ہماری زندگی میں مختلف مزاج، خیالات اور رویوں کے حامل لوگ شامل ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں سکون، محبت اور حوصلہ لے کر آتے ہیں، جبکہ کچھ کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد ذہنی تھکن، بے چینی اور مایوسی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے آج کل ''Toxic People'' (زہریلے لوگ) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ایک عام نفسیاتی اور سماجی اصطلاح ہے، جو ان افراد کے رویوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو مسلسل دوسروں کی ذہنی صحت، جذباتی سکون یا خود اعتمادی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر غصے والے، اختلاف کرنے والے یا مشکل وقت سے گزرنے والے انسان کو زہریلا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی شخص کے رویے کو سمجھنے کے لیے اس کے مستقل طرزِ عمل، حالات اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا چاہیے۔
زہریلے رویوں کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں۔ بعض لوگ ہر وقت دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، ان کی کامیابی سے ناخوش ہوتے ہیں اور انہیں کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ افراد دوسروں کی ذاتی باتوں کو راز نہیں رکھتے، بلکہ انہیں گپ شپ یا بدنامی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ہر معاملے میں خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو احساسِ جرم میں مبتلا کر کے اپنی مرضی منوانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بعض لوگ جذباتی دباؤ، جھوٹ، دھمکی یا مسلسل الزام تراشی کے ذریعے تعلقات میں اپنی برتری قائم رکھتے ہیں۔
ایک اور نمایاں علامت یہ ہے کہ آپ کسی شخص کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد بار بار اپنی قدر و قیمت پر شک کرنے لگیں، ہر بات سوچ سمجھ کر کہنے پر مجبور ہوں یا اس کے ردِعمل سے غیر ضروری خوف محسوس کریں۔ تاہم، ایک آدھ واقعے کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے مسلسل رویوں اور ان کے اثرات کو سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
ان لوگوں سے محتاط کیسے رہا جائے؟
ہمارے معاشرے میں زہریلے رویوں کے حامل لوگوں سے بچنے کا پہلا طریقہ اپنی حدود (Boundaries) متعین کریں۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ طے کرے کہ دوسروں کو اس کے ساتھ کس انداز میں بات کرنی چاہیے اور کون سی باتیں اس کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ اگر کوئی شخص مسلسل توہین کرتا ہے تو خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے پُرسکون انداز میں اپنی ناراضی کا اظہار کرنا چاہیے۔
ہر شخص کو اپنی ذاتی معلومات، کمزوریوں اور رازوں تک مکمل رسائی نہ دی جائے۔ اعتماد وقت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اس لیے نئے تعلقات میں مناسب احتیاط ضروری ہے۔ ہر مسکراہٹ کو خلوص اور ہر دوستی کو وفاداری سمجھ لینا دانش مندی نہیں، بقول شاعر…… ؎ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
ایسے لوگوں سے کسی معاملے میں بحث سے گریز کریں۔ کچھ لوگ تنازعات پیدا کر کے دوسروں کو جذباتی ردِعمل پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں غصے کے بجائے تحمل، مختصر جواب اور مناسب فاصلہ اختیار کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ ہر الزام کا جواب دینا اور ہر غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں۔
زہریلے تعلقات سے نمٹتے ہوئے اپنی ذہنی اور جذباتی ضروریات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزاریں جو آپ کی عزت کرتے ہوں، آپ کی بات سنتے ہوں اور اختلاف کے باوجود مناسب رویہ اختیار کرتے ہوں۔ صحت مند تعلقات میں اعتماد، احترام، باہمی تعاون اور اپنی رائے رکھنے کی آزادی شامل ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص مسلسل ذہنی دباؤ، دھمکی، تذلیل یا جذباتی استحصال کا باعث بن رہا ہو تو اس سے فاصلہ بڑھانا ایک مناسب قدم ہو سکتا ہے۔ اگر تعلق بہت قریبی ہو، مثلاً شریکِ حیات، والدین یا دفتر کے ساتھی سے متعلق ہو، تو صورتِ حال کے مطابق کسی قابلِ اعتماد فرد، مشیر یا ماہر سے مدد لینا بھی فائدہ مند ہے۔
زندگی میں بعض اوقات ہم ایسے لوگوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں جو ہمارے لیے مناسب نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کمزور یا ناکام ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے تجربات سے سیکھیں، اپنی حدود کو پہچانیں اور آئندہ بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کریں۔
یاد رکھیں کہ کسی انسان کو ہمیشہ کے لیے معتبر ا قرار دینے کے بجائے اس کے رویے کو سمجھنا زیادہ تعمیری رویہ ہے۔ بعض لوگ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے بہتر بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ افراد بار بار نقصان دہ طرزِ عمل دہراتے ہیں۔ فیصلہ کرتے وقت الفاظ کے بجائے عملی رویوں کو اہمیت دینی چاہیے۔
آخرکار، زندگی کا مقصد ہر شخص کو خوش کرنا نہیں، بلکہ عزت، سکون اور صحت مند تعلقات کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک ضرور کرنا چاہیے، لیکن اپنی عزتِ نفس، ذہنی سکون اور ذاتی حدود کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ کامیاب زندگی وہی ہے جس میں ہم محبت بانٹنے کے ساتھ ساتھ دانش مندی سے لوگوں کا انتخاب بھی کرنا سیکھیں۔
مزید پڑھیں






