اعزاز سے آگے ایک سفر،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
کبھی کبھی زندگی کسی بڑے شور کے ساتھ نہیں، ایک چھوٹے سے لمحے میں ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری خاموش محنت کہیں نہ کہیں اپنا راستہ بنا رہی ہے۔ آج میرے ہاتھ میں اپنا باغی رائٹر فورم کے اگست کا ایوارڈ ہے، مگر سچ کہوں تو اسے صرف ایک اعزاز سمجھ کر قبول کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ میرے لیے یہ اُن بے شمار لمحوں کی رسید ہے جو لفظوں کے ساتھ گزرتے ہوئے کبھی کسی کو دکھائی نہیں دیے؛ وہ لمحے جب ایک خیال نے سکون چھینا، ایک جملے نے دیر تک بے چین رکھا، اور ایک خالی صفحے نے انسان کو اپنے ہی اندر اترنے پر مجبور کیا۔
لکھنے والے کے سفر میں بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ ایک خاموش کمرہ، ایک بے چین ذہن، رات کے کسی پہر جاگتی ہوئی آنکھیں، ایک جملے پر بار بار رک جانا، لفظ کو دل کے قریب لا کر پھر رد کر دینا، اور کبھی یہ سوال کہ آخر میں لکھ کیوں رہی ہوں؟ کون پڑھے گا؟ کون سمجھے گا؟ مگر شاید قلم کی دنیا کا حسن ہی یہی ہے کہ لکھنے والا پہلے قاری تلاش نہیں کرتا؛ پہلے اپنے اندر موجود شور کو ایک زبان دیتا ہے۔ پھر اگر وہ لفظ کسی دوسرے دل تک پہنچ جائیں تو یہ محض پذیرائی نہیں رہتی، ایک خاموش مکالمہ بن جاتی ہے۔
پھر کہیں سے ایک چھوٹا سا اعتراف آتا ہے اور انسان کو یاد آتا ہے کہ شاید لفظ کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔
آج کا یہ اعزاز بھی میرے لیے اسی یقین کی ایک خوب صورت صورت ہے۔ اس موقع پر باغی رائٹر فورم کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا میرے لیے محض رسمی الفاظ نہیں، ایک حقیقی احساس ہے۔ ایسے ادبی پلیٹ فارم صرف تحریروں کو جگہ نہیں دیتے، وہ لکھنے والوں کے حوصلے کو بھی جگہ دیتے ہیں۔ کسی قلم کار کی تحریر کو پڑھنا، اسے اہمیت دینا اور پھر اس کی محنت کو ایک اعزاز کے ذریعے تسلیم کرنا، دراصل اُس کے لفظوں کے ساتھ ایک خوب صورت مکالمہ قائم کرنا ہے۔
خصوصاً جناب مبشر لقمان کا تہہِ دل سے شکریہ، جن کے دستِ مبارک سے یہ اعزاز میرے لیے مزید معنی رکھتا ہے۔ کسی اعزاز کی قدر صرف اس کی ظاہری صورت سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس نسبت سے بھی ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ انسان تک پہنچتا ہے۔ میرے لیے یہ لمحہ یقیناً اُن یادگار لمحوں میں رہے گا جنہیں وقت گزرنے کے بعد بھی دل احترام سے یاد کرتا ہے۔
اسی طرح محترم ایڈیٹر ممتاز اعوان صاحب کا بھی دلی شکریہ، جن کی ادبی سرپرستی، توجہ اور حوصلہ افزائی لکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ ایک اچھا مدیر صرف تحریر نہیں دیکھتا، وہ اُس تحریر کے پیچھے موجود محنت، امکان اور قلم کار کے سفر کو بھی محسوس کرتا ہے۔ ادب کی دنیا میں ایسے لوگوں کی موجودگی، جو لفظ کی حرمت اور لکھنے والے کی محنت دونوں کو سمجھتے ہوں، یقیناً ایک نعمت ہے۔
میں اپنے تمام ساتھی قلم کاروں اور اہلِ قلم کی بھی شکر گزار ہوں۔ ادب شاید وہ واحد دنیا ہے جہاں دوسرے کے لفظوں کی روشنی ہماری اپنی روشنی کم نہیں کرتی، بلکہ پورے منظر کو روشن کرتی ہے۔ آپ سب کی محبت، حوصلہ افزائی، پذیرائی اور رفاقت میرے لیے اس سفر کا خوب صورت حصہ ہیں۔ اور اُن تمام قارئین کا بھی شکریہ جو میری تحریروں تک پہنچتے ہیں، انہیں پڑھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور اپنی رائے کے ذریعے میرے لفظوں کو ایک نئی زندگی دیتے ہیں۔ کیونکہ لکھنے والے کا قلم کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو، اس کے لفظوں کو مکمل ہونے کے لیے ایک دل درکار ہوتا ہے جو انہیں پڑھ سکے۔
یہ اعزاز میرے لیے منزل نہیں، بلکہ ایک نرم سا اشارہ ہے کہ راستہ ابھی باقی ہے۔ کیونکہ اعزاز دیوار پر سجایا جا سکتا ہے، مگر تحریر کو دل میں زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ نام کے ساتھ جڑنے والے اعزاز خوشی دیتے ہیں، مگر قلم کے ساتھ جڑنے والی ذمہ داری انسان کو مسلسل اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگلا لفظ پہلے سے زیادہ سچا، زیادہ بامعنی اور زیادہ زندہ کیسے ہو؟
شاید اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے نام کے ساتھ کتنے اعزاز جڑ گئے، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے لفظ کسی ایک انسان کے اندر کوئی سوال پیدا کر دیں، کسی خاموش دل کو اپنی آواز مل جائے، کسی سوچ کو نئی سمت ملے، یا کوئی شخص ہماری تحریر پڑھ کر چند لمحوں کے لیے خود سے مل لے۔
میں اس اعزاز کو اپنی ذات کی تعریف نہیں، اپنی ذمہ داری میں اضافہ سمجھتی ہوں۔ اب لفظ صرف لکھنے نہیں، نبھانے ہیں۔ کیونکہ قلم کی اصل آزمائش تب شروع ہوتی ہے جب تعریف ختم ہو جائے اور صفحہ پھر سے خالی سامنے آ جائے۔
آج اپنا باغی رائٹر فورم کی جانب سے ملنے والا یہ اعزاز ہاتھ میں ہے، مگر دل میں اُن تمام لوگوں کے لیے شکریہ ہے جنہوں نے میرے لفظوں کے سفر میں کسی نہ کسی مقام پر اپنا حصہ ڈالا۔ یہ صرف ایک ایوارڈ نہیں، اُن محبتوں، دعاؤں، حوصلوں اور اعتماد کا عکس ہے جو ایک لکھنے والے کو اُس وقت بھی آگے بڑھاتے ہیں جب راستہ صرف اُسے خود دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔
اور شاید آج دل بس اتنا کہتا ہے:
اعزاز تو ہاتھ میں آیا ہے،
مگر سفر ابھی میں باقی ہے۔
زینب،
لفظ اگر سچے ہوں تو راستے خود بناتے ہیں۔
مزید پڑھیں





