Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بڑا کون: تخلیق یا تخلیق کار ؟تحریر:نعیم خان،قسط دوئم

نقطہ نظر
naeem khan blog

“اگر تخلیق کار بھی عطا ہے ،تخلیق کا سامان بھی عطا ہے ، آنکھ ، ذہن ، زبان ، شعور اور اظہار بھی عطا ہیں تو پھر تخلیق کار اپنی تخلیق میں آخر اپنا کیا رکھتا ہے ؟”

ہم میں سے کسی نے فوراً جواب نہیں دیا۔

اسی دوران میں نے محسوس کیا کہ محفل میں پہلے سے موجود چند شاگرد جو اب تک کچھ فاصلے پر بیٹھے ہماری گفتگو سن رہے تھے اپنی کرسیاں آہستہ آہستہ کھسکا کر ہمارے قریب لے آئے ہیں۔ چند لمحوں میں استاد اور میرے گرد ایک باقاعدہ دائرہ بن چکا تھا۔

کیپوچینیو کی خوشبو اب بھی فضا میں تھی۔ چودھویں کا چاند درختوں کی شاخوں سے چھن کر ہمارے درمیان روشنی کے ٹکڑے بکھیر رہا تھا۔

استاد نے سب کو دیکھا اور مسکرائے۔

“لگتا ہے آج سوال صرف نعیم صاحب کا نہیں رہا۔”

ایک شاگرد نے کہا: “استاد ! اب تو ہم بھی جاننا چاہتے ہیں کہ جواب کیا ہے۔”

استاد نے میری طرف دیکھا۔

“خانِ اعظم اب آپ بتائیے۔”

میں نے کہا: “شاید انسان کی اپنی چیز اس کا انتخاب ہے۔”

استاد نے فوراً پوچھا: “انتخاب بھی عطا ہے ، پھر ؟”

میں خاموش ہوگیا۔

ایک شاگرد نے کہا: “تو پھر انسان کے پاس اپنا کیا بچا ؟”

استاد نے کہا: “یہی تو سوال ہے۔”

میں نے آہستہ سے کہا: “شاید عطا کو استعمال کرنے کا طریقہ۔”

استاد نے پوچھا: “کیا طریقہ بھی سکھایا نہیں جاتا ؟”

“سکھایا جاتا ہے۔”

“تو پھر وہ بھی عطا ہوا۔”

میں مسکرایا۔ “استاد ! آپ ہر راستے کے آخر میں وہیں لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے سوال شروع ہوا تھا۔”

محفل میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

استاد نے کہا: “کیونکہ میں جواب دینے نہیں ، سوال کو اس کی آخری حد تک لے جانے بیٹھا ہوں۔”

ایک شاگرد نے پوچھا: “لیکن استاد ! اگر سب کچھ عطا ہے تو انسان کی ذمہ داری کیا ہے ؟”

میں نے کہا: “شاید یہی کہ وہ عطا کو ضائع نہ کرے۔”

“اور اگر وہ اسے غلط استعمال کرے ؟”

“تو پھر عطا نعمت سے آزمائش بن جاتی ہے۔”

استاد نے کہا: “قلم کی مثال لیجیے۔ قلم خود کچھ نہیں لکھتا جب تک اسے چلانے والا نہ ہو مگر قلم کے اندر لکھنے کی صلاحیت بھی اپنی نہیں۔ انسان بھی شاید ایسا ہی قلم ہے۔”

میں نے کہا: “انسان شاید ایک قلم ہے اس کی روشنائی عطا ہے ، تحریر عطا ہے اور شعور کی روانی اور تسلسل بھی بارگاہِ ایزد سے فضل اور نعمت ہے۔”

استاد نے پوچھا: “پھر قلم کو اپنی تحریر پر فخر کیوں ہوتا ہے ؟”

میں نے جواب دیا: “کیونکہ انسان عطا کو اکثر اپنی قابلیت سمجھ لیتا ہے۔”

“اور شکر ؟”

“عطا کو پہچان لینا۔”

“اور عاجزی ؟”

“یہ مان لینا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ صرف میرے زورِ بازو سے نہیں آیا۔”

استاد نے کہا: “اپنی صلاحیت پہچاننا غرور نہیں ، اسے اپنی ذات کا مطلق کمال سمجھ لینا غرور ہوسکتا ہے۔”

پھر انہوں نے میری طرف دیکھا۔

“غالب اپنی شاعری کی عظمت سے بے خبر نہیں تھے مگر کہتے ہیں:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے۔”

میں نے کہا: “شاید یہی فرق ہے خود شناسی اور خود پسندی میں۔ انسان اپنی صلاحیت پہچانے مگر اس صلاحیت کے سرچشمے کو نہ بھولے۔”

استاد نے کہا: “اب دکان اور باورچی والی مثال دوبارہ دیکھیے۔”

