ہماری کلاس میں ایک صاحب تشریف لائے، نام تھا حیدر۔ عمر کے لحاظ سے ہم سے چھوٹے اور قد کے لحاظ سے اللہ معاف کرے، کلاس کے دروازے سے اوپر! پہلی نظر میں ہی یوں محسوس ہوا جیسے نہم جماعت میں طالب علم نہیں بلکہ اسمبلی کا مائیک کھڑا ہو گیا ہو۔
پہلے دن ٹیچر نے بچوں سے پوچھا، "واحد جمع آتی ہے؟"
حیدر نے بڑے معصومانہ انداز میں جواب دیا، "سر! وہ تو میری کتاب میں نہیں ہے۔"
ہم لڑکیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کی۔ ابھی ہم سنبھلے ہی تھے کہ دوسرا لیکچر شروع ہوگیا۔ سر نے حیدر سے کہا، "حیدر! فزکس کی تعریف سناؤ۔"
حیدر نے فوراً کتاب کھولی، چند صفحات الٹے پلٹے اور بولا، "سر! میری کتاب میں یہ صفحہ ہی نہیں ہے۔"
سر نے حسنین سے کہا، "تم سناؤ۔" حسنین نے تعریف سنا دی، مگر حیدر نے اس کے بعد فزکس کی جو اپنی تعریف پیش کی، وہ اتنی منفرد تھی کہ سر ہنستے ہوئے کلاس سے باہر نکل گئے۔ ہمیں اسی دن اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ طالب علم پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہماری تفریح کا بھی مستقل انتظام ہے۔
دن گزرتے گئے اور حیدر کی شرارتیں بھی ترقی کرتی گئیں۔
ایک دن ٹیسٹ ہو رہا تھا۔ ہمارا کمپیوٹر کا ٹیسٹ تھا اور حیدر کا بائیولوجی کا۔ ہمارا ٹیسٹ بیس نمبر کا اور ان کا تیس نمبر کا تھا۔ مگر حیدر نے شاید نمبروں کا فرق بھی نظرانداز کرتے ہوئے پورا ٹیسٹ میری کاپی سے دیکھ کر لکھ دیا۔
سر نے اسے بڑے اعتماد سے پوچھا، "آج تو حیدر کو ٹیسٹ آتا ہے؟"
حیدر نے سینہ پھلا کر کہا، "سر! بالکل آتا ہے۔"
جب میں مقررہ وقت پر کاپی چیک کروانے اٹھی تو حیدر نے پوچھا، "بہن! آپ کمپیوٹر کی ہیں؟"
میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ سر نے اسے دیکھا تو وہ اچانک بولا، "اوہ تیری خیر! میں نے تو سارا ٹیسٹ ان کا دیکھ کر لکھا ہے!"
سر نے فرمایا، "تمہیں سوال دیکھنے کی بھی زحمت نہیں ہوئی؟"
امتحانات قریب آئے تو سر مجاہد نے حیدر سے کہا، "حیدر! نیند پوری کرنا، رات رات بھر جاگنا نہیں، ورنہ صبح آنکھ نہیں کھلے گی۔"
حیدر نے فرمان کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لیا۔ امتحان کی راتیں بھی سو کر گزاریں اور نتیجہ بھی سوئے ہوئے خواب کی طرح آیا۔
سر نے پوچھا، "حیدر! یہ کیا کیا؟"
کہنے لگا، "سر! آپ نے ہی کہا تھا رات کو جاگنا نہیں، میں سو گیا!"
پھر ذرا قریب ہو کر بولا،" سر جی! آپس کی بات ہے… فیل ہونا بھی مہان کام ہے۔ آپ نے کبھی اکیڈمی میں کسی فیل ہوتے ہوئے کو دیکھا ہے؟ میں ہوا ہوں!"
تب ہمیں یقین ہوگیا کہ کچھ لوگ صرف امتحان نہیں دیتے، فیل ہونے کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔فیل ہونا بھی ایک آرٹ کام ہے۔
مزید پڑھیں






