Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ
لائیو نیوز
آخری اپ ڈیٹ:1 گھنٹہ پہلے

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹ نے ساتھی کو چھری مار دی

مصنف

شائع کیا گیا

Flydubai Flight Diverts to Saudi Arabia After Incident | BaaghiTV

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پائلٹ نے کاک پٹ میں دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کردیا اور مبینہ طور پر طیارے کو گرانے کی کوشش کی، حملہ آور پائلٹ کو گرفتار کرلیا گیا۔


اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق زخمی پائلٹ کیپٹن نے مزاحمت کرتے ہوئے طیارے کو ممکنہ تباہ کن فضائی حادثے سے بچایا۔واقعے کے دوران ایک مسافر نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرنے کے لیے اسے گلے سے پکڑ لیا اور بعد ازاں طیارے کے کنٹرول سنبھال کر پرواز کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 17 ہزار 400 فٹ نیچے آگیا۔ایک مسافر نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ اسے محسوس ہوا کہ وہ مرنے والی ہے۔ طیارے کے اندر بنائی گئی ویڈیو میں زخمی پائلٹ کو مسافروں اور عملے کی مدد سے طبی امداد دیے جانے کے مناظر بھی سامنے آئے۔واقعے کے بعد طیارے کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا، جبکہ پھنس جانے والے بیشتر مسافروں کو متبادل فلائی دبئی پرواز کے ذریعے تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔

براہ راست
  1. |1 گھنٹہ پہلے

    فلائی دبئی حملے کے بعد پائلٹس کی سیکیورٹی جانچ سخت کرنے کا فیصلہ

    M
    Mumtaz

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان کے مطابق فلائی دبئی پرواز میں پیش آنے والے حملے کے بعد اسرائیل آنے والے پائلٹس کی سیکیورٹی جانچ مزید سخت کی جائے گی۔


    واقعے کے بعد اس امر پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک کے درمیان پرواز کرنے والے پائلٹس کی تعیناتی اور جانچ پڑتال کس طرح کی جاتی ہے، کیونکہ فلائی دبئی کی پرواز میں شریک پائلٹ نے دورانِ پرواز حملہ کیا تھا۔


    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے کہا کہ اسرائیل آنے والی ہر پرواز کے پائلٹ کی شناخت معلوم کی جائے گی، اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی اور کسی نہ کسی نوعیت کی سیکیورٹی جانچ بھی کی جائے گی۔

  2. |1 گھنٹہ پہلے

    ٹرمپ نے فلائی دبئی واقعے کو ’’ناقابل یقین کہانی‘‘ قرار دے دیا

    M
    Mumtaz

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلائی دبئی طیارے میں پیش آنے والے واقعے کو ’’ناقابل یقین کہانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔


    اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ طیارہ انتہائی خطرناک زاویے سے تیزی سے نیچے جا رہا تھا، یہاں تک کہ طیارے کی رفتار اس کی مقررہ حدود سے بھی بہت تجاوز کر گئی تھی اور طیارے کے پچھلے حصے سے رڈر بھی الگ ہوگیا۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ طیارے میں سوار ایک اسرائیلی نے، جو مبینہ طور پر بہت کم ہوائی سفر کرتا تھا، صورتحال کو دیکھ کر طیارے کے کنٹرول سنبھال لیے۔ ان کے مطابق مذکورہ شخص نے چیخ و پکار سنی، کاک پٹ کی جانب پہنچا اور طیارے کا کنٹرول سنبھال کر اسے دوبارہ متوازن کیا، جس سے طیارہ تباہ ہونے سے بچ گیا۔تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ انہیں اس واقعے کی تفصیلات اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے معلوم ہوئی ہیں اور وہ خود اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ یہ تمام تفصیلات درست ہیں۔ٹرمپ نے کہا، ’’یہ وہ کہانی ہے جو مجھے نیتن یاہو سے ملی، مجھے نہیں معلوم کہ یہ سچ ہے یا نہیں۔‘‘

  3. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی طیارہ واقعہ: مسافر بحفاظت اسرائیل پہنچ گئے،

