اٹارنی جنرل کا ایس سی او پراسیکیوٹرز اجلاس سے خطاب؛ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جوابدہ اور بچوں کے آن لائن تحفظ پرزور

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے پراسیکیوٹرز کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے روایتی خاندانی اقدار کے تحفظ، بچوں کو آن لائن استحصال سے بچانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جوابدہ بنانے کیلئے علاقائی تعاون مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشترکہ اہداف کو قانونی تحقیقات و پراسیکیوشن اور بچوں کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا، خاندان نگہداشت، رہنمائی اور تحفظ فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اور خاندان کے تحفظ کیلئے سماجی معاونت کے ساتھ قانونی تحفظ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے بچوں کے تحفظ کیلئے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ ایکٹ 2017 اور نیشنل چائلڈ رائٹس انٹیگریٹڈ ڈیش بورڈ شامل ہیں، نیشنل چائلڈ رائٹس انٹیگریٹڈ ڈیش بورڈ وفاقی اور صوبائی اداروں کی معلومات یکجا کرتا ہے جو بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی، خامیوں کی نشاندہی اور حفاظتی اقدامات کی رہنمائی کرتا ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آن لائن جرائم میں ملوث عناصر بچوں کے اعتماد کا فائدہ اٹھاتے، شناخت چھپاتے اور سرحدوں کے پار کاروائیاں کرتے ہیں، پاکستان کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں بچوں کی آن لائن گرومنگ، سولیسٹیشن، سائبر انسیٹمنٹ اور تجارتی جنسی استحصال سے متعلق دفعات موجود ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کی تحقیقات کیلئے خصوصی مہارت اور الیکٹرانک شواہد کا فوری تحفظ ضروری ہے، کاروائی کے دوران بچوں کی شناخت کا تحفظ اور متاثرین کو معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔
الیکٹرانک شواہد کے حصول اور تحفظ کیلئے پاکستان کا قانونی فریم ورک موجود ہے جبکہ 2025 میں سوشل میڈیا ریگولیشن اور شکایات کے طریقہ کار سے متعلق دفعات متعارف کرائی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف قابل رسائی رپورٹنگ چینلز، فوری کاروائی اور متعلقہ شواہد کا تحفظ ضروری ہے، بچوں اور والدین کو آن لائن خطرات سے آگاہ کرنے اور حفاظتی ٹولز کے استعمال کیلئے عوامی آگاہی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اہم تجاویز بھی پیش کیں،ان کی طرف سے ایس سی او ممالک کے درمیان فوری حوالگی اور شواہد کے تحفظ کی درخواستوں کیلئے نامزد رابطہ افسران مقرر کرنے کی تجویز دی گئی۔ ڈیجیٹل شواہد، بچوں سے انٹرویو اور مؤثر باہمی قانونی معاونت کی درخواستیں تیار کرنے کیلئے مشترکہ تربیت کی تجویز دی ،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ردعمل، تعلیمی اداروں میں مواد کی فلٹرنگ اور بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے تحقیق اور ماہرین کے اجلاس کی تجویز دی گئی۔
اٹارنی جنرل تجویز کردہ اقدامات کو مؤثر عملی شکل دینے کیلئے باقاعدگی سے جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نےکہا کہ اپنے عزم کو ایسے عملی اقدامات میں تبدیل کریں جو خاندانوں کی معاونت، بچوں کو استحصال سے تحفظ اور ان کے وقار و حقوق کو برقرار رکھیں۔ منصور عثمان اعوان کا مزید کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے 1947 میں آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کے پیغام میں کہا تھا کہ ہمیں اپنے لوگوں کو متحرک اور آنے والی نسلوں کے کردار کو مضبوط بنانا ہے،خاندانوں، اساتذہ اور سرکاری اداروں کی مشترکہ ذمہ داری بچوں کے سیکھنے، میل جول اور نشوونما کے ڈیجیٹل ماحول کا تحفظ بھی ہے۔
مزید پڑھیں





.jpg%3F2026-10-01T18%253A32%253A36.982Z&w=3840&q=75)