اقلیتوں کے حقوق نظرانداز کیوں،تحریر:خالد شہزاد
نقطہ نظر
پنجاب کا حلف اٹھانے کے بعد اقلیتوں کے حوالے سے دیے گئے جذباتی بیان—جس میں انہوں نے اقلیتوں کو "سر کا تاج" قرار دیا—نے ایک نئی امید جگائی تھی۔ تاہم، اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والے خوبصورت بیانات اور زمین پر موجود تلخ حقائق کے درمیان کا فاصلہ وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید وسیع ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستانی اقلیتوں کے لیے یہ سوال کوئی نیا نہیں کہ آیا حکمرانوں کے وعدے واقعی ایک محفوظ اور مساوی مستقبل کی ضمانت ہیں یا پھر یہ ماضی کی طرح محض وقتی سیاسی ہمدردی اور لفظی تسلی کا حصہ ہیں؟ پنجاب میں اقلیتی برادری، بالخصوص مسیحی اور ہندو برادریاں، طویل عرصے سے بنیادی انسانی حقوق اور سماجی تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایک طرف اقلیتی بچیوں کی کم عمری میں شادی اور جبری تبدیلیٔ مذہب جیسے سنگین و نازک مسائل کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، تو دوسری طرف روزگار کے مواقع اور سرکاری ملازمتوں میں قانوناً مقرر کردہ 5 فیصد اقلیتی کوٹے کی عملداری پر گہرے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک پیش رفت نے اس تحفظات کو مزید تقویت دی ہے۔ پنجاب ایمرجنسی سروسز (پیرا فورس) کی جانب سے 25 ستمبر 2026ء کو دیے گئے ایک آفیشل جواب کے مطابق 500 سرجنٹس اور 500 سرجنٹ ڈرائیورز پر مشتمل 1,000 نئی آسامیوں کی بھرتی میں اقلیتی کوٹے کو "Nil" (صفر) دکھایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1,000 میں سے ایک بھی نشست اقلیتی امیدواروں کے لیے مختص نہیں کی گئی۔ پیرا فورس کے حکام کے مطابق اس بھرتی کا عمل ایک باقاعدہ طریقہ کار کے تحت مکمل ہوا، جس کے لیے سمری تیار کی گئی، متعلقہ سرکاری ونگز اور محکمہ جات نے اس کا جائزہ لیا، اور بالآخر وزیراعلیٰ پنجاب کی باقاعدہ منظوری حاصل کی گئی۔ یہی نقطہ معاملے کو بے حد حساس اور تشویش ناک بناتا ہے۔اب ایک بنیادی اور آئینی سوال ابھرتا ہے: کیا وزیراعلیٰ کی منظوری کے ذریعے 1,000 آسامیوں کی اس بھرتی میں 5 فیصد اقلیتی کوٹہ بالواسطہ یا بلاواسطہ مستثنیٰ قرار دیا گیا یا ختم کر دیا گیا؟ اگر ایسا کیا گیا ہے تو اس فیصلے کی آئینی و قانونی بنیاد کیا ہے؟آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 36 اقلیتوں کے جائز حقوق اور ان کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان کا 2014ء کا تاریخی فیصلہ (جسٹس تصدق حسین جیلانی کیس) اقلیتوں کے حقوق، کوٹہ اور ان کی مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئینی و قانونی تشریح کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں اقلیتی کوٹہ محض ایک انتظامی رعایت نہیں بلکہ ایک قانونی استحقاق ہے۔ اگر ایک سرکاری اتھارٹی یا فورس کو یہ اجازت مل جاتی ہے کہ وہ خصوصی منظوریوں کے ذریعے 5 فیصد کوٹے کو نظرانداز یا معطل کر دے، تو یہ اقدام ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ بھی مختلف ادارے انتظامی وجوہات کا بہانہ بنا کر اس کوٹے کو بتدریج غیر مؤثر بنائیں گے، جو بالآخر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی طرف ایک قدم ثابت ہوگا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ یہ غیر مساوی سلوک صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں بھی صورتحال کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ کے پی کے کے ایمرجنسی ادارے (ریسکیو 1122) میں 2022ء سے اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر یا تو عملدرآمد روکا گیا، یا پھر ان کے لیے مخصوص نشستوں پر غیر مسلموں کی بجاۓ دیگر افراد کو بھرتی کر کے صریحاً زیادتی کی گئی۔
تاہم، کے پی کے کی حد تک عدالتِ عالیہ نے اقلیتی برادری کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے ایمرجنسی 1122 کے ڈی جی کی جانب سے کی جانے والی ان غیر قانونی بھرتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ گزشتہ سالوں میں اقلیتی کوٹے کی جگہ کی جانے والی غیر قانونی بھرتیوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور 2022ء کے قوانین و میرٹ کے مطابق حق دار اقلیتی امیدواروں کو ان کی نوکریاں دی جائیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے اس جرات مندانہ فیصلے نے اقلیتی برادری میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی منصفانہ پالیسی پر ایک نئی امید جگائی ہے۔
اسی طرح اگر سندھ اور وفاقی سطح کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے شعبوں میں اقلیتوں کے مسائل پر حکومتی خاموشی شدید مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔ کوٹے کا محض کاغذات پر موجود ہونا کافی نہیں، جب تک کہ اس پر سختی سے عملدرآمد نہ ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اقلیتی کوٹے کی زیادہ تر نشستیں یا تو خالی چھوڑ دی جاتی ہیں، یا پھر انہیں نچلے درجے کی ملازمتوں (مثلاً خاکروب یا سینیٹری ورکرز) تک محدود کر دیا جاتا ہے، جبکہ انتظامی اور افسر شاہی کی آسامیوں پر انہیں ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔جب ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت اقلیتوں کو "سر کا تاج" قرار دیتی ہے، تو اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ یہ ترجیح صرف تقاریر تک محدود نہ رہے بلکہ پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کے مراحل میں بھی نظر آئے۔ جب 1,000 آسامیوں میں سے اقلیتی کوٹہ "صفر" کر دیا جاتا ہے، تو اس سے حکومتی دعووں کا کھوکھلا پن خود بخود ظاہر ہونے لگتا ہے۔پنجاب حکومت اور بالخصوص وزیراعلیٰ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ پیرا فورس کی حالیہ بھرتیوں میں اقلیتی کوٹے کی عدم موجودگی کا فوری نوٹس لیں۔ اس بات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں کہ 5 فیصد کوٹے کو کس قانونی اختیار کے تحت نظرانداز کیا گیا اور سمری کی منظوریاں کس بنیاد پر دی گئیں۔ اقلیتوں کے تحفظ کا سفر خوبصورت الفاظ سے نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات، آئینی حقوق کی پاسداری اور یکساں روزگار کی فراہمی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر عدالتیں انصاف فراہم کر سکتی ہیں تو منتخب حکومتوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اقلیتوں کو محض سیاسی نعرہ نہ سمجھیں بلکہ انہیں ریاست کا برابر کا شہری تسلیم کرتے ہوئے ان کے جائز حقوق کی حفاظت کریں۔
مزید پڑھیں



ضلع ٹانگ میں دو روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

