بیٹی ہونا جرم کب سے ہو گیا؟ تحریر: شمسہ رانی
نقطہ نظر
کبھی کبھی کسی گھر کی خاموش دیواریں وہ چیخیں اپنے اندر جذب کر لیتی ہیں جنہیں سننے کے لیے پوری انسانیت کو رک جانا چاہیے۔ کبھی ایک عورت کے آنسو صرف اس کی ذاتی تکلیف نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوال بن کر گرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر بیٹی ہونا جرم کب سے ہو گیا؟
ایک عروج تھی… ایک بیٹی کی ماں، اور ایک آنے والی بیٹی کی منتظر۔ اللہ نے اسے دوبارہ ماں بننے کی خوشخبری دی تھی۔ مگر اس خوشخبری میں بھی اسے سکون نصیب نہ ہوا۔ سسرال کے مسلسل دباؤ پر اسے الٹراساؤنڈ کروانا پڑا۔ لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش متوقع ہے۔
عروج نے کانپتے ہوئے دل کے ساتھ یہ خبر اپنے شوہر کو سنائی۔ شاید اسے امید تھی کہ وہ مسکرائے گا، شاید وہ کہے گا کہ اللہ نے ہمیں ایک اور رحمت سے نوازا ہے۔ مگر خبر سنتے ہی اس کا شوہر آپے سے باہر ہو گیا۔ اس کے الفاظ میں غصہ تھا، لہجے میں نفرت اور رویے میں وہ درندگی جس کے سامنے رشتوں کی تمام حرمتیں دم توڑ گئیں۔
"پہلے بھی بیٹی ہوئی ہے، اب دوبارہ بیٹی؟"
یہ سوال دراصل صرف ایک شوہر کا سوال نہیں تھا، یہ اس ذہنیت کی تصویر تھی جو آج بھی بیٹی کو نعمت نہیں، بوجھ سمجھتی ہے۔
پھر عروج پر تشدد شروع کر دیا گیا۔ وہ عورت جس کے وجود میں پانچ ماہ کی ایک معصوم زندگی سانس لے رہی تھی، خود بھی مار کھاتی رہی اور اس کے پیٹ میں پلنے والی بچی بھی خطرے میں پڑتی رہی۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ آس پاس موجود لوگ تماشائی بنے رہے۔ کسی نے آگے بڑھ کر اسے بچانے کی کوشش نہ کی۔ شاید سب نے سمجھا کہ یہ "گھریلو معاملہ" ہے۔
مگر گھریلو تشدد کبھی گھریلو معاملہ نہیں ہوتا۔ جہاں ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرے، وہاں خاموشی بھی معاشرتی ذمہ داری سے فرار بن جاتی ہے۔
رات کے تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر عروج نے اپنی ماں سے رابطہ کیا۔ ماں کو جب بیٹی کی حالت کا علم ہوا تو وہ فوراً اسے لینے پہنچ گئی۔ ایک ماں شاید دنیا کی واحد ہستی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کی آواز میں چھپی ہوئی چیخ بھی سن لیتی ہے۔
عروج کے والد بھی اسے لے کر سول ہسپتال پہنچے۔ وہاں ایک باپ نے جب اپنی بیٹی کی حالت دیکھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس کے سامنے وہی بیٹی تھی جسے کبھی اس نے پھولوں کی طرح سنبھالا تھا، مگر تشدد نے اس کے چہرے کو اس قدر زخمی اور سوجا دیا تھا کہ ایک لمحے کے لیے باپ کے لیے اپنی ہی بیٹی کو پہچاننا مشکل ہو گیا۔
یہ منظر صرف ایک باپ کی بے بسی نہیں تھا، یہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر پڑا ہوا ایک ایسا آئینہ تھا جس میں ہماری اجتماعی بے حسی صاف دکھائی دیتی ہے۔
اور اس تمام ظلم کی بنیاد صرف ایک تھی: بیٹی۔
آخر کیوں؟
بیٹی کا فیصلہ کسی عورت کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اولاد اللہ کی عطا ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں زندگی کی وہ امانت ہیں جنہیں دنیا میں انے کا حق حاصل ہے۔ قران نے بیٹیوں کے بارے میں اس معاشرتی رویے کو سختی سے رد کیا ۔جس میں ان کی پیدائش کو باعث عار سمجھا جاتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش اور حسن سلوک کو باعث اجر قرار دیا۔ پھر ہم کس بنیاد پر بیٹی کی پیدائش پر ماں کو مجرم سمجھ لیتے ہیں ؟
ایک عورت کو اس لیے مارنا کہ اس کے بدن میں بیٹی پل رہی ہے ۔صرف عورت پر تشدد ہی نہیں ایک انے والی زندگی کے خلاف بھی ظلم ہے۔ یہ اس ننھی ہستی کے حق پر حملہ ہے ۔جس نے ابھی دنیا کی روشنی بھی نہیں دیکھی۔
ہم بیٹیوں کو اکثر رحمت کہہ کر اپنی تقریروں اور تحریروں میں یاد کرتے ہیں۔ مگر اصل امتحان تب اتا ہے جب کسی گھر میں واقعی بیٹی پیدا ہونے والی ہو ۔کیا اس وقت بھی چہرے پر مسکراہٹ رہتی ہے ؟ کیا گھر میں دعا کے ہاتھ اٹھتے ہیں۔ کیا باپ اپنی بیٹی کے استقبال کی تیاری کرتا ہے ۔یا پھر خاموشی ،افسوس اور الزام کے سائے گھر میں اتر اتے ہیں؟
۔ بیٹی کسی ماں کی ناکامی نہیں۔
عورت اولاد کی جنس کا انتخاب نہیں کرتی۔
اور کسی انسان کو یہ حق نہیں کو اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر ایک عورت کے جسم کو تشدد کا نشانہ بنائے۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف محبت نہیں تحفظ بھی دینا ہوگا ۔ہمیں اپنی عورتوں کو صرف عزت کے الفاظ نہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی دینا ہوگا۔ ہمیں ان گھروں کی خاموشی توڑنی ہوگی۔ جہاں تشدد خاندانی معاملہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عروج کی کہانی یہاں ختم نہیں ہونی چاہیے ۔اس واقعے کو صرف ایک خبر بن کر اخبار کے کسی صفحے پر دفن نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ہمارے اجتماعی شعور کا سوال بننا چاہیے ۔کیونکہ اج عروج ہے کل کوئی اور ہو سکتی ہے۔ اج اس کے پیٹ میں ایک بیٹی ہے کل شاید ہماری اپنی بیٹی کسی ایسے ظلم کے سامنے کھڑی ہو۔
ائیے بیٹی کی پیدائش پر ماتم نہیں مسکراہٹ سیکھیے۔ عورت کے انسوں کو کمزوری نہیں ،ایک فریاد سمجھیں ۔ اور جب کہیں کسی عورت پر ہاتھ اٹھے تو یہ سوچ کر خاموش نہ رہے کہ یہ ان کا گھریلو معاملہ ہے۔ نہیں جہاں ظلم ہو وہ انسانیت کا معاملہ ہوتا ہے۔ بیٹی اللہ کی عطا ہے بوجھ نہیں
اور کسی بیٹی کا دنیا میں انا جرم نہیں۔
جرم تو یہ ہے کہ ہم اسے جرم سمجھنے والی سوچ کے خلاف اواز نہ اٹھائیں۔





