چھوٹے شہروں میں صحت سہولیات کا بحران،تحریر: انجینیئر علی رضوان چودھری
نقطہ نظر
صحت کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت اور ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے چھوٹے شہروں اور تحصیلوں میں صحت کے شعبے کو آج بھی وہ توجہ حاصل نہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پیرمحل کو تحصیل کا درجہ ملے ایک دہائی گزر چکی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتظامی طور پر تحصیل بن جانے سے عوام کے مسائل بھی حل ہو گئے؟ اگر ہم صحت کے شعبے پر نظر ڈالیں تو صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پیرمحل شہر اور اس سے ملحقہ سینکڑوں دیہات کے لاکھوں افراد کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بنیادی طبی سہولیات کے حوالے سے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے، مگر شہریوں کی شکایات کے مطابق ہسپتال میں اب بھی متعدد ایسی سہولیات کا فقدان ہے جو ایک بڑے آبادی والے علاقے کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہیں۔
پیرمحل صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک وسیع علاقے کا مرکز ہے۔ اردگرد کے دیہات سے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ علاج معالجے کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ کسی گھر میں اچانک دل کا مریض ہو جائے، کسی حادثے میں زخمی ہو جائے، کسی مریض کو فوری ڈائلسز کی ضرورت پیش آ جائے یا کسی خاتون کو پیچیدہ طبی صورتحال کا سامنا ہو تو اہل خانہ کے لیے سب سے اہم چیز بروقت علاج ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر بنیادی طبی سہولت مقامی سطح پر دستیاب نہ ہو تو مریض کو دوسرے شہر منتقل کرنا پڑتا ہے، اور یہی تاخیر بعض اوقات زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔
خاص طور پر ایمرجنسی اور ٹراما کی سہولت انتہائی اہم ہے۔ سڑکوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے باعث فوری طبی امداد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ حادثے کے بعد ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اگر مریض کو بروقت طبی امداد، ضروری ٹیسٹ، ماہر ڈاکٹر، آپریشن کی سہولت اور دیگر طبی خدمات مقامی سطح پر میسر نہ ہوں تو اسے بڑے شہر کے ہسپتال منتقل کرنا ایک اضافی مشکل بن جاتا ہے۔ ایمبولینس کے سفر، فاصلے اور سڑک کی صورتحال کے دوران قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔
اسی طرح دل کے مریضوں کے لیے کارڈیالوجی کی سہولت ایک اہم ضرورت ہے۔ دل کے امراض میں مبتلا مریض کو فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر مریض کے لیے فیصل آباد یا کسی دوسرے بڑے شہر کا سفر کرنا آسان نہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے سفری اخراجات، مریض کے ساتھ جانے والے افراد کے اخراجات اور علاج کی اضافی لاگت ایک الگ بوجھ بن جاتی ہے۔
ڈائلسز کے مریضوں کی مشکلات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گردوں کے مریضوں کو باقاعدگی سے ڈائلسز کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ان کے لیے مسلسل دوسرے شہر کا سفر جسمانی، ذہنی اور مالی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر پیرمحل جیسے بڑے آبادی والے علاقے میں مناسب ڈائلسز سینٹر دستیاب ہو تو نہ صرف مریضوں کو سہولت مل سکتی ہے بلکہ ان کے خاندانوں پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک ہسپتال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے علاقے کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر کسی علاقے کی آبادی بڑھ رہی ہو، اردگرد کے دیہات بھی اسی طبی مرکز پر انحصار کرتے ہوں اور پھر بھی صحت کی سہولیات آبادی کی ضروریات کے مطابق نہ بڑھائی جائیں تو یہ ایک سنجیدہ انتظامی چیلنج ہے۔ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پیرمحل تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی ضروریات کا جامع سروے کیا جائے۔ ہسپتال میں ایمرجنسی سروسز کو مزید مؤثر بنایا جائے، ٹراما سینٹر کو فوری طور پر فنکشنل کیا جائے دل کے مریضوں کے لیے مناسب کارڈیالوجی سہولت فراہم کی جائے، ڈائلسز سینٹر قائم کیا جائے، ضروری تشخیصی مشینری فراہم کی جائے اور ماہر ڈاکٹرز و طبی عملے کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی مسلسل فراہمی اور مریضوں کے لیے مناسب سہولیات بھی ضروری ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ صحت کی سہولیات صرف عمارت بنانے کا نام نہیں۔ جدید ہسپتال کے لیے عمارت کے ساتھ تربیت یافتہ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف، جدید آلات، لیبارٹری، تشخیصی سہولیات، ادویات، صفائی اور مؤثر انتظامی نظام بھی ضروری ہے۔ اگر عمارت موجود ہو لیکن ضروری سہولیات اور عملہ نہ ہو تو عوام کو اس کا حقیقی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔
پیرمحل کے شہریوں کا مطالبہ کسی غیر معمولی آسائش کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت کا ہے۔ ایک ایسا شخص جو ٹیکس ادا کرتا ہے، ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اور ریاستی نظام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، اسے یہ حق حاصل ہے کہ بیماری یا حادثے کی صورت میں اسے اپنے شہر میں بروقت طبی امداد مل سکے۔
چھوٹے شہروں کی محرومی دراصل پورے ملک کی محرومی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بڑے شہروں پر ہسپتالوں کا بوجھ کم ہو، شہریوں کو بروقت علاج ملے اور صحت مند معاشرہ تشکیل پائے تو ضروری ہے کہ تحصیل اور ضلعی سطح پر صحت کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ حکومت، منتخب نمائندگان، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو پیرمحل کے عوام کی آواز سننی چاہیے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
پیرمحل کو تحصیل کا درجہ ملنے کے دس سال بعد اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامی حیثیت کے ساتھ صحت کی سہولیات بھی حقیقی معنوں میں تحصیل کے شایانِ شان ہوں۔ عوام کو صرف وعدے نہیں، عملی سہولیات درکار ہیں۔ ایک ایمرجنسی وارڈ، ایک ٹراما سینٹر، کارڈیالوجی اور ڈائلسز جیسی بنیادی طبی سہولیات کسی بھی بڑے آبادی والے علاقے کے لیے عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ اگر پانچ لاکھ کے قریب آبادی اور سینکڑوں دیہات کے لیے موجود واحد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم رہے تو عام شہری اپنے علاج کے لیے کہاں جائے؟
یہ سوال پیرمحل کے ہر شہری کا سوال ہے، اور اس کا جواب محض الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں ملنا چاہیے۔
مزید پڑھیں