    M
    Mumtaz

    فلائی دبئی کی اس پرواز سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جسے کاک پٹ میں چاقو سے حملے کے واقعے کے بعد سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔سعودی عرب کی جانب سے اسرائیلی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد مسافروں کو متبادل فلائی دبئی پرواز کے ذریعے بحفاظت اسرائیل پہنچا دیا گیا۔ اسرائیل نے مسافروں کی واپسی کے لیے فوجی یا سول طیارہ بھیجنے کی درخواست کی تھی۔فلائی دبئی کے ترجمان کے مطابق بدھ کو دورانِ پرواز پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات جاری رہنے تک اسرائیل آنے اور جانے والی فلائی دبئی کی پروازیں عارضی طور پر معطل رہیں گی۔



  4. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی طیارہ: زخمی پائلٹ کا بہت زیادہ خون بہہ گیا، حالت انتہائی تشویشناک تھی

    M
    Mumtaz

    فلائی دبئی کی پرواز میں چاقو کے وار سے زخمی ہونے والے پائلٹ کا بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا اور وہ شدید زخمی حالت میں تھے۔ طیارے میں موجود ڈینٹسٹ ڈاکٹر شوتا موسیف نے زخمی پائلٹ کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔


    ڈاکٹر شوتا موسیف نے سی این این کو بتایا کہ وہ کاک پٹ کی جانب دوڑے تو حملہ آور پائلٹ کے اوپر موجود تھا اور اسے چاقو کے وار کر رہا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر پائلٹ کی مدد شروع کی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ وہ جانبر نہیں ہو سکیں گے۔ڈاکٹر موسیف کے مطابق پائلٹ کے جسم پر متعدد زخم تھے، سر اور ہاتھ بری طرح زخمی تھے جبکہ خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی پائلٹ مسلسل دعا کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ پائلٹ کا بلڈ پریشر اچانک بہت گر گیا اور وہ بے ہوش ہوگئے، جبکہ ہر طرف خون پھیل گیا تھا۔ ڈاکٹر موسیف نے کہا کہ اگر مزید چند لمحے گزر جاتے تو ممکن تھا کہ پائلٹ کو بچایا نہ جا سکتا۔ڈاکٹر موسیف نے زخمی پائلٹ کی دیکھ بھال کے ساتھ حملہ آور کو قابو کرنے میں بھی مدد کی۔ ان کے مطابق انہوں نے ہیڈ فون کی تاروں اور پلاسٹک زِپ ٹائیز کی مدد سے حملہ آور کو باندھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے اس دوران ایک لفظ بھی نہیں کہا اور خاموشی سے بیٹھ گیا۔ڈاکٹر موسیف کے مطابق انہیں حملے میں استعمال ہونے والا ہتھیار نہیں ملا تھا، جس کی وجہ سے انہیں طیارے میں دوبارہ حملے کا خدشہ تھا۔ اسی لیے چند مسافروں کو کیبن میں مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں حملہ آور کو فوری طور پر قابو کیا جا سکے۔


    ڈاکٹر موسیف نے بتایا کہ انہوں نے زخمی پائلٹ سے بات بھی کی، جن کی شناخت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھارت سے تعلق رکھنے والے سمت کے طور پر کی ہے۔ ڈاکٹر موسیف کے مطابق سمت کی عمر 39 سال ہے، وہ دبئی میں رہتے ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ڈاکٹر موسیف نے زخمی پائلٹ کو ایک ’’نہایت شریف انسان‘‘ قرار دیا۔

  5. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی طیارے میں ہنگامہ، مسافروں نے خوفناک مناظر بیان کر دیے

    M
    Mumtaz

    فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں سوار مسافروں نے طیارے کے اندر پیش آنے والے ہنگامے اور خوفناک صورتحال کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔


