(عورت کی زبانی)
میری پہچان صرف ایک نام یا چہرہ نہیں ہے۔ نہ ہی میری ذات کسی ایک رشتے، ایک کردار یا ایک ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔ میری پہچان تو ان بے شمار احساسات، قربانیوں، دعاؤں، خوابوں اور خاموش جدوجہد سے مل کر بنی ہے، جنہیں شاید دنیا ہمیشہ دیکھتی نہیں مگر میں ہر روز انہیں جیتی ہوں۔
میں عورت ہوں۔
ایک ایسی عورت جس کی کہانی شاید ہر گھر میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔ کہیں میں بیٹی ہوں، کہیں بہن، کہیں بیوی، کہیں ماں، کہیں استاد، کہیں ڈاکٹر، کہیں مزدور اور کہیں اپنے خوابوں کے لیے خاموشی سے جدوجہد کرتی ہوئی ایک عام سی عورت ہوں۔
مگر کیا میں واقعی عام ہوں؟
نہیں!
کیونکہ میری خاموشی کے پیچھے بھی ایک داستان ہے۔ میری مسکراہٹ کے پیچھے بھی کئی آنسو ہیں۔ اور میری مضبوطی کے پیچھے بھی نہ جانے کتنی دعائیں چھپی ہیں۔ میں بیٹی ہوں تو والدین کے گھر کی رونق ہوں۔ میری ہنسی سے صحن آباد ہوتا ہے، اور میری موجودگی سے گھر میں ایک عجیب سی زندگی محسوس ہوتی ہے۔ میں اپنے باپ کی آنکھوں کا خواب اور اپنی ماں کے دل کی دعا ہوتی ہوں۔ پھر ایک دن مجھے اسی گھر سے رخصت ہونا پڑتا ہے، جس کی دیواروں سے میری یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ میں مسکراتے ہوئے رخصت ہوتی ہوں مگر اپنے دل کا ایک حصہ وہیں چھوڑ آتی ہوں۔ میں بہن ہوں تو بھائیوں کے لیے محبت کا ایک ایسا رشتہ ہوں، جس کی قیمت شاید وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ میں کبھی ان کی شرارتوں کی ساتھی بنتی ہوں۔ کبھی ان کی رازدار اور کبھی ان کی کامیابیوں پر سب سے زیادہ خوش ہونے والی شخصیت ہوتی ہوں۔ میری دعائیں شاید ان تک لفظوں کی صورت نہ پہنچیں مگر میرے دل میں ان کے لیے ہمیشہ خیر ہی رہتی ہے۔
پھر میں بیوی بنتی ہوں۔
یہاں سے میری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔ میں اپنے گھر، اپنی عادتوں، اپنی خواہشوں اور اپنے کئی خوابوں کو ایک نئے گھر کے ساتھ جوڑ دیتی ہوں۔ میں صرف ایک گھر میں داخل نہیں ہوتی ہوں۔ بلکہ یہاں میں ایک نئے خاندان کا حصہ بن جاتی ہوں۔ کبھی مجھے سمجھنا پڑتا ہے۔ کبھی سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اپنے دل کی بات دل ہی میں رکھنی پڑتی ہے۔ لیکن سمجھوتا میری کمزوری نہیں ہے۔ بسا اوقات رشتوں کو نبھانے کے لیے اپنے نفس کو پیچھے رکھ دینا بھی ایک ہنر ہوتا ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت سے ہر بار خاموشی، قربانی اور برداشت کی توقع رکھنا انصاف نہیں ہے۔
عورت بھی انسان ہے۔ اس کے بھی احساسات ہیں، خواب ہیں، پسند ناپسند ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس کا بھی ایک دل ہے، جسے عزت اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پھر جب میں ماں بنتی ہوں تو میری ذات جیسے ایک نئی دنیا بن جاتی ہے۔ میری گود میں پلنے والی ننھی سی جان میرے لیے صرف ایک بچہ نہیں ہوتی ہے۔ وہ میری دعاؤں کا جواب، میری امید اور میرے وجود کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ میں اس کی پہلی استاد بنتی ہوں۔ وہ مجھ سے بولنا، چلنا، محبت کرنا اور زندگی کو سمجھنا سیکھتا ہے۔
میں راتوں کی نیند قربان کرتی ہوں، اپنی خواہشیں مؤخر کرتی ہوں، اس کے معمولی سے بخار پر بے چین ہوتی ہوں۔ اور اس کی کامیابی پر یوں خوش ہوتی ہوں جیسے پوری دنیا جیت لی ہو۔ ماں بننا شاید عورت کی زندگی کا سب سے خوبصورت کردار ہے مگر ماں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عورت اپنی ذات ہی بھول جائے۔ اس کے بھی کچھ خواب ہوتے ہیں۔ کچھ ادھورے ارمان ہوتے ہیں۔
