Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف ، مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

میں مہوش بنت بشارت ہوں۔ پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی رنگوں میں رچے بسے ضلع جھنگ کے ایک چھوٹے سے قصبے احمد پور سیال کی بیٹی ہوں۔ میری کہانی کسی بڑے شہر کی چکا چوند سے نہیں، بلکہ ایک چھوٹے سے شہر کے پرسکون ماحول، کتابوں کی خوشبو اور اپنے اندر کے ابلتے ہوئے خیالات سے شروع ہوتی ہے۔ بچپن ہی سے مجھے مطالعے اور لکھنے کا بے حد شوق رہا ہے۔ یہ شوق محض ایک وقت گزاری نہیں تھا، بلکہ میرے لیے دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک زاویہ تھا۔ مطالعے کے اسی سفر کے دوران میرا جھکاؤ خاص طور پر دینی اور اصلاحی کتب کی طرف رہا۔ ان کتابوں نے نہ صرف میرے عقائد کو پختگی بخشی، بلکہ میری سوچ کو وہ گہرائی اور دانائی دی جو انسان کو عام مادی سوچ سے اوپر اٹھا کر ابدیت کا شعور بخشتی ہے۔لکھنا ہمیشہ سے میری روح کی ضرورت رہا ہے۔ پچھلے دو سالوں سے میں مستقل طور پر تحریر کے اس خوبصورت اور سحر انگیز شعبے سے وابستہ ہوں۔ ابتدا میں میری تحریریں محض میرے تک ہی محدود تھیں۔ وہ میرے ذاتی ڈائری کے صفحات، میرے دل کے نہاں خانوں اور میری اپنی ذات کی خاموش گفتگو تک مقید تھیں۔ میں لکھتی تھی، لیکن اپنی آواز کو زمانے کے سامنے لانے سے کتراتی تھی۔ پھر وقت بدلا، اور میری سوچ میں ایک بڑا انقلاب آیا۔ میں نے محسوس کیا کہ جو روشنی مجھے مطالعے سے ملی ہے، اسے صرف اپنے تک محدود رکھنا اس نعمت کی ناشکری ہوگی۔ چنانچہ، میں نے اپنی تحریروں کو ایک توانا آواز دینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ میرے قلم کی یہ گونج چند محدود لوگوں یا دیواروں تک ہی نہ رہے، بلکہ یہ ایک ایسی اونچی اڑان بھرے جو سرحدوں اور فاصلوں سے آزاد ہو اور میرا تعارف قلم کے بغیر نامکمل لگے۔ ایک قلم کار کی حیثیت سے میرا یہ پختہ ایمان ہے کہ قلم کوئی بے جان لکڑی یا پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں ہے۔ یہ تو وہ زندہ جاوید ہتھیار ہے جس کی کاٹ تلوار سے زیادہ تیز اور اثر تیر سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب معاشرے جمود کا شکار ہوئے، قلم کاروں نے ہی اپنی روشنائی سے انقلابات کی بنیاد رکھی۔ قلم کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ مرجھائے ہوئے ذہنوں میں سوچ کے نئے در وا کر دے۔ یہ وہ ہتھیار ہے جس سے خون بہائے بغیر انسانوں کی سوچ، ان کے نظریات اور ان کے دلوں کو بدلا جا سکتا ہے۔ میں اسی ہتھیار کے ذریعے معاشرے میں پھیلی تاریکیوں کا مقابلہ کرنا چاہتی ہوں اور مثبت، تعمیری اور اصلاحی خیالات کو فروغ دینا چاہتی ہوں۔آج میں ایک پرعزم لکھنے والی کی حیثیت سے آپ کے سامنے ہوں۔ میرا مقصد صرف الفاظ کو کاغذ پر بکھیرنا یا محض داد سمیٹنا نہیں ہے، بلکہ میری تحریریں میری فکر کا عکس ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا قلم جب بھی چلے، حق اور سچائی کے لیے چلے۔ میں اپنے لفظوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اترنا چاہتی ہوں، انہیں زندگی کی حقیقی اقدار سے روشناس کروانا چاہتی ہوں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں جہاں سوچ تعمیری ہو اور فکر صالح۔ جھنگ کے ایک چھوٹے سے شہر سے شروع ہونے والا یہ سفر اب افق کی وسعتوں کو چھونے کے لیے تیار ہے، اور مجھے یقین ہے کہ میرے لفظوں کی یہ پرواز دلوں کو چھوئے گی اور سوچ کے نئے زاویے پیدا کرے گی۔