    مسافر الون مارگوننسکی نے بتایا کہ ’’چاقو مارنے‘‘ کی آواز سننے کے بعد دو سے تین افراد تیزی سے کاک پٹ کی جانب بڑھے۔ طیارے کے پچھلے حصے میں بیٹھے مارگوننسکی کے مطابق انہیں تقریباً 10 منٹ تک معلوم نہیں تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔انہوں نے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ تیزی سے نیچے کی جانب جانے لگا تو یہ کیفیت انتہائی خوفناک تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ابتدا میں لگا کہ طیارے میں کوئی فنی خرابی پیدا ہوگئی ہے، انہوں نے حملے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔الون مارگوننسکی کے مطابق انہیں اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ طیارہ سعودی عرب میں اترنے والا ہے جب تک وہ زمین پر نہیں اتر گیا اور انہوں نے اردگرد عربی زبان میں تحریریں نہیں دیکھ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسافر صرف طیارے کے بحفاظت اترنے کی خواہش کر رہے تھے۔ایک اور مسافر آدم نے بتایا کہ اس نے لوگوں کو کاک پٹ میں داخل ہوتے دیکھا، جہاں اس کے بقول ’’بڑی لڑائی‘‘ جاری تھی۔طیارے میں موجود پیلیگ اٹلی نے بتایا کہ انہیں طیارہ ایک جانب جھکتا ہوا محسوس ہوا۔ ان کے مطابق طیارہ نیچے گرنے لگا تو مسافر اپنی نشستوں میں دب گئے۔مسافر الموگ اٹلی نے بتایا کہ 20 سے 30 سیکنڈ تک شدید ہچکولے محسوس ہوئے، جس کے بعد کچھ دیر طیارہ معمول پر آیا، تاہم پھر دوبارہ جھٹکے محسوس ہونے لگے۔رائٹرز کو حاصل ہونے والی ویڈیو میں الموگ اٹلی نے بتایا کہ اس کے بعد طیارے کے اگلے حصے میں ہنگامہ شروع ہوگیا اور بڑی تعداد میں مسافر اس جانب دوڑ پڑے۔

  6. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی کی اسرائیل آنے جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل

    M
    Mumtaz

    فلائی دبئی نے بدھ کو دورانِ پرواز پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک اسرائیل آنے اور جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔


    ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کو دورانِ پرواز مبینہ ہائی جیکنگ کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ مسافروں، عملے اور آپریشنز کی حفاظت اور فلاح و بہبود ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے۔ عارضی معطلی سے متعلقہ حکام کو واقعے کی تحقیقات جاری رکھنے اور تمام حقائق سامنے لانے کا موقع ملے گا۔فلائی دبئی نے متاثرہ مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرلائن ان کے سفری منصوبوں سے متاثر ہونے والے مسافروں کو ممکنہ حد تک متبادل انتظامات اور معاونت فراہم کر رہی ہے۔فلائی دبئی کی دبئی اور تل ابیب کے درمیان پروازیں اسرائیلی شہریوں میں مقبول ہیں اور ایئرلائن اس روٹ پر روزانہ واپسی کی پروازیں چلاتی ہے، جن کی تعداد بعض اوقات تقریباً 10 روزانہ تک ہوتی ہے۔

  7. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی کے مسافر نے حملہ آور کو قابو کرنے کی روداد سنا دی

    M
    Mumtaz

    فلائی دبئی کی پرواز کے مسافر یانیو حایون نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو بتایا کہ اس نے دیگر مسافروں کے ساتھ مل کر مبینہ حملہ آور کو قابو کیا۔ حایون نے بتایا کہ اس نے حملہ آور کو گلے سے دبوچ کر کاک پٹ سے باہر گھسیٹا، جس کے بعد واپس جا کر طیارے کے کنٹرول سنبھالے۔


    حایون نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران بتایا کہ اس نے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم زخمی پائلٹ دروازے کے ساتھ موجود تھا، جس کے باعث دروازہ کھولنے میں ابتدا میں دشواری پیش آئی۔انہوں نے بتایا کہ کاک پٹ میں داخل ہونے پر حملہ آور دونوں نشستوں کے درمیان موجود پینل پر نظر آیا۔ ان کے مطابق اس وقت دونوں پائلٹ اپنی نشستوں پر موجود نہیں تھے، ایک فرش پر جبکہ دوسرا پینل پر تھا اور حملہ آور بظاہر طیارے کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔حایون نے بتایا کہ اس نے طیارے میں موجود چند اسرائیلی مسافروں کو آواز دی، جس پر دو دیگر افراد بھی مدد کے لیے پہنچ گئے۔ انہوں نے مل کر حملہ آور کو قابو کیا، جبکہ حایون نے واپس جا کر طیارے کے کنٹرول سنبھالے اور ہینڈلز کو پیچھے کی جانب کھینچا۔


    مسافر کے مطابق یہ تمام واقعہ محض چند سیکنڈز میں پیش آیا۔ اس نے نیتن یاہو سے کہا کہ اگر طیارہ اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہو جاتا تو صورتحال کا انجام اچھا نہ ہوتا،جب نیتن یاہو نے پوچھا کہ اسے طیارے کو دوبارہ کنٹرول میں لانے کے لیے ہینڈلز پیچھے کھینچنے کا طریقہ کیسے معلوم تھا تو حایون نے جواب دیا: ’’میں ایئر کریش انویسٹی گیشن دیکھتا ہوں، مسٹر وزیراعظم، واقعی!‘‘