میں نے کہا: “دکان کائنات ہے ، سامان وہ سب کچھ ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ باورچی انسان ہے۔ وہ چیزوں کو منتخب کرتا ہے ، انہیں ملاتا ہے ، مقدار طے کرتا ہے ، ذائقہ پیدا کرتا ہے اور پھر ایک نئی صورت سامنے آتی ہے۔”

“تو کیا وہ خالق ہے ؟”

“مطلق معنی میں نہیں۔”

“پھر کیا ہے ؟”

“ترتیب دینے والا ، معنی پیدا کرنے والا ، اظہار کرنے والا۔”

استاد نے کہا: “یعنی تخلیق کبھی کبھی نئی چیز پیدا کرنے سے زیادہ موجود چیزوں کے درمیان نیا تعلق دریافت کرنے کا نام بھی ہوسکتی ہے ؟”

میں نے کہا: “جی ! شاید یہی تخلیق کا ایک بڑا راز ہے۔”

ایک شاگرد نے پوچھا: “تو کیا دنیا میں کچھ بھی نیا نہیں ؟”

میں نے چمکتے ہوئے چاند کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: “دیکھیے ، چاند تو وہی ہے۔ مگر اسے دیکھنے والی آنکھیں اور اسے سمجھنے والے ذہن ایک جیسے نہیں۔ کسی کے لیے یہ آسمان پر روشن ایک جسم ہے ، کسی کے لیے محبوب کے چہرے کی مثال ، کسی کے لیے تنہائی کا ساتھی اور کسی کے لیے کائنات کے اسرار پر غور کرنے کا دروازہ۔ چاند وہی رہتا ہے مگر انسان کا تصور اس کے معنی بدل دیتا ہے۔ شاید تخلیق بھی یہی ہے؛ چیز نئی نہ ہو ، مگر اس کا دیکھا ہوا معنی نیا ہوجائے۔”

استاد نے مسکرا کر کہا: “تو کیا تخلیق کار دنیا کو نہیں بدلتا ، دنیا کے معنی بدل دیتا ہے ؟”

میں نے کہا: “کبھی کبھی۔”

استاد نے کہا: “اور یہی انسان کی اصل قوت بھی ہوسکتی ہے۔”

میں نے کہا: “لیکن یہ قوت بھی عطا ہے۔”

استاد ہنسے۔ “آپ پھر وہیں آگئے۔”

میں نے جواب دیا: “کیونکہ شاید حقیقت بھی وہیں ہے۔”

زرا دور بیٹھے ایک شاگرد نے پوچھا: “استاد ! اگر ایک لکھاری دنیا بھر کی کتابیں پڑھتا ہے ، دوسروں کے خیالات سے گزرتا ہے پھر انہیں اپنی زبان میں لکھتا ہے تو کیا اس کی تحریر واقعی اس کی اپنی کہلائے گی ؟”

میں نے کہا: “کتاب علم نہیں ، علم کی طرف لے جانے والی راہ ہے۔ ہم دوسروں کے علم سے گزرتے ہیں اسے اپنے شعور سے دیکھتے ہیں اپنے تجربے سے گزارتے ہیں اور پھر جو کچھ لکھتے ہیں وہ ہمارے لیے ایک نیا فہم بن جاتا ہے۔”

استاد نے پوچھا: “تو پھر سقراط کیوں زندہ ہے ؟”

میں نے کہا: “کیونکہ اس کے سوال آج بھی زندہ ہیں۔”

“اور اگر سوال مر جائے ؟”

“تو شاید نام باقی رہ جائے مگر زندہ تعلق ختم ہوجائے۔”

استاد نے سر ہلایا۔

“تو پھر انسان کی ایک زندگی جسم کی ہے اور دوسری خیال کی ؟”

“شاید۔”

ایک شاگرد نے گھڑی دیکھی۔

رات واقعی کافی گزر چکی تھی۔

مگر کسی نے اٹھنے کا نام نہ لیا۔

استاد نے میری طرف دیکھا اور پوچھا:

“اگر انسان دوسروں کے خیالات پڑھ کر کائنات کے بکھرے ہوئے تصورات کو اپنے شعور سے گزار کر اپنی زبان میں پیش کرتا ہے تو پھر اس کی اپنی اصل کہاں ہے ؟”

میں خاموش ہوگیا۔

استاد نے پھر پوچھا: “کیا انسان واقعی کچھ نیا تخلیق کرتا ہے یا وہ صرف ان چیزوں کو نئے ربط ، نئی زبان اور نئے معنی میں پیش کرتا ہے جو پہلے ہی کائنات میں بکھری ہوئی تھیں ؟”

یہ سوال اب صرف ہمارا نہیں تھا۔

یہ سوال آپ کا بھی ہے۔

آپ کے نزدیک تخلیق نئی چیز پیدا کرنا ہے یا موجود حقیقت کو نئے معنی دینا ؟

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیے۔

کیونکہ شاید اگلی قسط آپ کے جواب سے کھلے ( جاری ہے )