بت بدل گئے، سجدے کے انداز بدل گئے،تحریر:طارق نوید سندھو
نقطہ نظر
کیا ہم سب مشرک ہیں؟؟
بت بدل گئے، سجدے کے انداز بدل گئے!
ہم اکثر مشرک کا تصور کرتے ہی کسی بت کے سامنے جھکے ہوئے انسان کا تصور کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ شرک صرف پتھر کے بت کے سامنے سجدہ کرنے کا نام ہے، مگر ذرا اپنے اردگرد دیکھیے، اپنے معاشرے کو پڑھیے اور اپنے دل میں جھانکیے تو محسوس ہوتا ہے کہ زمانہ بدلنے کے ساتھ بتوں کی شکلیں بھی بدل گئی ہیں۔
آج بت پتھر کے نہیں، مفادات کے ہیں۔
آج انسان دولت، اقتدار، شہرت، شخصیت پرستی اور دنیاوی مفاد کے سامنے اپنی عزت، اصول اور ضمیر تک جھکا دیتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر دنیاوی محبت، ہر گناہ یا ہر مفاد پرستی کو شرک کہنا درست نہیں۔ شرک عقیدے کا انتہائی سنگین معاملہ ہے اور کسی شخص کو مشرک قرار دینا عام آدمی کا اختیار نہیں۔ اصل ضرورت دوسروں پر فتویٰ لگانے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص دولت مند کے سامنے اپنا اصول بدل لیتا ہے، طاقتور کے سامنے خاموش ہو جاتا ہے اور صاحبِ اقتدار کے غلط فیصلے کو بھی درست ثابت کرنے لگتا ہے، لیکن کمزور کے سامنے قانون اور اصولوں کے لمبے لیکچر دیتا ہے۔
یہ تضاد ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
ہم اللہ سے رزق مانگتے ہیں، مگر بعض اوقات رزق دینے والے سے زیادہ رزق کے وسیلے کو اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ اللہ پر توکل کی بات کرتے ہیں، لیکن طاقتور انسان کی ناراضی سے اس قدر خوفزدہ ہوتے ہیں کہ حق بات زبان پر نہیں آتی۔
ہم کہتے ہیں کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن عملی زندگی میں عزت کے لیے انسانوں کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں اور دنیاوی نقصان کے خوف سے اپنے ضمیر کو خاموش کر دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بھی اس صورتِ حال کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ چند لائکس، کمنٹس اور تعریفیں بعض اوقات انسان کے لیے اپنی ذات کا پیمانہ بن جاتی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی، لباس، تعلقات، خیرات حتیٰ کہ عبادت تک نمائش کے لیے پیش کرنے لگتے ہیں۔ مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، مسئلہ نیت اور مقصد ہے۔ جب لوگوں کی داد انسان کے لیے اللہ کی رضا سے زیادہ اہم ہو جائے تو اسے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
ہماری سیاست میں شخصیت پرستی، معاشرت میں دولت پرستی، کاروبار میں مفاد پرستی اور سوشل میڈیا پر شہرت پرستی اگر انسان کو حق و باطل کی تمیز بھلا دیں تو یہ معاشرے کے لیے خطرے کی علامت ہے۔
ہم دوسروں کے عقیدے پر سوال اٹھانے میں بہت تیز ہیں، مگر اپنے کردار کا حساب کرنے میں بہت سست۔
ہم کسی دوسرے کے لباس میں دین تلاش کرتے ہیں، مگر اپنے معاملات میں دیانت تلاش نہیں کرتے۔ دوسروں کی نماز گنتے ہیں، مگر اپنی زبان سے نکلنے والے جھوٹ بھول جاتے ہیں۔ دوسروں کو دین کا درس دیتے ہیں، مگر یتیم کا حق، مزدور کی اجرت، کمزور کی عزت اور امانت کی حفاظت نظر انداز کر دیتے ہیں۔
شاید آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت دوسروں کو مشرک تلاش کرنے کی نہیں، اپنے اندر کے بت تلاش کرنے کی ہے۔
وہ بت جو ہمیں تکبر سکھاتا ہے، حرام کمائی پر خاموش رکھتا ہے، طاقتور کے سامنے جھکا دیتا ہے اور غریب سے بے رخی جبکہ امیر سے خوشامد سکھاتا ہے۔
سب سے خطرناک بت شاید وہ ہے جو انسان کو یہ یقین دلا دے کہ غلطی ہمیشہ دوسروں میں ہے، مجھ میں نہیں۔
دین ہمیں دوسروں کے ایمان کا ٹھیکیدار بننے کے بجائے اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے کسی فرد کو مشرک قرار دینے کے بجائے ہمیں اپنے معاشرے میں پھیلتی ہوئی دولت پرستی، اقتدار پرستی، شخصیت پرستی اور نمود و نمائش پر غور کرنا چاہیے۔
بتوں کی شکلیں بدل سکتی ہیں، زمانہ بدل سکتا ہے، انسان کے رہن سہن کے انداز بدل سکتے ہیں، مگر اللہ کی بندگی کا اصول نہیں بدلتا۔
آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ "مشرک کون ہے؟"
بلکہ یہ ہے کہ میرے دل کے تخت پر سب سے اوپر کون بیٹھا ہے؟
اگر جواب اللہ تعالیٰ ہے تو پھر ہمارے قول و عمل کو بھی اسی جواب کی گواہی دینی چاہیے
مزید پڑھیں





