Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فطرت کی کاریگری ،تحریر:کنیز سسیلیا منظور

نقطہ نظر

ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے تو بہت اچھی لگی تو سوچا کہ اپ کو بتاتی چلوں۔ اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں کی مجھے خدانخواستہ عورتوں سے بیر ہے ۔یا میں کسی بھی طور انہیں کمتر ثابت کرنا چاہتی ہوں ۔بات صرف فطرت کی ہے کہ قدرت نے کس کو کس خوبی سے نواز دیا ہے ۔کیوں کہ اپنےاندر زندگی کی پرورش جو ایک مادہ کر سکتی ہے۔ وہ صرف اسی کا خاصہ ہے۔

فطری طور پہ نر خوبصورت ہوتا ہے۔ہیرے کا سا چمکدار جسے بناو سنگھار کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ مادہ یعنی عورت شیشے سی ہوتی ہے اسے خوبصورت دکھنے کے لئے رنگوں کی اور سنگھار ضرورت ہوتی ہے ۔نر مور کے پنکھ بے حد رنگیںن اور خوبصورت ہوتے ہیں جنہیں مور پنکھ کہا جاتا ہے۔جبکہ مادہ مورنی کالی اور سفید ہوتی ہے۔مشک نافہ نر ہرن کی ناف سے حاصل ہوتا ہے ۔اور نر ہرن زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔

ہاتھی دانت بھی نر ہاتھی ہی کے ہوتے ہیں۔جو کہ بہت نایاب اور قیمتی ہوتے ہیں۔ناگ منی بھی نر ناگ ہی سے حاصل ہوتا یے ۔کہتے ہیں کہ اس لئے مادہ ناگ اس کی دیوانی ہوتی ہے۔کبھی غور سے دیکھئے گا کہ ببر شیر کی گردن کے گرد اس کے ڈھیر سے سنہری بال اسے کیا خوبصورتی، رعب اور دبدبہ عطا کرتے ہیں۔اور شیرنی کوقدرت نے ویسا حسن عطا نہیں کیا۔ تو قدرت نے فطرت نے جسے جیسا تخلیق کر دیا ہے۔جو اوصاف اسے ودیعت کر دیئے گئے ہیں۔انہیں تسلیم کر لینے میں

کیا مضائقہ ہے۔

کیونکہ عورت میں جو بیک وقت کئی کام ایک ساتھ کرنے کی صلاحیت موجود ہے وہ مرد میں نہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ کم کم ہے۔عورت کھانے پکاتے ہونے بچوں کا دھیان بھی رکھ لیتی ہے۔ساتھ فون پہ بات بھی یعنی دو تین کام ایک ساتھ ۔ ہاں البتہ جب کوئی بند بوتل کھولنی ہو ، یا کوئ اور سخت بند چیز تو پھر ظاہر ہے مرد ہی کام آ تے ہیں۔

جبکہ مرد حضرات ایک وقت میں ایک ہی کام پہ توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔جسے وہ نہایت احسن طریقے سے کر لیتے ہیں۔تو اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ یہ کوئ برائ ہے ۔عورت اور مرد دونوں کی اپنی اپنی منفرد صلاحیتیں ہیں سو ہیں۔