Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم نے انسان کو نہیں، اس کی حیثیت کو عزت دینا سیکھ لیا ،تحریر:کاشف خان

نقطہ نظر
kashifkhan

ہمارا معاشرہ بظاہر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، جدید گاڑیاں، مہنگے موبائل فون، بڑے کاروبار اور سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مقبولیت ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سوچ بھی اتنی ہی ترقی کر رہی ہے؟ شاید نہیں۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اس کے کردار اور انسانیت سے نہیں بلکہ اس کی حیثیت، دولت، عہدے اور تعلقات سے پرکھنا شروع کر دیا ہے۔


جس شخص کے پاس دولت ہے، اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جس کے پاس بڑا عہدہ ہے، اس کے سامنے لوگ ادب سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جس کے پاس مہنگی گاڑی ہے، اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور، کسان، خاکروب یا معمولی ملازم ہمارے سامنے آئے تو اکثر ہمارا رویہ بدل جاتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ عزت انسان کا بنیادی حق ہے، دولت کی جاگیر نہیں۔


یہ رویہ صرف بڑوں تک محدود نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو بھی انجانے میں یہی سبق دے رہے ہیں کہ کامیاب وہی ہے جس کے پاس زیادہ پیسہ، بڑا گھر اور اونچا عہدہ ہو۔ ہم انہیں اچھے اسکول میں تعلیم تو دیتے ہیں، مگر یہ سکھانا بھول جاتے ہیں کہ اسکول کے چوکیدار، صفائی کرنے والے، مالی اور ڈرائیور بھی اسی عزت کے مستحق ہیں جس کے ہم خود خواہش مند ہیں۔


ذرا سوچیں، جو مزدور دن بھر دھوپ میں کھڑے ہو کر ہمارے گھر تعمیر کرتا ہے، اگر وہ ایک دن کام چھوڑ دے تو ہمارا نظام کتنی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ جو کسان زمین میں پسینہ بہا کر ہمارے لیے خوراک پیدا کرتا ہے، اگر وہ محنت نہ کرے تو ہماری میزیں کیسے آباد ہوں گی؟ جو صفائی کارکن گلیوں اور سڑکوں کو صاف کرتا ہے، اگر وہ اپنا کام چھوڑ دے تو ہمیں اپنے ماحول کی اصل اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔


پھر ہم ان لوگوں کو کم تر کیوں سمجھتے ہیں؟


اصل مسئلہ غربت نہیں، ہماری سوچ ہے۔ غریب ہونا کوئی جرم نہیں، لیکن کسی غریب انسان کو حقیر سمجھنا یقیناً ہماری اخلاقی کمزوری ہے۔ حالات کسی بھی انسان کو بدل سکتے ہیں۔ آج جو شخص وسائل سے محروم ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی اسی حالت میں ہو۔ اسی طرح آج اقتدار، دولت اور شہرت رکھنے والا شخص ہمیشہ اسی مقام پر رہے، یہ بھی ضروری نہیں۔


وقت سب کے لیے ایک جیسا نہیں رہتا۔


ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ کسی سے صرف اس لیے اچھا سلوک نہ کریں کہ وہ بااثر ہے۔ کسی کو صرف اس لیے نظرانداز نہ کریں کہ وہ غریب ہے۔ کسی کے لباس، گاڑی، گھر یا عہدے سے اس کی انسانیت کا فیصلہ نہ کریں۔


ایک سلام، ایک مسکراہٹ، چند اچھے الفاظ اور کسی ضرورت مند کی بات توجہ سے سن لینا شاید ہمارے لیے معمولی عمل ہو، لیکن سامنے والے کے لیے یہ عزتِ نفس کا باعث بن سکتا ہے۔


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرے کی اصل ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب معاشرے میں کمزور شخص خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا انسان محسوس کرے۔


اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو تبدیلی ہمیں اپنے گھر، اپنے دفتر، اپنی دکان اور اپنے روزمرہ رویوں سے شروع کرنا ہوگی۔ ہمیں انسان کو اس کی جیب سے نہیں، اس کے کردار سے دیکھنا ہوگا۔


دولت کسی کو بڑا نہیں بناتی، اچھا کردار بناتا ہے۔ عہدہ کسی کو عظیم نہیں بناتا، انسانیت عظمت عطا کرتی ہے۔


آئیے ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم لوگوں کو ان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کی انسانیت سے عزت دیں گے۔


کیونکہ آخرکار انسان اپنے ساتھ نہ دولت لے کر جاتا ہے، نہ عہدہ اور نہ شہرت۔ اس کے ساتھ صرف اس کے کردار کی خوشبو رہ جاتی ہے، جو اس کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