  8. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی طیارہ سعودی عرب میں کس نے لینڈ کیا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

    M
    Mumtaz

    فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پرواز میں مبینہ ہائی جیکنگ کی کوشش کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا، تاہم طیارہ لینڈ کرنے والے پائلٹس سے متعلق تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔


    فلائی دبئی کے ترجمان کے مطابق پرواز میں موجود ڈیوٹی پر مامور عملے نے طیارے کو محفوظ بنایا، رخ تبدیل کیا اور بحفاظت تبوک ایئرپورٹ پر اتارا۔سعودی عرب کے معروف ایوی ایشن آپریٹر کے مطابق کاک پٹ میں ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں طیارے کے کپتان اور معاون پائلٹ دونوں زخمی ہوئے۔دوسری جانب ایک مسافر الموغ اٹالی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ طیارے میں دو ’’متبادل پائلٹس‘‘ بھی موجود تھے، جو بعد کی پرواز چلانے والے تھے۔ ان کے مطابق انہی دونوں پائلٹس نے طیارے کو سنبھالا، مستحکم کیا اور سعودی عرب میں لینڈ کیا۔


    ایوی ایشن سیفٹی تجزیہ کار ڈیوڈ سوسی کے مطابق پرواز میں اضافی ڈیوٹی پائلٹس کی موجودگی نسبتاً غیر معمولی ہے، تاہم ایسا اس وقت ہو سکتا ہے جب پائلٹس کو کسی دوسری پرواز کے لیے منتقل کیا جا رہا ہو۔سابق امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ تفتیش کار اور ایوی ایشن ماہر ایلن ڈائل کے مطابق فلائٹ کریو کے دیگر ارکان، مثلاً فضائی میزبان، بعض اوقات نجی پائلٹ لائسنس بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافر طیاروں میں ایک یا اس سے زیادہ ایسے عام مسافروں کا موجود ہونا بھی نسبتاً عام ہے جنہیں پائلٹ کی تربیت حاصل ہو۔

  9. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی پرواز میں پائلٹ پر حملہ، اسرائیل نے واقعے کو دہشت گردی کی کوشش قرار دے دیا

    M
    Mumtaz

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز میں پائلٹ پر چاقو سے حملہ اسرائیلی شہریوں، متحدہ عرب امارات اور ابراہیمی معاہدوں کے خلاف دہشت گرد حملے کی کوشش تھا۔


    اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایڈن بار تال نے دنیا بھر میں تعینات اسرائیلی سفیروں اور مشنز کے سربراہان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتی۔وزارت خارجہ کے مطابق یہ بریفنگ وزیر خارجہ گیڈون ساعر کی ہدایت پر منعقد ہوئی۔ گیڈون ساعر نے اس معاملے پر اپنے اماراتی ہم منصب عبداللہ بن زاید آل نہیان سے بھی گفتگو کی، جس میں دونوں نے سیکیورٹی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ’’انتہا پسند عناصر‘‘ کے خلاف تعاون پر اتفاق کیا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق گیڈون ساعر نے اماراتی وزیر خارجہ کو اسرائیلی مسافروں کی بحفاظت واپسی سے آگاہ کیا، جس پر عبداللہ بن زاید نے تمام اسرائیلی مسافروں کے بحفاظت وطن پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا۔


    اسرائیل میں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ نے فلائی دبئی کی اس پرواز میں سوار مسافروں کی خیریت بھی دریافت کی جو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بن گوریون ایئرپورٹ جا رہی تھی۔ سفارتخانے کے مطابق پرواز میں پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے پر قابو پا لیا گیا اور اماراتی وزیر نے مسافروں کی صحت و سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے لیے بھی خیرسگالی کا پیغام دیا۔

  10. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی کے زخمی پائلٹ کی شناخت، نیتن یاہو نے بہادری کو سراہا

    M
    Mumtaz

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلاي دبئی کی پرواز میں زخمی ہونے والے پائلٹ کی شناخت بھارتی نژاد سمت طور پر کرتے ہوئے ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔


