتیاں سے حر است میں لیا گیا ۔ اس کیس کا محسن نامی ملزم پہلے سے گرفتار ہے جبکہ ایک اور ملزم پولیس کی حراست میں ہے،مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونےوالی گاڑی ب تحویل میں لے لی گئی ہے پولیس واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ڈیٹا، افراد کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
اس مقدمے میں بعض اہم پہلو ابھی تحقیقات طلب ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ ڈیانا پاکستان کس مقصد سے آئی تھی، وہ یہاں کتنے عرصے سے موجود تھی، اسے اردو زبان کہاں سے اور کس حد تک آتی تھی، اور اگر اس کا دورہ کسی کاروباری یا پیشہ ورانہ سرگرمی سے متعلق تھا تو اس کی نوعیت کیا تھی۔
واضح رہے کہ نامزد افراد کے خلاف عائد الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں





