یونہی گڑیوں سے ہی گھر کو سجانا آئے،
پھر وہی چوٹیوں والا زمانہ آئے!
ماں کے دوپٹے سے ہی دلہن سا بن جانا،
آئینے میں خود کو ہی دیکھ کر شرمانا آئے!
پاپا لاتے تھے جو چوڑیاں رنگ برنگی،
پھر وہی ہاتھوں میں چھن چھن بجانا آئے!
سہیلیوں سنگ آنگن میں لکیریں کھینچنا،
چھپن چھپائی میں سب کو ہرانا آئے!
اسکول کی چھٹی پہ بارش میں بھیگنا،
کاغذ کی کشتی پہ دنیا بہانا آئے!
اب تو جھمکے ہیں، مہندی ہے، بڑی ہو گئی ہوں،
پھر بھی دل چاہے وہی بچپن پرانا آئے!
بستوں میں الجھا ہے اب میرا بچپن سارا،
کاش وہ گزرا ہوا وقت عمر بھر کو لوٹ آئے!
مزید پڑھیں






