غریب خواتین کب تک لٹتی رہیں گی،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کی غریب اور مستحق خواتین کے لیے ایک اہم سماجی فلاحی منصوبہ ہے، جس کا بنیادی مقصد مالی مشکلات کا شکار خاندانوں کو سہارا دینا اور انہیں معاشی پریشانیوں سے کچھ ریلیف فراہم کرنا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ مستحق خواتین تک پہنچنے والی امدادی رقم میں غیر قانونی کٹوتیوں کا سلسلہ آخر کب ختم ہوگا؟ مختلف علاقوں سے ایسی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں کہ بعض ایجنٹ، موبائل شاپس اور ڈیوائسز استعمال کرنے والے افراد مستحق خواتین کی رقم میں فی کس چند سو روپے سے لے کر ہزاروں روپے تک کٹوتی کر لیتے ہیں، جس سے پہلے ہی مشکلات میں گھری خواتین مزید پریشانی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایک غریب عورت جب شدید گرمی، دھوپ، بارش یا طویل انتظار کے بعد اپنی امدادی رقم لینے پہنچتی ہے تو اس کے ذہن میں صرف یہی امید ہوتی ہے کہ ملنے والی رقم سے گھر کا راشن آئے گا، بچوں کی ضروریات پوری ہوں گی یا کسی فوری ضرورت کا بندوبست ہو جائے گا۔ ایسے میں اگر اس کی رقم میں ناجائز کٹوتی کر لی جائے تو یہ محض چند سو یا چند ہزار روپے کا نقصان نہیں بلکہ اس کے حق، اعتماد اور عزتِ نفس پر بھی ایک بڑا سوال ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے روایتی اور پیچیدہ طریقۂ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگر مستحق خواتین کی امدادی رقم براہِ راست ان کے اپنے موبائل اکاؤنٹ، موبائل والٹ یا محفوظ ڈیجیٹل نظام میں منتقل کر دی جائے تو غیر ضروری درمیانی کردار بڑی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر لین دین کی فوری تصدیق، شفاف ریکارڈ اور شکایت کے مؤثر نظام کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ غیر قانونی کٹوتی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری، مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کریں، جبکہ مستحق خواتین کو بھی واضح طور پر بتایا جائے کہ انہیں مکمل رقم حاصل کرنے کا حق ہے اور کٹوتی کی صورت میں کہاں شکایت درج کرانی ہے۔ غریب خواتین کسی خیرات کی طلب گار نہیں بلکہ اپنے مقررہ حق کی حقدار ہیں۔ فلاحی نظام کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب امداد کا ایک ایک روپیہ عزت، شفافیت اور مکمل حق کے ساتھ مستحق خاندان تک پہنچے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ غریب کب تک ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور اس کے حق میں سے حصہ لینے والے کب تک قانون کی گرفت سے باہر رہیں گے؟
مزید پڑھیں





