کچھ فاصلے راستوں میں نہیں، رویّوں میں پیدا ہوتے ہیں،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
کچھ فاصلے عجیب ہوتے ہیں۔ نہ اُن کے درمیان کوئی شہر آتا ہے، نہ کوئی سمندر، نہ ہی کوئی ایسا راستہ جسے طے کرنے کے لیے قدم اٹھانے پڑیں۔ یہ فاصلے بس اچانک دل کے اندر کہیں پیدا ہو جاتے ہیں؛ اور پھر دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی خاموشی تک سمجھ لیا کرتے تھے، ایک دن ایک دوسرے کے لفظوں کا مطلب بھی پوچھنے لگتے ہیں۔
رشتے ہمیشہ کسی بڑے حادثے سے نہیں ٹوٹتے۔ کبھی ایک جملہ، ایک بدلتا ہوا لہجہ، مسلسل نظرانداز کیا جانا، یا کسی موقع پر ساتھ نہ کھڑا ہونا بھی دل میں ایک ایسی دراڑ ڈال دیتا ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے خاموشی سے گہری ہوتی جاتی ہے۔ انسان بظاہر وہیں رہتا ہے، وہی باتیں کرتا ہے، ویسے ہی مسکراتا ہے، مگر اندر کہیں اُس رشتے سے ایک قدم پیچھے ہٹ چکا ہوتا ہے۔
شاید ہم اکثر فاصلے کو جدائی سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں، حالاں کہ ہر فاصلے کا مطلب بچھڑنا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان جسمانی طور پر بہت قریب رہ کر بھی روحانی طور پر بہت دور نکل جاتا ہے۔ ایک ہی میز پر بیٹھے دو لوگ اپنی اپنی دنیا میں اجنبی ہو سکتے ہیں، اور کبھی ہزاروں میل دور بیٹھا کوئی شخص ہماری کیفیت کا وہ پہلو سمجھ لیتا ہے جسے ہمارے آس پاس موجود لوگ بھی نہیں دیکھ پاتے۔
اصل فاصلے شاید وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں احساس کی جگہ عادت لے لیتی ہے۔ جہاں کسی کی موجودگی خوشی نہیں، صرف معمول بن جاتی ہے۔ جہاں بات کرنے کی خواہش کم اور نبھانے کی مجبوری زیادہ رہ جاتی ہے۔ ایسے رشتے ختم نہیں ہوتے، بس اُن میں زندگی باقی نہیں رہتی۔
ہم بھی عجیب لوگ ہیں؛ جب کوئی شخص بدلتا ہے تو ہم اُس کی تبدیلی کا شکوہ کرتے ہیں، مگر یہ سوچتےہی نہیں ہیں کہ شاید ہمارے رویّے بھی اُس تبدیلی میں کہیں شامل تھے۔ ہر خاموشی بے رخی نہیں ہوتی، اور ہر فاصلہ بے وفائی نہیں ہوتا۔ کبھی انسان بار بار سمجھاتے سمجھاتے تھک جاتا ہے، پھر وضاحتیں دینا چھوڑ دیتا ہے۔ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے اُس کی تکلیف سمجھنی تھی، وہ اُس کے الفاظ بھی نہیں سمجھ سکا۔
اور شاید رشتوں کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ ہم کسی کو صرف اُس وقت تک نہیں چاہتے جب تک وہ ہماری خواہش کے مطابق رہے۔ محبت میں دوسرے انسان کو اُس کی خاموشیوں، کمزوریوں اور بدلتے موسموں سمیت قبول کرنا بھی شامل ہے۔ ورنہ تعلق صرف قربت کا نام رہ جاتا ہے، رفاقت کا نہیں۔
کچھ فاصلے وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں، کچھ ایک گفتگو سے ختم ہو جاتے ہیں، مگر کچھ فاصلے انسان خود پیدا نہیں کرتا؛ وہ بار بار کے رویّوں سے بنائے جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب دل دروازہ بند نہیں کرتا، بس کھولنا چھوڑ دیتا ہے۔
شاید اسی لیے ہر دوری کو راستوں میں تلاش نہیں کرنا چاہیے۔ کبھی اپنے لہجے میں جھانکنا چاہیے، کبھی اپنے رویّے میں، اور کبھی اُس شخص کی آنکھوں میں جس نے ہمارے قریب رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کیا ہو۔
زینبؔ، کچھ لوگ بچھڑتے نہیں، بس اتنا بدلتے ہیں
کہ اُن کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہم تنہا ہو جاتے ہیں۔





