گلے لگنے میں شفاء ہے ،تحریر: اظہر حسین بھٹی
نقطہ نظر
ہم انسان شاید اس دوا کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکے کہ قدرت نے اس ایک عادت یا حرکت میں کس قدر برکت اور شفاء رکھی ہے۔ ہم اس پر عمل ہی نہیں کرتے۔ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ عجیب جھجھک یا شرماہٹ ہمیں ایسا کرنے سے روکے رکھتی ہے۔ ہم کر نہیں پاتے اور یوں کتنے ہی ایسے نقصان کر بیٹھتے ہیں کہ جن کا ازالہ ناممکن ہو جاتا ہے۔
ہمارے سینے ترس جاتے ہیں مگر باپ ہمیں گلے سے نہیں لگاتے۔ ہم ان کے گلے نہیں لگتے۔ بھائیوں کو ضرورت ہوتی ہے مگر ہم سوچتے رہ جاتے ہیں اور سینے سے سینہ نہیں ملا پاتے۔ بہنیں بھائیوں کے راہ تک تک ہار جاتی ہیں مگر بھائی مصروف ہو جاتے ہیں اور آ کر حال نہیں پوچھتے۔ گلے نہیں لگتے۔ اس دور نے تو ماؤں کے سینے بھی ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو سینے سے لگانے کے لیے ترستی ہیں مگر وقت اور پیٹ کی ضرورت نے ماؤں کو اُن کے کلیجوں سے دور کر دیا ہے۔
اس وقت میں اگر کوئی سب سے بڑا المیہ ہے تو وہ یہی ہے کہ آج کے اس دور میں گلے لگنا ناپید ہو چکا ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے بڑی مہلک بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جانے کتنے ہی لوگ صرف اس وجہ سے یہ دنیا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ ان کو کسی نے گلے نہیں لگایا ہوتا۔ انہیں محبت نہیں دی ہوتی۔ ان کا حال نہیں پوچھا ہوتا۔ انہیں توجہ سے نہیں نوازا ہوتا۔
آپ ایسا کر کے تو دیکھیں، یقین کریں آپ اپنی آنکھوں سے معجزے ہوتے دیکھیں گے۔ لوگ ہنستے دیکھیں گے۔ یار لگا لو نا گلے جب تمہیں کوئی اُداس لگے۔ کوئی روتا دکھائی دے۔ کوئی ٹوٹتا نظر آئے۔ ہم لوگ ہی ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں۔ ہم نے ہی ایک دوجے کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ نفرت جیسی مرض کو ہم نے ہی محبت سے ختم کرنا ہے۔
جب ایک سینے کو دوسری چھاتی ملتی ہے تو دونوں کے اندر دھڑکتے دل محبت سے کھل اُٹھتے ہیں۔ وہ خوشی سے اتنا جھومتے ہیں کہ پورے جسم کو بالکل تازہ خون سپلائی کرنے لگتے ہیں۔ پورے جسم میں سکون کی لہریں بہنے لگتے ہیں۔ پھر دل ، دماغ کو سگنل بھیجتا ہے کہ میں پرسکون ہوں اور دماغ اپنے اندر آئی پریشانیوں کو کہیں دور پھینک دیتا ہے۔ وہ بھی شانت ہو جاتا ہے۔
صرف ایک عادت، گلے لگانے والی ہمارے پورے معاشرے کو بدل سکتی ہے۔ ہم ذہنی طور پر پرسکون ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنے کئی امراض سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں ہنستا مسکراتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ تو پھر ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ کیوں دل میں انائیں، جھجھک اور شرم لاج لیے اپنے آپ کو روکے رکھتے ہیں اور اپنوں کو گلے نہیں لگاتے۔ جبکہ ہماری صرف ایک جپھی کسی اگلے کے لیے نئی زندگی بن سکتی ہے۔ کسی کی جان بچا سکتی ہے۔
تو آئیں اور عہد کریں کہ آج کے بعد ہم گلے لگنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم اس عادت کو بھرپور طریقے سے اپنائیں گے اور اپنوں کا خوب خیال رکھیں گے۔
مزید پڑھیں





