Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آخر ہماری منزل کیا ہے؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

نقطہ نظر
sajid ali shah

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، نہ دولت، نہ عہدہ، نہ شہرت اور نہ ہی دنیاوی آسائشیں۔ وہ خالی ہاتھ آتا ہے اور پھر پوری زندگی کچھ حاصل کرنے کی جدوجہد میں گزار دیتا ہے کوئی دولت کے پیچھے بھاگتا ہے، کوئی شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے، کوئی بڑے عہدے کا خواہش مند ہوتا ہے اور کوئی اپنے لیے ایسا نام بنانا چاہتا ہے جسے لوگ مدتوں یاد رکھیں ،انسان صبح سے شام تک مصروف رہتا ہے، محنت کرتا ہے، منصوبے بناتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے، مگر بہت کم لوگ ایسے ہیں جو زندگی کی اس دوڑ میں ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ہماری منزل کیا ہے؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے لیکن اگر انسان اس کا جواب تلاش کرنا شروع کر دے تو شاید اس کی پوری زندگی کا انداز بدل جائے ، ہم میں سے اکثر لوگ راستوں کو ہی منزل سمجھ بیٹھے ہیں۔ کسی کے لیے پیسہ منزل ہے، کسی کے لیے مکان، کسی کے لیے کاروبار، کسی کے لیے عہدہ اور کسی کے لیے شہرت۔ حالانکہ یہ سب چیزیں زندگی کے سفر کا حصہ تو ہو سکتی ہیں، مگر منزل نہیں ہو سکتیں، دولت یقیناً زندگی کی ضرورت ہے انسان اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رزق کماتا ہے، بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتا ہے، گھر بناتا ہے اور مستقبل کے لیے کچھ بچاتا ہے یہ سب اپنی جگہ درست ہے لیکن جب دولت ضرورت سے بڑھ کر مقصد بن جائے تو انسان سکون کھو دیتا ہے پھر جتنا ملتا ہے اتنا ہی کم محسوس ہوتا ہے ، ایک گھر کے بعد دوسرا گھر، ایک گاڑی کے بعد دوسری گاڑی اور ایک کامیابی کے بعد اگلی کامیابی کی خواہش انسان کو مسلسل بے سکونی میں مبتلا رکھتی ہے،اسی طرح شہرت بھی ایک عجیب چیز ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ لوگ اسے جانیں اس کی تعریف کریں، اس کے نام کی مثالیں دی جائیں اور ہر جگہ اسے عزت ملے لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جن لوگوں کی تعریف کے لیے ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں وہ خود بھی ایک دن اس دنیا سے چلے جائیں گے؟ آج جو لوگ ہمارے ساتھ ہیں کل شاید ان میں سے کوئی بھی ہمارے ساتھ نہ ہو پھر ہماری شہرت، ہماری تعریفیں اور ہماری ظاہری کامیابیاں ہمارے کس کام آئیں گی؟دنیا کی حقیقت یہی ہے کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں، جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، صحت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی، دولت ہمیشہ ہاتھ میں نہیں رہتی، عہدے ہمیشہ قائم نہیں رہتے اور اقتدار بھی ایک دن ختم ہو جاتا ہے جو شخص آج طاقتور ہے کل کمزور ہو سکتا ہے، جو آج دوسروں کو حکم دیتا ہے ایک دن اسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے وقت کسی کے لیے نہیں رکتا دن رات گزرتے رہتے ہیں اور ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمیں ہماری اصل منزل کے قریب کرتا رہتا ہے، ہم اکثر موت کا ذکر سن کر چند لمحوں کے لیے سنجیدہ ہو جاتے ہیں، کسی جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو دل میں خیال آتا ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اسی راستے پر جانا ہے لیکن جنازے سے واپس آتے ہی دوبارہ دنیا کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں ہم بھول جاتے ہیں کہ جس شخص کو ابھی چند لمحے پہلے اپنے کندھوں پر اٹھا کر قبر تک پہنچایا ہے کل اسی راستے پر ہمارا بھی سفر ہو سکتا ہے، قبر ایسی منزل ہے جہاں انسان اکیلا جاتا ہے وہاں نہ دوست ساتھ جاتے ہیں نہ رشتہ دار، نہ دولت، نہ گھر، نہ کاروبار اور نہ عہدہ۔ انسان اپنے ساتھ صرف اپنے اعمال لے کر جاتا ہے یہی وہ حقیقت ہے جسے ہم جانتے تو ہیں لیکن دل سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہماری اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے دنیا میں کتنا جمع کیا بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے لیے آخرت میں کیا جمع کیا ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی؟ کتنے دلوں کو خوش کیا؟ کتنے پریشان لوگوں کا سہارا بنے؟ کتنے ضرورت مندوں کی مدد کی؟ کتنے رشتے جوڑے اور کتنے رشتے اپنی انا کی وجہ سے توڑ دیے؟ کتنی مرتبہ کسی کی غلطی معاف کی؟ کتنی مرتبہ کسی کی عزت بچائی؟ کیونکہ انسان کی اصل پہچان اس کے مال سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ زندگی کا مقصد صرف اپنے لیے جینا نہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں استطاعت دی ہے تو کسی ضرورت مند کے کام آنا چاہیے اگر قلم دیا ہے تو اسے سچ، خیر اور اصلاح کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور علم دیا ہے تو اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے، اختیار دیا ہے تو کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے، رزق میں وسعت دی ہے تو اس میں دوسروں کا حصہ بھی نکالنا چاہیے یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی اس کے لیے فائدہ مند رہ سکتے ہیں، ہمیں اپنے بچوں کے لیے صرف جائیداد نہیں چھوڑنی چاہیے بلکہ اچھا کردار، اچھی تربیت اور دین و اخلاق کی دولت بھی چھوڑنی چاہیے۔ کیونکہ جائیداد تقسیم ہو جاتی ہے، دولت ختم ہو جاتی ہے، لیکن اچھی تربیت نسلوں تک سفر کرتی ہے۔ ایک نیک انسان اپنے بعد بھی اپنے اچھے عمل کے ذریعے زندہ رہتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا چھوڑنا ہماری مرضی سے نہیں ہوگا ہم میں سے کوئی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اسے کب جانا ہے کتنے ہی لوگ صبح گھر سے نکلے اور شام کو واپس نہ آ سکے، کتنے ہی لوگ مستقبل کے منصوبے بناتے رہے اور اچانک ان کی زندگی کا سفر ختم ہو گیا کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کی کتاب کا آخری صفحہ کب لکھا جائے گا، اس لیے عقل مندی یہی ہے کہ ہم دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہ بھولیں۔ رزق کمائیں، کاروبار کریں، ترقی کریں، گھر بنائیں، اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں، لیکن ان سب کے ساتھ اپنے رب کو بھی یاد رکھیں۔ دنیا ہمارے ہاتھ میں ہو دل میں نہیں ، مال ہماری ضرورت بنے ہماری پہچان نہیں، شہرت آئے تو شکر کریں اور نہ آئے تو مایوس نہ ہوں۔ ہمیں اپنے گزرے ہوئے وقت کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ جو وقت گزر گیا وہ واپس نہیں آ سکتا۔ جن لوگوں کے دل ہماری وجہ سے دکھے، ممکن ہو تو ان سے معافی مانگ لیں۔ جن کے حقوق ہمارے ذمے ہیں، انہیں ادا کریں جن رشتوں میں فاصلے آ گئے ہیں انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ موت کے بعد انسان کے پاس اصلاح کا موقع نہیں ہوگا، آخرکار ہم سب نے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے کوئی پہلے جائے گا کوئی بعد میں مگر جانا سب نے ہے۔ ہماری اصل منزل دنیا کی آخری حد نہیں بلکہ وہ زندگی ہے جو موت کے بعد شروع ہوگی۔ دنیا ایک راستہ ہے، ایک امتحان ہے، ایک مختصر قیام ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اس مختصر سفر کو ایسے گزارے کہ جب اسے اپنی اصل منزل کی طرف بلایا جائے تو اس کے پاس اپنے رب کے سامنے پیش کرنے کے لیے نیک اعمال موجود ہوں۔ اس لیے آج ہی خود سے ایک سوال کریں آخر ہماری منزل کیا ہے؟ اگر جواب صرف دولت، شہرت، عہدہ اور دنیا ہے تو ہمیں اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر ہماری منزل اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے تو پھر ہمیں اپنی زندگی کے ہر قدم کو اسی منزل کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ انسان دنیاوی کامیابی حاصل نہ کر سکے، بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان دنیا حاصل کرتے کرتے اپنی اصل منزل ہی بھول جائے۔