ہم سب مر چکے ہیں، بس دفن ہونا باقی،تحریر:سید آزاد گیلانی
نقطہ نظر
صبح ہوتی ہے۔
ہم آنکھ کھولتے ہیں، مگر جاگتے نہیں۔
ہاتھ بے اختیار موبائل تک جاتا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا ہماری ہتھیلی پر آ جاتی ہے؛ کسی کی کامیابی، کسی کی محبت، کسی کی دولت، کسی کا سفر، کسی کی موت۔ ہم ہر خبر دیکھتے ہیں، مگر شاید ہی کسی خبر کو محسوس کرتے ہیں۔
یہی ہمارے ڈیجیٹل عہد کا المیہ ہے: ہم رابطوں کے ہجوم میں اجتماعی بے حسی، بڑھتی ہوئی تنہائی اور زندگی سے حقیقی ربط کے فقدان کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنے حصے کی زندگی سے بدظن ہوتے ہیں، کسی کی خوشی پر خاموش حسد کرتے ہیں، کسی کی موت پر چند لمحے ٹھہرتے ہیں اور پھر انگلی اسکرین پر پھیر دیتے ہیں۔
اگلی خبر۔
اگلی تصویر۔
اگلی ویڈیو۔
اور زندگی… کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
ہم ہنستے بہت ہیں، مگر کبھی کبھی دل سے ہنسنے کی تاریخ یاد نہیں رہتی۔ ہم روتے بھی ہیں، مگر اب آنسو آنکھوں سے کم اور اسٹیٹس سے زیادہ بہتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم خوش ہیں یا غمگین۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم اب بھی محسوس کرنے کے قابل ہیں؟
ہمارے بزرگوں کے زمانے میں کسی کے مرنے کی خبر گھر کا ماحول بدل دیتی تھی۔ ایک جنازہ محلے کی خاموشی بن جاتا تھا۔ کسی اجنبی کے دکھ پر بھی دل ٹھہر جاتا تھا۔
مگر ہم نے غزہ میں ملبے تلے دبی ایک لاشیں، سڑک پر بکھرا ہوا ایک حادثہ، کسی گھر کا اجڑ جانا، کسی عورت کی بے بسی، کسی بچے کا رونا—سب ہماری اسکرین پر آتا ہے، چند سیکنڈ ٹھہرتا ہے، پھر ایک انگلی اسے ہٹا دیتی ہے۔
اگلی خبر۔
ہم بے حس نہیں ہوئے؛ شاید ہم مسلسل دکھ دیکھ دیکھ کر اندر سے سن ہو گئے ہیں۔
یہ سن پن خطرناک ہے۔
کیونکہ انسان کا سب سے بڑا المیہ مر جانا نہیں، محسوس کرنا چھوڑ دینا ہے۔
ہم تاریخ کی شاید سب سے مصروف نسل ہیں۔
ہم ہر وقت آن لائن ہیں، مگر ایک دوسرے سے آف لائن۔
ہم نے رابطے بڑھائے، تعلقات کم کیے۔
ہم نے دوستوں کی تعداد بڑھائی، دوستیاں کم کر دیں۔
ہم نے معلومات کے ڈھیر لگا دیے، مگر شعور کی ایک منزل بھی طے نہ کی۔
ہم نے تصویریں محفوظ کیں، لمحے نہیں۔
ہم نے سکرین شاٹس سنبھالے، یادیں نہیں۔
ہم نے سٹیٹس لگائے، مگر اپنی اصل کیفیت چھپا لی۔
ہمارے موبائل میں سینکڑوں، شاید ہزاروں نام ہیں؛ مگر سوال یہ ہے کہ اگر آج ہمیں چار کندھوں کی ضرورت پڑ جائے تو ان میں سے کتنے لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہمارے دروازے تک پہنچیں گے؟
ہم نے دنیا کو اپنی زندگی دکھانے کے لیے بہت کچھ کیا، مگر زندگی کو زندہ کرنے کے لیے کیا کیا؟
ہم صبح سے رات تک دوسروں کو دیکھتے رہتے ہیں اور اس دوران خود سے نظریں چراتے رہتے ہیں۔
ہماری مسکراہٹ تصویر میں محفوظ ہے، سکون کہیں نہیں۔
ہماری آواز ویڈیو میں موجود ہے، مگر دل کی آواز دب چکی ہے۔
ہماری پروفائل زندہ ہے، مگر شخصیت تھک چکی ہے۔
اور شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے:
ہم زندہ ہونے کی اداکاری اتنی اچھی کر رہے ہیں کہ ہمیں خود بھی یقین آ گیا ہے کہ ہم زندہ ہیں۔
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کیجیے:
اگر آج آپ کی زندگی کی آخری شام ہو، اگر آج کے بعد آپ کی کوئی پوسٹ، کوئی تصویر، کوئی اسٹیٹس دنیا تک نہ پہنچ سکے، تو کیا آپ کے پاس کوئی ایسا لمحہ ہے جسے یاد کرکے کہہ سکیں:
ہاں، میں نے یہ لمحہ واقعی جیا تھا۔
یا پھر ہماری پوری زندگی انگلی کی ایک حرکت میں گزری؟
سکرول کرتے ہوئے۔
دیکھتے ہوئے۔
دکھاتے ہوئے۔
اور آخرکار…
زندگی سے گزر گئے، زندگی کو گزارے بغیر۔
شاید ہمیں دفن کرنے کے لیے قبرستان کی ضرورت ابھی نہیں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے اندر دفن ہو چکے ہیں۔
بس مٹی ڈالنا باقی ہے۔





