Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ادھوری ملاقات،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ کب ہوا۔ کب لفظوں کا تبادلہ دل کے تبادلے میں بدل گیا۔

شروع میں تو بس ایک عام سی بات تھی۔ دو اجنبی، جنہیں کتابوں نے ملا دیا تھا۔ وہ لکھتی تھی، وہ پڑھتا تھا۔ وہ پڑھتا تھا، وہ سنتی تھی۔ بس اتنا ہی تعلق تھا۔ ایک میسج، پھر جواب، پھر ایک اور بات۔ باتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ وہ ایک خاتون تھی۔ اپنی دنیا میں مگن، اپنی فیملی میں مکمل۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی کے اس موڑ پر اس کا دل اس طرح دھڑکے گا۔ اس نے محبت کو ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا، افسانوں میں دیکھا تھا۔ اسے لگتا تھا محبت جوان دلوں کا کھیل ہے۔ اسے کیا خبر تھی کہ محبت عمر نہیں دیکھتی، وقت نہیں دیکھتی، فاصلہ نہیں دیکھتی، بس ہو جاتی ہے۔ پہلے پہل اسے لگا یہ صرف ایک اچھی دوستی ہے۔ ہم خیال ہونا کتنا خوبصورت ہوتا ہے نا؟ کوئی تو ہو جو تمہارے لفظوں کو سمجھے، تمہارے نہ کہے ہوئے جملوں کو پڑھ لے۔ اسے لگا اسے ایک اچھا دوست مل گیا ہے۔ مگر پھر آہستہ آہستہ کیفیت بدلنے لگی۔ اب اسے اس کے میسج کا انتظار رہنے لگا۔ فون کی اسکرین بار بار دیکھنا، اس کا نام نمودار ہوتے ہی دل کا ایک لمحے کو رک جانا، پھر تیزی سے دھڑکنا۔ وہ خود پر ہنستی۔ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟ میں تو ایسی نہیں تھی۔ اور پھر وہ وقت آتا جب دونوں بات کرتے۔ گھڑی کی سوئیاں جیسے دوڑنے لگتیں۔ وہ کہتی، ابھی تو بات شروع ہوئی ہے۔ وہ کہتا، وقت کو پر لگ گئے ہیں۔ گھنٹے منٹوں میں گزر جاتے۔ دنیا پیچھے رہ جاتی۔ شور ختم ہو جاتا۔ بس دو لوگ، اور ان کے درمیان بہتے ہوئے لفظ۔ اسے ان لمحوں میں لگتا جیسے وہ مکمل ہو گئی ہو۔ جیسے اس کی ذات کا کوئی کھویا ہوا ٹکڑا اسے مل گیا ہو۔ اور جیسے ہی بات ختم ہوتی، وہی ادھورا پن پھر لوٹ آتا۔ ایک خلا، ایک کمی، ایک بے چینی۔

اس نے کئی بار خود سے سوال کیا۔ یہ محبت ہے؟ اس نے اپنے دل کو ٹٹولا۔ محبت تو قربت مانگتی ہے، ساتھ مانگتی ہے، ہاتھوں کا لمس مانگتی ہے۔ مگر اسے تو بس اس کی بات سے محبت تھی۔ اس کی سوچ سے، اس کے لہجے سے، اس کے لفظوں میں چھپے اس کے دل سے۔ کیا یہ بھی محبت ہو سکتی ہے؟ ایسی محبت جس میں ملنا ممکن ہی نہ ہو؟ ہاں، یہی تو اس کہانی کا سب سے بڑا سچ تھا۔ ملنا ممکن نہیں تھا۔ وہ اپنے حصے کی زندگی میں بندھی ہوئی تھی۔ اس کی اپنی دنیا تھی، اس کے اپنے رشتے تھے، اپنی ذمہ داریاں تھیں۔ اور وہ مرد بھی اپنی دنیا میں مکمل تھا۔ اس کی بھی اپنی فیملی تھی۔ دونوں کے بیچ ہزاروں میل کا فاصلہ ہی نہیں، صدیوں کی دیواریں بھی تھیں۔ سماج کی، رشتوں کی، ذمہ داریوں کی۔

