Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اخلاقیات: آج کی ضرورت اور اہمیت،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب اس کی عقل، شعور اور علم کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق کی وجہ سے ملا ہے۔ اگر انسان سے اخلاق نکال دیا جائے تو وہ ایک ذہین جانور سے زیادہ کچھ نہیں۔ آج ہم نے چاند کو مسخر کر لیا ہے، سمندر کی گہرائیوں کو ناپ لیا ہے، مصنوعی ذہانت بنا لی ہے، لیکن ہم ایک اچھا انسان بنانا بھول گئے ہیں۔ یہی ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے، ترقی ہے، ٹیکنالوجی ہے، دولت ہے، لیکن اگر نہیں ہے تو اخلاق نہیں ہے۔ اور جس معاشرے سے اخلاق رخصت ہو جائے، وہ معاشرہ چاہے کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

اخلاقیات کیا ہے؟

اخلاقیات صرف بڑوں سے ادب سے بات کرنے کا نام نہیں۔ اخلاقیات ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام، عدل و انصاف، صبر و تحمل، ایثار و قربانی، یہ سب اخلاقیات کے مختلف روپ ہیں۔ اخلاق وہ خوشبو ہے جو انسان کے کردار سے پھوٹتی ہے اور پورے معاشرے کو معطر کر دیتی ہے۔ آج کے دور میں اخلاقیات کی کمی کیوں؟

اگر ہم آج اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں اخلاقی پستی کی واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:

1۔ مادہ پرستی: آج ہر شخص جلد از جلد امیر بننا چاہتا ہے، چاہے اس کے لیے جائز و ناجائز ہر راستہ کیوں نہ اپنانا پڑے۔ جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، رشوت آج کاروبار کا حصہ بن چکے ہیں۔

2۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا بے جا استعمال: سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو قریب کیا ہے وہیں فحاشی، جھوٹی خبروں، دوسروں کی تضحیک اور وقت کے ضیاع کو بھی عام کر دیا ہے۔ بچے والدین کے سامنے بیٹھے موبائل میں مصروف ہیں، ادب و احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔

3۔ دین سے دوری: جب تک دل میں اللہ کا خوف تھا، انسان برائی سے بچتا تھا۔ آج دین صرف مسجد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، عملی زندگی سے اس کا تعلق ختم ہو گیا ہے۔

4۔ ناقص نظامِ تعلیم و تربیت: ہمارے سکولوں میں ڈگری تو دی جا رہی ہے، تربیت نہیں دی جا رہی۔ والدین بھی بچوں کو اچھے نمبر لانے کی نصیحت کرتے ہیں، اچھا انسان بننے کی نہیں۔ اسلام میں اخلاقیات کی اہمیت: اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، اسلام سراپا اخلاق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔" یعنی آپ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی اخلاق کی تکمیل تھا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اخلاق کی گواہی ان الفاظ میں دی: "بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں" (سورۃ القلم) اسلام میں عبادت کا وزن بھی اخلاق سے ہے۔ اگر ایک شخص روزے رکھتا ہے، نمازیں پڑھتا ہے لیکن اس کی زبان سے دوسرے محفوظ نہیں، وہ جھوٹ بولتا ہے، پڑوسی کو تکلیف دیتا ہے تو اس کی عبادت بے وزن ہے۔ دوسری طرف ایک خوش اخلاق شخص، جو سچ بولتا ہے، لوگوں میں آسانیاں بانٹتا ہے، وہ اللہ کو بہت محبوب ہے۔ اسلام نے اخلاق کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ جس میں اخلاق نہیں، اس میں ایمان مکمل نہیں۔ معاشرے میں اخلاقیات کے فائدے:

جس معاشرے میں اخلاقیات زندہ ہوتی ہے، وہ معاشرہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔

1۔اعتماد اور بھائی چارہ: سچ اور امانت سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

2۔ امن و سکون: جب ہر شخص انصاف کرے گا، دوسرے کا حق نہیں کھائے گا تو لڑائی جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

3۔ ترقی کی ضمانت: اخلاقی قومیں ہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں۔ جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ان کی ٹیکنالوجی سے زیادہ ان کی ایمانداری، وقت کی پابندی اور محنت ہے۔

4۔ خاندانی نظام کی مضبوطی: ادب، احترام اور برداشت سے خاندان جڑے رہتے ہیں۔

اخلاقیات کی کمی کے نقصانات

اور جس معاشرے سے اخلاق چلا جائے، وہاں کیا ہوتا ہے؟ وہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔

1۔ بد اعتمادی: ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

2۔ جرائم میں اضافہ: جھوٹ، چوری، ڈکیتی، قتل اور کرپشن عام ہو جاتی ہے۔

3۔ ذہنی بے سکونی: بے اخلاق انسان کے پاس سب کچھ ہو کر بھی سکون نہیں ہوتا۔ اسے ہر وقت پکڑے جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔

4۔ قوم کی تباہی: بڑی بڑی سلطنتیں ہتھیاروں سے نہیں، بد اخلاقی سے تباہ ہوئی ہیں۔

یاد رکھیں! عمارتیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں، قومیں کردار سے بنتی ہیں۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دینا ہے؟ بینک بیلنس، بڑی گاڑیاں، یا ایک اچھا کردار؟ آئیے، ہم عہد کریں کہ ہم خود بااخلاق بنیں گے۔ سچ بولیں گے، وعدہ پورا کریں گے، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کریں گے۔ کیونکہ جب ایک چراغ جلتا ہے تو اندھیرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنا اخلاق درست کر لے تو پورا معاشرہ درست ہو جائے گا۔ اخلاق ہی وہ آخری امید ہے جو ہمیں انسانیت کے مقام پر باقی رکھ سکتی ہے۔