عظمیٰ بخاری کی فلک جاوید کے وکیل کے خلاف توہین عدالت درخواست پر فیصلہ محفوظ

ضلع کچہری لاہور ،صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو وائرل کرنے کا مقدمہ ،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید سمیت دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ،وکیل عظمیٰ بخاری نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر وکیل علی اشفاق نے عظمی بخاری کے ورانٹ جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا،
عدالت کو پریشر از کرنا یا دباؤ ڈالنا توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے ،عدالت فلک جاوید کے وکیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے
فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق نے توہین عدالت کی درخواست کے خلاف دلائل کا آغاز کردیا ،کہا کہ گزشتہ سماعت پر عظمی بخاری جرح پیش نہیں ہوئیں تھیں ،عدالتی احکامات کے باوجود مدعیہ عدالت پیش نہ ہو تو پھر قانون میں گنجائش ہے ورانٹ نکالنے کی ،یہ توہین عدالت کی درخواست عدالتی کاروائی کو تاخیر کرنے کی کوشش ہے ،عظمی بخاری کے وکیل علی بخاری نے توہین عدالت کی درخواست کے حق میں دلائل دیئے اور کہا کہ دباؤ سے متعلق عدالت نے اپنے گزشتہ سماعت کے فیصلے میں لکھا ہوا ہے،عدالتیں کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آیا کرتی ،یہ کہنا کہ عدالت مدعیہ کے دباؤ میں ہے سراسر غلط ہے ،عدالت فلک جاوید کے وکیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے ،کہا گیا کہ ہمیں کمرہ عدالت میں میڈیا کے ہونے پر مسئلہ ہے ،ہمیں مین سٹریم میڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ،جو سوشل میڈیا کے لوگ ایکس پر جھوٹ پھیلاتے ہیں ان سے مسئلہ ہے ،گزشتہ سماعت پر ایک یوٹیوبر نے معافی مانگی تھی،آج بھی ایک شخص کمرہ عدالت میں موجود ہے جو مسلسل جھوٹ پھیلاتا ہے ،عدالتی کاروائی کے بعد ٹویٹس ہوتے ہیں علی اشفاق نے عظمی بخاری کو ادھیڑ کر رکھ دیا ،ٹویٹس کیے جاتے ہیں میاں علی اشفاق نے عظمی بخاری کو خاموش کروا دیا،میاں علی اشفاق کو اس لیے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ چاہیے یہ انکے حق میں کمپین کرتے ہیں ،یہ جو کورٹ میں کھڑا مسکرا رہا ہے ان سے پوچھیں کیا گزشتہ سماعت پر یہ موجود تھے؟ جب میں نے نشاہدہی کی تو یہ کمرہ عدالت سے باہر بھاگ گئے تھے،باہر ہونے کے باوجود انہوں نے کون سی عدالتی کاروائی سنی ہے جس کے ٹویٹس کیے
صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو کے خلاف کیس کی سماعت ،عدالت نے عظمی بخاری کی توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،عدالت نے عظمی بخاری کی حاضری معافی کی درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا ،جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی
مزید پڑھیں





