Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کی خاموش چیخیں،ہم کب جاگیں گے؟تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، یونیفارم پہناتے ہیں، بستہ کندھے پر رکھتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا۔ مگر کیا واقعی فرض پورا ہوگیا؟

کیا ہم نے کبھی بچے کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا کہ تم محفوظ بھی ہو؟

یہ سوال بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے جواب میں ہمارے پورے معاشرے کا کردار چھپا ہوا ہے۔

بچوں کے خلاف ہراسمنٹ کوئی دور کی کہانی نہیں۔ یہ ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں، محلوں، کھیل کے میدانوں اور اب موبائل فون کی اسکرین تک پہنچ چکی ہے جہاں ایک بچہ بظاہر اپنے کمرے میں محفوظ بیٹھا ہوتا ہے، مگر کسی نامعلوم شخص کے الفاظ، پیغامات یا دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بچے اکثر بولتے نہیں۔

وہ ڈرتے ہیں۔

انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ کسی کو بتایا تو برا ہوگا، گھر میں مسئلہ بن جائے گا، لوگ کیا کہیں گے، تمہیں ہی قصوروار سمجھا جائے گا۔ اور بعض اوقات انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے۔

یہاں سے اصل المیہ شروع ہوتا ہے۔

ہم بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ بڑوں کا احترام کرو، لیکن کیا ہم انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ غلط رویے کے سامنے ’’نہیں‘‘ کہنا بھی ان کا حق ہے؟

ہم انہیں کہتے ہیں کہ اجنبیوں سے محتاط رہو، مگر کیا ہم انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ خطرہ ہمیشہ اجنبی کی شکل میں نہیں آتا؟

کبھی کبھی بچہ جس شخص سے خوف زدہ ہوتا ہے، وہی شخص گھر والوں کی نظر میں ’’قابلِ اعتماد‘‘ ہوتا ہے۔

اسی لیے بچوں کے تحفظ کی پہلی شرط صرف نگرانی نہیں، گفتگو ہے۔

والدین بچوں سے روزانہ صرف یہ نہ پوچھیں کہ ’’اسکول میں کیا پڑھا؟‘‘ کبھی یہ بھی پوچھیں:

’’آج کسی نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا؟‘‘

’’کسی کی کوئی بات تمہیں بری تو نہیں لگی؟

’’کیا کوئی ایسا شخص ہے جس کے سامنے تم خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہو؟‘‘

اور سب سے اہم:

’’اگر کبھی کوئی تمہیں ڈرائے یا غلط طریقے سے چھونے کی کوشش کرے تو تم بلاخوف مجھے بتا سکتے ہو۔‘‘

یہ جملے شاید کسی بچے کی زندگی بدل دیں۔

لیکن صرف سوال کرنا کافی نہیں۔ بچے کو یقین بھی دلانا ہوگا کہ اگر وہ کبھی کوئی تلخ حقیقت بیان کرے گا تو اسے ڈانٹ نہیں پڑے گی، اس پر الزام نہیں لگے گا اور اس کی بات کو ’’بچوں کی باتیں‘‘ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اکثر متاثرہ بچے سے سوال کرتا ہے:

’’تم وہاں گئے ہی کیوں تھے؟‘‘

’’تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘

’’تم نے منع کیوں نہیں کیا؟‘‘

ہمیں سوال بدلنے ہوں گے۔

ہمیں پوچھنا ہوگا:

’’اس بچے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟‘‘

’’اسے تحفظ کیوں نہیں ملا؟‘‘

’’ہم نے بروقت کیوں نہیں سنا؟‘‘

تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اسکول صرف کتابیں پڑھانے کی جگہ نہیں، بچوں کی شخصیت سازی اور تحفظ کی بھی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ ہر ادارے میں ایسا واضح اور محفوظ نظام ہونا چاہیے جہاں بچہ خوف کے بغیر اپنی شکایت بیان کر سکے۔ اساتذہ اور انتظامیہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی محض ضد نہیں ہوتی؛ کبھی یہ مدد کی خاموش درخواست بھی ہوسکتی ہے۔

اور پھر وہ دنیا ہے جسے ہم نے خود بچوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے—انٹرنیٹ۔

موبائل فون نے دنیا کو بچوں کے کمرے تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے فوائد اپنی جگہ، مگر آن لائن ہراسمنٹ، جعلی شناختوں، نامناسب پیغامات اور بلیک میلنگ جیسے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ والدین کو بچوں کی ڈیجیٹل زندگی سے مکمل طور پر بے خبر نہیں رہنا چاہیے۔

لیکن نگرانی کا مطلب جاسوسی بھی نہیں۔

بچے کو اعتماد کے ساتھ یہ سکھانا ہوگا کہ اگر کوئی شخص اسے نامناسب پیغام بھیجے، تصویر مانگے، دھمکائے یا کسی راز کے نام پر دباؤ ڈالے تو وہ فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اکیلا ہے۔

کیونکہ ایک ڈرا ہوا بچہ جب یہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی اس کی بات نہیں سنے گا، تو وہ خاموشی کو اپنا واحد راستہ سمجھ لیتا ہے۔

اور یاد رکھیے، خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔

کبھی خاموشی خوف ہوتی ہے۔

کبھی خاموشی شرمندگی ہوتی ہے۔

اور کبھی خاموشی مدد کے لیے ایک ایسی پکار ہوتی ہے جسے صرف حساس دل ہی سن سکتا ہے۔

ہمیں بچوں کو ’’خاموش رہنے‘‘ کی نہیں، محفوظ رہنے اور بولنے کی تربیت دینی ہوگی۔

انہیں بتانا ہوگا کہ ان کا جسم ان کی اپنی حدود رکھتا ہے، انہیں ناپسندیدہ رویے کو مسترد کرنے کا حق ہے، اور کسی بھی نامناسب واقعے کی ذمہ داری بچے پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

معاشرے کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ کسی بچے کی حفاظت سے بڑھ کر خاندان کی نام نہاد عزت، لوگوں کی باتیں یا سماجی دباؤ نہیں ہوسکتا۔

عزت خاموشی میں نہیں، حفاظت میں ہے۔

اگر کسی بچے کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو اسے خاموش کر دینا مسئلے کو ختم نہیں کرتا، صرف مجرم کے لیے راستہ آسان کرتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں سے صرف محبت کا اظہار نہ کریں، انہیں محفوظ ہونے کا یقین بھی دیں۔

انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں کم از کم ایک ایسا دروازہ ضرور ہے جہاں وہ خوف کے بغیر دستک دے سکتے ہیں؛ جہاں ان کی بات سنی جائے گی، جہاں ان پر یقین کیا جائے گا اور جہاں انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔

کیونکہ بچے صرف ہمارے مستقبل نہیں ہوتے۔

وہ ہمارا آج بھی ہوتے ہیں۔

اور اگر آج ہم ان کی خاموش چیخیں نہ سن سکے تو کل شاید ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے۔

بچے ہماری ملکیت نہیں، ہماری امانت ہیں۔

اور امانت کی پہلی شرط محبت نہیں—حفاظت ہے۔