کبھی وہ بھی چاہتی ہے کہ کوئی اس سے پوچھے:
"تم کیسی ہو؟"
صرف یہ نہیں کہ گھر کیسا ہے، بچے کیسے ہیں، شوہر کیسے ہیں، سب کے کام ہوئے یا نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ کیسی ہے؟ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے؟ وہ کس بات سے خوش ہے اور کس بات نے اسے اندر سے توڑ دیا ہے؟
عورت اکثر سب کا خیال رکھتے رکھتے خود کو بھول جاتی ہے۔ وہ سب کے آنسو پونچھتی ہے مگر اپنے آنسو چھپا لیتی ہے۔ سب کو آسانیاں دیتی ہے مگر اپنی تھکن کو معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے۔
اور شاید یہی اس کی خاموش جدوجہد ہے۔
لیکن میری پہچان صرف میرے رشتوں تک محدود نہیں ہے۔
میں صرف کسی کی بیٹی، بہن، بیوی یا ماں نہیں ہوں۔
میں اپنی ذات بھی ہوں۔
میرے اپنے خواب ہیں۔ میرے اپنے خیالات ہیں۔ میرے اندر صلاحیتیں ہیں۔ میں سیکھ سکتی ہوں، آگے بڑھ سکتی ہوں، اپنے ہنر کو پہچان سکتی ہوں۔ اور میں اس معاشرے کے لیے اپنا کردار بھی ادا کر سکتی ہوں۔ میں استاد بن کر نسلوں کو شعور دے سکتی ہوں۔ میں ڈاکٹر بن کر کسی کی زندگی بچا سکتی ہوں۔ میں قلم اٹھا کر معاشرے کے مسائل بیان کر سکتی ہوں۔ میں کاروبار کر کے اپنے گھر کا سہارا بن سکتی ہوں۔ میں سائنس، تعلیم، ادب، طب، صحافت، خدمتِ خلق اور بے شمار شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتی ہوں۔ میں سپاہی بن کر وطن کی حفاظت کر سکتی ہوں۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے بھی اپنے معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہوں۔ میری صلاحیت کا تعلق میرے جنس سے نہیں، میری محنت، قابلیت اور کردار سے ہے۔
پھر بھی افسوس کہ آج بھی کہیں نہ کہیں عورت کو اس کی ذات سے نہیں، صرف اس کے ظاہری حلیے، ازدواجی حیثیت یا گھریلو کردار سے پہچاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر وہ گھر سنبھالے تو کہا جاتا ہے کہ وہ صرف گھر تک محدود ہے۔ اگر وہ باہر نکل کر کام کرے تو اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اگر وہ خاموش رہے تو اسے کمزور سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے بدتمیز کہا جاتا ہے۔ آخر عورت کرے تو کرے کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو کسی ایک سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہر عورت کی زندگی مختلف ہے۔ کسی کی خوشی گھر سنبھالنے میں ہے، کسی کی تعلیم حاصل کرنے میں، کسی کی ملازمت میں، کسی کی خدمتِ خلق میں اور کسی کی قلم سے معاشرے کو جگانے میں ہے۔ عورت کی قدر اس بات سے نہیں ہونی چاہیے، کہ وہ دنیا کے بنائے ہوئے کسی معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں اترتی ہے۔ اسے اس لیے عزت ملنی چاہیے کہ وہ ایک مکمل انسان ہے۔ میری پہچان میرے لباس سے پہلے میرے کردار میں ہے۔ میری پہچان میری ظاہری خوبصورتی سے پہلے میرے اخلاق میں ہے۔میری پہچان میری آواز کی بلندی میں نہیں، میرے الفاظ کی سچائی میں ہے۔
میری پہچان اس بات میں نہیں کہ دنیا مجھے کس نظر سے دیکھتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ میں اپنے رب کے سامنے کیا ہوں۔
میں اپنی خامیوں کے باوجود مکمل انسان ہوں۔
مجھے غلطی کرنے کا بھی حق ہے، سیکھنے کا بھی، آگے بڑھنے کا بھی اور دوبارہ کھڑے ہونے کا بھی پورا حق ہے۔ میں گر سکتی ہوں مگر دوبارہ اٹھ سکتی ہوں۔
میں رو سکتی ہوں مگر آنسو پونچھ کر مسکرا بھی سکتی ہوں۔ میں تھک سکتی ہوں مگر آرام کے بعد پھر سفر شروع کر سکتی ہوں۔
مجھے ہمیشہ مضبوط دکھائی دینا ضروری نہیں ہے۔ کبھی کبھی کمزور پڑ جانا بھی انسان ہونے کی علامت ہے۔ اور ہاں، میری خاموشی کو ہمیشہ میری رضامندی نہ سمجھا جائے۔ کبھی میں اس لیے بھی خاموش ہوتی ہوں کہ رشتہ بچانا چاہتی ہوں۔
کبھی اس لیے کہ سامنے والے کو تکلیف نہیں دینا چاہتی ہوں۔ کبھی اس لیے کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہوتے ہیں۔
اور کبھی اس لیے کہ میں جانتی ہوں، کچھ باتیں کہنے کے بجائے اللہ کے سپرد کر دینا زیادہ سکون دیتا ہے۔
میں عورت ہوں۔
میں وہ ہوں جو اپنے حصے کی دھوپ سہہ کر دوسروں کے لیے سایہ بن جاتی ہے۔
میں وہ ہوں جو خود بھوکی رہ کر بچوں کا پیٹ بھر دیتی ہے۔ میں وہ ہوں جو اپنی پریشانی چھپا کر گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ لاتی ہے۔
میں وہ ہوں جو اپنی دعاؤں میں دوسروں کو یاد رکھتی ہے اور کبھی کبھی خود کے لیے دعا کرنا بھول جاتی ہے۔
مگر اب میری پہچان صرف میری قربانی نہیں ہوگی۔
میں قربانی بھی ہوں اور خواب بھی ہوں۔
میں محبت بھی ہوں اور خودداری بھی ہوں۔
میں نرمی بھی ہوں اور حوصلہ بھی ہوں۔
میں رشتہ بھی ہوں اور اپنی الگ شناخت بھی ہوں۔
مجھے کسی سے مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ مجھے کسی کو نیچا دکھا کر بلند نہیں ہونا ہے۔ میری جدوجہد کسی کے خلاف نہیں، بلکہ اپنی ذات کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی اگر خواب دیکھے تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا عورت کو کمزور نہیں بلکہ ایک قابلِ احترام انسان سمجھے۔
میں چاہتی ہوں کہ گھر میں بیٹی کی آواز بھی سنی جائے اور بیٹے کو بھی ذمہ داری، احترام اور احساس سکھایا جائے۔ کیونکہ ایک بہتر معاشرہ صرف عورت کو بدلنے سے نہیں بنتا ہے، بلکہ مرد اور عورت دونوں کو اپنے رویوں پر غور کرنا ہوتا ہے۔
عورت کو عزت دینے کا مطلب اسے کسی بلند مقام پر رکھ کر اس کی زندگی مشکل بنانا نہیں ہے، بلکہ اسے انسان سمجھنا ہے۔
اس کے احساسات کو اہمیت دینا ہے۔ اس کی رائے سننا ہے۔ اس کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ اور اسے اس کے کردار، محنت اور انسانیت کی بنیاد پر پہچاننا ہے۔
تو پھر میری پہچان کیا ہے؟
کیا میں صرف کسی کی بیٹی ہوں؟
کسی کی بہن؟
کسی کی بیوی؟
کسی کی ماں؟
نہیں!
یہ سب میرے خوبصورت رشتے ہیں۔ میری زندگی کا حصہ ہیں مگر میری مکمل پہچان نہیں ہے۔ میری پہچان یہ ہے کہ میں ایک انسان ہوں۔ ایک ایسی انسان جو محبت کرنا جانتی ہے۔ دکھ سہنا جانتی ہے۔ معاف کرنا جانتی ہے۔ سیکھنا جانتی ہے۔ گر کر اٹھنا جانتی ہے۔ اور اپنے رب پر بھروسا رکھنا جانتی ہے۔
میں عورت ہوں۔
میں زندگی کے رنگوں میں ایک اہم رنگ ہوں۔ میں خود میں ایک مکمل وجود رکھتی ہوں۔ میں محبت کی علامت ہوں مگر میری شناخت صرف محبت کرنے تک محدود نہیں ہے۔ میں قربانی دے سکتی ہوں مگر میری ذات صرف قربانی کے لیے نہیں بنی ہے۔
میری پہچان میرا وقار ہے۔
میری پہچان میرا کردار ہے۔
میری پہچان میری ہمت ہے۔
میری پہچان میری دعا ہے۔
میری پہچان میری محنت ہے۔
میری پہچان میری خودداری ہے۔
اور سب سے بڑھ کر۔۔۔۔۔
میری پہچان یہ ہے کہ میں اللہ کی بنائی ہوئی ایک ایسی مخلوق ہوں جسے اس نے احساس، شعور، محبت اور اختیار عطا کیا ہے۔
میں عورت ہوں۔
اور مجھے اپنی پہچان کے لیے کسی اور کی تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔
میں خود اپنی پہچان ہوں۔
مزید پڑھیں






