Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ادب اور عزت ، انسانیت کا آفاقی تحفہ،تحریر: طاہر محمود

نقطہ نظر
tahir mahmood

دنیا میں رنگ بے شمار ہیں، زبانیں بے شمار، تہذیبیں جدا جدا اور زندگی کے انداز مختلف؛ مگر کچھ قدریں ایسی ہیں جو سرحدوں، زبانوں اور ثقافتوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ادب، عزت اور احترام بھی انہی آفاقی قدروں میں سے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جسے پڑھنے کے لیے الفاظ نہیں، صرف ایک زندہ دل درکار ہوتا ہے۔


"ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔"


محبت دل میں جنم لیتی ہے، مگر ادب اسے اظہار کا سلیقہ عطا کرتا ہے؛ محبت قربت پیدا کرتی ہے، مگر عزت اس قربت کو وقار بخشتی ہے۔ جہاں محبت ہو مگر ادب نہ ہو، وہاں تعلق بے احتیاطی کا شکار ہوجاتا ہے، اور جہاں ادب ہو مگر عزت نہ ہو، وہاں شائستگی محض رسم بن کر رہ جاتی ہے۔


اسلام نے ادب کو زندگی کے حسن کا حصہ ہی نہیں بلکہ کردار کی بنیاد بنایا۔ قرآنِ مجید ہمیں والدین کے احترام، گفتگو میں نرمی، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انسان کی تکریم کا درس دیتا ہے۔ اسلام کا تصورِ ادب یہ ہے کہ انسان اپنی زبان، نگاہ، رویے اور معاملات سے دوسرے انسان کے وقار کی حفاظت کرے۔ اختلاف ہو تو تہذیب باقی رہے، اختیار ہو تو عاجزی باقی رہے اور ناراضی ہو تو بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔


حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ادب، رحمت اور حسنِ اخلاق کا روشن ترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسانوں کو صرف عبادت کا راستہ نہیں دکھایا بلکہ ایک دوسرے کے حقوق، عزت اور احساسات کی پاسداری بھی سکھائی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ کسی انسان کو عزت دینا دراصل اپنے کردار کو بلند کرنا ہے۔


ادب کا حسن یہ ہے کہ اسے دینے کے لیے خزانے نہیں چاہییں۔ کسی کی بات پوری توجہ سے سن لینا، بزرگ کے لیے احترام سے کھڑا ہوجانا، چھوٹے کے لیے شفقت کا ہاتھ بڑھا دینا، اختلاف رکھنے والے کی بات بھی تحمل سے سننا اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کے وقار کی حفاظت کرنا—یہ سب وہ تحفے ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں، مگر اثر بے حد گہرا ہے۔


آج انسان نے فاصلے مٹانے کے لیے بے شمار ذرائع ایجاد کرلیے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے اب بھی باقی ہیں۔ شاید اس لیے کہ رابطے بڑھ گئے، مگر ادبِ تعلق کم ہوگیا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف کامیابی کا ہنر نہیں، بلکہ احترام کا شعور، گفتگو کی شائستگی اور انسانیت کا سلیقہ بھی دینا ہوگا۔


کیونکہ علم انسان کو صاحبِ شعور بناتا ہے، مگر ادب اسے صاحبِ کردار بناتا ہے؛ دولت زندگی کو آسودہ کرتی ہے، مگر عزت اسے باوقار بناتی ہے۔


ادب اور عزت کسی ایک قوم، خطے یا زبان کی میراث نہیں؛ یہ پوری انسانیت کا مشترکہ حسن ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کو صرف برداشت کرنے کے بجائے احترام کرنا سیکھ لیں تو اختلاف دشمنی نہیں رہے گا، فاصلے نفرت نہیں بنیں گے اور معاشرہ محض آباد نہیں بلکہ مہذب بھی ہوگا۔


آئیے، ایک دوسرے کو ایسا تحفہ دیں جو نہ خریدا جاسکتا ہے، نہ چوری کیا جاسکتا ہے اور نہ کبھی پرانا ہوتا ہے—ادب کا، عزت کا، احترام کا اور انسانیت کا۔


کیونکہ خوبصورت دنیا صرف خوبصورت عمارتوں سے نہیں بنتی؛ خوبصورت دنیا خوبصورت رویّوں سے بنتی ہے۔