جلد سماعت کے مقدمات کیلئے سپریم کورٹ میں خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ

سپریم کورٹ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا جا رہا ہے، جبکہ جلد سماعت کے مقدمات کی کارروائی کے لیے شام کے اوقات میں بھی بینچ بیٹھے گا۔
نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک بینچ کے سامنے ایک روز میں 75 مقدمات مقرر ہوئے، مقدمات مقرر کرنے کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے لیے پالیسی ویب پر اپ لوڈ کردی گئی ہے، اور اب ان کے اپنے کہنے پر بھی کوئی مقدمہ فکس نہیں ہوتا,کاز لسٹ میں شامل ہونے وا لے مقدمات کو 2 افسر دوبارہ چیک کرتے ہیں, کاز لسٹ میں آنے والے مقدما ت کو 2 افسران دوبارہ چیک کرتے ہیں تاکہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق مقدما ت کی فہرست تیار کی جاسکے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدلیہ کی اصل کامیابی فیصلوں کی محض تعداد سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور شفاف انصاف کی فراہمی سے جڑی ہے,ججز کی چھٹیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمومی تاثر ہے کہ ججز 3 ماہ کی چھٹیاں کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ججز 3 ماہ کے اندر صرف ایک ماہ کی چھٹی کرتے ہیں, شریعت اپیلیٹ بینچ ہر 2 ماہ میں ایک ہفتے کے لیے بیٹھے گا۔
مزید پڑھیں