    نیتن یاہو نے کہا کہ کیپٹن سمت نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے حملہ آور کا مقابلہ کیا، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں و عملے کو حملہ آور پر قابو پانے میں مدد دی، جس سے ایک بڑے فضائی حادثے کو روکا جا سکا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق اس اقدام سے طیارے میں سوار 174 افراد کی جانیں بچیں۔ انہوں نے کیپٹن سمت کو ’’حقیقی ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی۔سعودی عرب میں بھارتی سفارتخانے نے بھی سمت کو بہادر پائلٹ قرار دیتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ سفارتخانے کے مطابق وہ سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔بھارتی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ سمت کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور سعودی حکام کے ساتھ ان کی صحت سے متعلق مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا۔

  11. |2 گھنٹے پہلے

    فلائی دبئی واقعے پر برطانوی وزیر خارجہ کا اظہار تشویش

    M
    Mumtaz

    برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے فلائی دبئی کی پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر ’’شدید فکر مند‘‘ ہیں، تاہم اس بات پر ’’بہت مطمئن‘‘ ہیں کہ طیارہ عملے اور مسافروں کی کوششوں کے باعث بحفاظت لینڈ کر گیا۔


    فلائی دبئی کی پرواز کو سعودی عرب کی جانب موڑنے کے بعد مسافر بدھ کی شام مقامی وقت کے مطابق تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ بعض مسافروں نے اصل پرواز کے دوران افراتفری اور خوف و ہراس کے مناظر بیان کیے۔ایڈ ملی بینڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی تمام تر ہمدردیاں حملے میں زخمی ہونے والوں، طیارے میں سوار تمام افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

  12. |2 گھنٹے پہلے

    دبئی سے تل ابیب پرواز میں خوفناک مناظر، مسافر کی آپ بیتی

    M
    Mumtaz


    دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں سوار مسافر میکا باؤمن نے طیارے میں پیش آنے والے خوفناک واقعات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ اچانک تیزی سے نیچے جانے لگا، جس کے باعث بچوں کے رونے اور مسافروں کے چیخنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔


    میکا باؤمن نے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے طیارہ مکمل طور پر نیچے گر رہا ہے اور ہلکا سا گھوم بھی رہا ہے۔ ان کے مطابق اس دوران ہر طرف چیخ و پکار اور بچوں کے رونے کی آوازیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ وہ مرنے والی ہیں۔ طیارے کے اچانک بلندی کھونے کا احساس رولر کوسٹر کی تیز گراوٹ جیسا تھا، تاہم شدت اس سے کہیں زیادہ تھی۔میکا باؤمن کے مطابق طیارے میں خوف و ہراس کے دوران وہ خود کو بے بس محسوس کر رہی تھیں اور انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ وہ صرف بیٹھ کر اپنی قسمت کا انتظار کر سکتی ہیں۔


    انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو خون آلود کپڑوں کے ساتھ طیارے کے راستے میں جاتے دیکھا اور ابتدا میں انہیں لگا کہ طیارے میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ بعد ازاں مسافروں کو بتایا گیا کہ طیارے میں ایک دہشت گرد موجود ہے، تاہم سعودی عرب میں طیارے کے اترنے تک انہیں واقعے کی مکمل تفصیلات معلوم نہیں تھیں۔باؤمن نے بتایا کہ مسافروں کو خبردار کیا گیا تھا کہ سعودی عرب میں لینڈنگ بھی مشکل ہوسکتی ہے، اس لیے انہیں ہنگامی لینڈنگ کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے تل ابیب واپسی کے لیے فلائی دبئی کی دوسری پرواز میں سوار ہونا بھی ان کے لیے انتہائی خوفناک تھا، تاہم بن گوریون ایئرپورٹ پر منتظر والدین نے انہیں پرواز کی حفاظت کے بارے میں یقین دلایا اور حوصلہ دیا، جس کے بعد وہ طیارے میں سوار ہوگئیں۔میکا باؤمن کے مطابق سعودی عرب سے تل ابیب کی واپسی کی پرواز اگرچہ صرف 40 منٹ کی تھی، لیکن پورا سفر انتہائی خوفناک محسوس ہوا۔


    انہوں نے بعد ازاں ان مسافروں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے حملہ آور کو قابو کیا۔ باؤمن کے مطابق خون سے آلودہ کپڑوں کے باعث وہ مسافر آسانی سے پہچانے جا سکتے تھے۔میکا باؤمن نے بتایا کہ ان مسافروں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ بھی اسی طیارے میں موجود تھے اور اگر وہ فوری طور پر آگے نہ بڑھتے تو شاید آج طیارے میں موجود لوگ زندہ نہ ہوتے۔ ان کے بقول، ان مسافروں نے مسافروں کی جانیں بچائیں۔