اسے معلوم تھا کہ یہ راستہ کہیں نہیں جاتا۔ اس راستے کا کوئی انجام نہیں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کا آخری صفحہ کبھی نہیں آئے گا۔ پھر بھی وہ اس کتاب کو پڑھتی رہی۔ ہر روز، ہر رات۔ کیونکہ اس کتاب کے کردار میں اسے اپنا آپ نظر آتا تھا۔ کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ وقت وہیں ٹھہر جائے۔ وہ ان باتوں والے لمحوں میں ہی جیتی رہے۔ وہیں رہ جائے۔ حقیقت کی دنیا بہت بے رحم تھی۔ وہاں سوال تھے، ذمہ داریاں تھیں، الجھنیں تھیں۔ مگر اس کی باتوں کی دنیا میں صرف سکون تھا۔ صرف اپنائیت تھی۔ وہاں وہ خود ہو سکتی تھی۔ بنا کسی ڈر کے، بنا کسی نقاب کے۔ ایک رات اس نے لکھا، "تم سے بات کر کے لگتا ہے میں پوری ہو گئی ہوں۔"جواب آیا، "اور بات کرتے وقت کا اندازہ نہیں ہوتا "وہ مسکرا دی۔ اس ادھورے پن میں بھی کتنا سکھ تھا۔ اس نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ محبت کہنے سے زیادہ محسوس کرنے کی چیز ہے۔ وہ محسوس کرتا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ بھی محسوس کرتا ہے۔ ان کہے لفظوں میں جو محبت تھی وہ کہے ہوئے لفظوں میں کہاں۔ وہ اکثر سوچتی، کاش یہ ممکن ہوتا۔ کاش ہم ایک ہی شہر میں ہوتے۔ ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر کتاب پڑھتے۔ ایک ہی چائے کو دونوں بانٹتے۔ کاش میں تمہیں دیکھ سکتی جب تم ہنستے ہو تو تمہاری آنکھیں کیسی لگتی ہیں۔ کاش... مگر کاش کے آگے ہمیشہ ایک خاموشی ہوتی تھی۔

اس نے اپنی اس محبت کو کبھی نہیں سمجھا۔ یہ کوئی جسم کی چاہت نہیں تھی۔ یہ روح کی پیاس تھی۔ ایک ایسی پیاس جو صرف کسی اپنے جیسے دل سے بجھتی ہے۔ اس نے اس مرد میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ اور شاید اسی لیے اسے اس سے محبت ہو گئی تھی۔ انسان کو سب سے زیادہ محبت اپنے آپ سے ہی تو ہوتی ہے۔ اپنے دل کے سکون میں جو محبت ہو۔ وہ کچھ اچھا برا سوچنے سمجھنے نہیں دیتی۔ بس اس کی میں حقیقت سے آنکھیں موند لیتی ہے۔ بس دل کی آواز سنتی ہے اور دل کی نظر سے دیکھتی ہے۔

آج بھی وہ باتیں کرتے ہیں۔ آج بھی وقت تیزی سے گزرتا ہے۔ آج بھی بات ختم ہونے کے بعد ایک ادھورا پن رہ جاتا ہے۔ کچھ کہانیاں مکمل ہونے کے لیے نہیں ہوتیں۔ وہ اسی لیے خوبصورت ہوتی ہیں کہ وہ ادھوری رہتی ہیں۔ جیسے کوئی غزل جس کا آخری شعر کبھی لکھا ہی نہ گیا ہو، اور سننے والا ساری عمر اس آخری شعر کا انتظار کرے۔ یہ اس کی ادھوری ملاقات تھی۔ جو کبھی ہوئی ہی نہیں، مگر جو ہمیشہ اس کے دل میں زندہ رہے گی۔ ایک ایسی ملاقات جو وقت اور فاصلے سے پرے تھی۔ جہاں دو روحیں ملی تھیں، دو جسم نہیں۔ اور شاید روح کی ملاقات ہی سب سے سچی ملاقات ہوتی ہے۔