انا کے حصار سے قومی اتحاد تک،تحریر:ایم زیڈ کنول
نقطہ نظر
سیاست میں دروازے بند نہیں کیے جاتے، کھڑکیاں کھلی رکھی جاتی ہیں۔ اسی لیے حکومت اور تحریکِ انصاف کے درمیان جاری مذاکرات کی خبر ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور تحریکِ انصاف اپنے لانگ مارچ کو، جو زمینی حقائق کے اعتبار سے فی الحال وہ مومینٹم حاصل نہیں کر پا رہا جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، قومی مفاد میں بلا مشروط مؤخر کر دے گی۔ یہ پسپائی نہیں، سیاسی بلوغت ہوگی۔
کیوں؟ اس لیے کہ آج اسلام آباد کی کرسی کا مسئلہ، لاہور اور بنی گالہ کی رسہ کشی سے بہت بڑا ہو چکا ہے۔
آج پاکستان کوجس عفریت کا سامنا ہے وہ کسی ایک جماعت کا نہیں، ریاست کے وجود کا چیلنج ہے۔ خیبر سے گوادر تک، بنوں سے مستونگ تک، ہمارےجوانوں کے لہو سے جو تحریر لکھی جا رہی ہے، وہ کسی پارٹی منشور کا حصہ نہیں، یہ قومی سلامتی کی فائل ہے۔ دہشت گردی اب محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ہماری معیشت، ہماری خارجہ پالیسی، ہمارے بچوں کے اسکول اور ہماری مسجدوں کے ممبر تک کو یرغمال بنا رہی ہے۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ حکومت کس کی ہے اور اپوزیشن کس کی۔ سوال یہ ہے کہ ریاست باقی ہے یا نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہم نے سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنایا، دشمن نے اس دراڑ سے راہ نکالی۔ اور جب بھی ہم ایک ہوئے، بڑی سے بڑی آندھی ہمیں ہلا نہ سکی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوق سے زیادہ بیانیے کی جنگ ہے، اور بیانیہ تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب ایوان سے لے کر گلی تک ایک ہی آواز آئے۔
اس کے لیے اگر ہمیں اپنی انا کے بت میں سے کچھ تراشنا پڑے تو یہ سودا مہنگا نہیں۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے، کرسیاں بدلتی رہتی ہیں، مگر مٹی باقی رہتی ہے۔ اگر پاکستان کی بقا کے لیے ہمیں ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے تو یہ پیچھے ہٹنا نہیں، قوم کو آگے بڑھانا ہے۔ لانگ مارچ مؤخر ہو سکتا ہے، جلسے ملتوی ہو سکتے ہیں، مگر شہید کی ماں کا آنسو مؤخر نہیں ہو سکتا۔
اسی قومی درد کو بلاول بھٹو زرداری نے پھر سے زبان دی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں، یہ ایک ورثے کی بازگشت ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جس انتہا پسندی کے خلاف جان کا نذرانہ دیا، ان کا خواب یہی تھا کہ پاکستان کا پرچم انتہا پسندی کے اندھیروں میں بھی سربلند رہے۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، کوئی جماعت نہیں، ان کا صرف ایک ہدف ہے، پاکستان۔
آج ان کی سوچ کو ان کا بیٹا اسی درد کے ساتھ دہرا رہا ہے کہ "پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر متحد ہونا ہوگا۔" یہ اپیل کسی ایک پارٹی کی نہیں، یہ اس قافلے کی اپیل ہے جو لیاقت باغ سے کارساز تک خون میں نہا کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تو راستہ کیا ہے؟ راستہ بہت واضح ہے۔
حکومت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مذاکرات کو انا کا مسئلہ نہیں، قومی ضرورت سمجھنا ہوگا۔ اور تحریکِ انصاف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج اس کا آئینی حق ہے، مگر قومی سلامتی کے مورچے پر احتجاج نہیں، یکجہتی ہوتی ہے۔ دنیا کو ہم کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ایک طرف ہم دہشت گردی کے خلاف دنیا سے مدد مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف ہم خود اسلام آباد میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں؟
اقبال نے کہا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
آج ہر فرد، ہر لیڈر، ہر جماعت اس ستارے کی مانند ہے۔ اگر یہ ستارے بکھر گئے تو رات اور گہری ہو جائے گی۔ اگر یہ جڑ گئے تو یہی کہکشاں بن جائیں گے۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ، تنقید اپنی جگہ، سیاست اپنی جگہ، مگر پاکستان سب سے پہلے ہے۔ اور پاکستان پہلے تب ہی ہوگا جب ہم سب مل کر یہ فیصلہ کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف ہم ایک ہیں۔
پاکستان پائندہ باد
مزید پڑھیں





