Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک کچوری دو سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

آج سوشل میڈیا پر عورتوں کے کچھ نعرے دیکھے۔ ایک نعرہ تھا "ایک کچوری دو سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ" اور دوسرا تھا "نہیں جئیں گے ڈر میں، مرد کو رکھو گھر میں"۔ پہلے تو پڑھ کر ہنسی آئی۔ پھر نہ جانے کیوں دل کچھ دیر کے لیے رک سا گیا۔ سوچا کہ اگر واقعی سارے مرد ایسے ہی ہیں تو پھر میں کہاں کھڑا ہوں؟ میں کیا ہوں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں کس کی طرف دیکھوں؟


میں صبح گھر سے نکلتا ہوں تو ذہن میں دفتر ہوتا ہے۔ سارا دن کام میں گزرتا ہے۔ کبھی کام زیادہ ہوتا ہے کبھی کسی کی ڈانٹ سننی پڑتی ہے اور کبھی یہ فکر رہتی ہے کہ مہینے کا خرچ کیسے پورا ہوگا۔ شام کو گھر واپس آتا ہوں تو لگتا ہے اب آرام ملے گا لیکن گھر میں بھی زندگی اپنی جگہ کھڑی ہوتی ہے۔ ماں کی دوا لانی ہے۔ بہن کی کوئی ضرورت ہے۔ بیوی کے ساتھ گھر کا خرچ دیکھنا ہے۔ بجلی کا بل دینا ہے۔ کبھی کسی رشتے دار کی مدد کرنی ہے اور کبھی اچانک کوئی ایسا خرچ سامنے آجاتا ہے جس کے لیے جیب تیار نہیں ہوتی۔


پھر بھی کوشش کرتا ہوں کہ کسی کو محسوس نہ ہو کہ میں پریشان ہوں۔


کیونکہ ہم لڑکوں کو شروع سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ تم نے گھر سنبھالنا ہے۔ تمہیں مضبوط رہنا ہے۔ ماں باپ کا خیال رکھنا ہے۔ بہنوں کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ شادی ہوجائے تو بیوی اور بچوں کو دیکھنا ہے۔ اپنی ضرورت بعد میں دیکھ لینا۔ پہلے گھر۔


اور سچ کہوں تو مجھے اس میں کبھی شکایت بھی نہیں رہی۔ اپنے لوگوں کے لیے کون نہیں کرنا چاہتا۔ ماں کے لیے کچھ خرید کر دل خوش ہوتا ہے۔ بہن کے کام آؤں تو اچھا لگتا ہے۔ بیوی کے چہرے پر اپنی وجہ سے خوشی دیکھوں تو ساری تھکن اتر جاتی ہے۔ مسئلہ ذمہ داریوں سے نہیں ہے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب اتنا سب کرنے کے بعد بھی صرف اس لیے شک کی نظر سے دیکھا جائے کہ میں مرد ہوں۔


میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ عورتیں اپنے مسائل کی بات نہ کریں۔ اگر کسی عورت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اسے ضرور بولنا چاہیے۔ اگر کسی مرد نے کسی عورت کو ہراساں کیا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھنی چاہیے۔ اگر کسی گھر میں عورت پر ظلم ہو رہا ہے تو اسے خاموش رہنے کے لیے نہیں کہا جاسکتا۔ عورت کو خوف میں زندگی نہیں گزارنی چاہیے۔ اس بات سے اختلاف کی کوئی وجہ نہیں۔


لیکن جب کسی ایک مرد کے کیے ہوئے کی وجہ سے ہر مرد مشکوک ہوجائے تو دل ضرور پوچھتا ہے کہ آخر میرا قصور کیا ہے؟


میں وہ مرد نہیں جو سڑک پر کسی عورت کو دیکھ کر آوازیں کستا ہے۔ میں وہ مرد نہیں جو کسی عورت کو اس کی مرضی کے بغیر چھونے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ میں وہ مرد نہیں جو اپنی بیوی کو انسان سے کم سمجھتا ہے۔ میں تو وہ ہوں جو اپنی ماں کو اکیلا چھوڑ کر کہیں جانے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے۔ بہن فون کرے تو کام چھوڑ کر اس کی بات سنتا ہے۔ بیوی ناراض ہو تو اپنی انا ایک طرف رکھ کر پوچھتا ہے کیا ہوا؟


پھر جب کوئی کہتا ہے "ان مردوں کا کیا بھروسہ" تو میرے ذہن میں صرف ایک بات آتی ہے کہ شاید میری یہ ساری کوششیں نظر ہی نہیں آتیں۔


ہم مردوں کی بھی ایک عجیب زندگی ہے۔ گھر میں کسی کو ضرورت ہو تو سب کو یاد آتا ہے کہ بیٹا ہے، بھائی ہے، شوہر ہے۔ سب کے کام آنا ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہمارا بھی دل ہوتا ہے کہ کوئی پوچھے بھائی تم ٹھیک ہو؟ سارا دن کہاں تھے؟ تھک گئے ہو تو بیٹھ جاؤ۔ مگر شاید یہ سوال ہم سے پوچھنے کی کسی کو ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ ہم سے بس یہی امید رکھی جاتی ہے کہ ہم سب سنبھال لیں گے۔


اور پھر جب ہم کہیں کہ بھائی ہم بھی تھک جاتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مرد ہو کر اپنی تکلیف بتانا بھی کوئی شکایت ہے۔ جیسے ہمارے حصے میں صرف ذمہ داریاں آئی ہیں اور احساسات نہیں۔


شاید اسی لیے یہ نعرے مجھے تھوڑا سا اداس کر گئے۔ اس لیے نہیں کہ کسی عورت نے آواز اٹھائی۔ اس لیے کہ اس آواز میں مجھے اپنے لیے کوئی جگہ نظر نہیں آئی۔


میں عورت کے خلاف نہیں ہوں۔ میں تو چاہتا ہوں میری ماں محفوظ رہے۔ میری بہن کو کبھی کسی سے ڈرنا نہ پڑے۔ میری بیوی رات کو اکیلی باہر نکلے تو مجھے یہ فکر نہ ہو کہ کہیں کوئی اسے تنگ نہ کرے۔ میں چاہتا ہوں میری آنے والی بیٹی ایک ایسے معاشرے میں بڑی ہو جہاں اسے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر وقت ڈر کر نہ جینا پڑے۔


لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ ہر مرد خطرہ نہیں ہوتا۔ کچھ مرد اس کے باپ ہوتے ہیں۔ کچھ بھائی ہوتے ہیں۔ کچھ شوہر ہوتے ہیں۔ کچھ استاد ہوتے ہیں۔ کچھ دوست ہوتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو ساری عمر عورتوں کی عزت کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ تو پھر ہم سب کو ایک ہی جگہ کیوں کھڑا کردیا جائے؟


کسی مرد نے ظلم کیا ہے تو اس کا نام لیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اسے سزا دلائیں۔ لیکن میرے حصے کا حساب بھی مجھ سے ہی لیں۔ میں نے جو کیا ہے اس کی بنیاد پر مجھے دیکھیں۔ صرف اس لیے نہیں کہ میں مرد ہوں۔


کیونکہ میں بھی سارا دن کام کرکے گھر آتا ہوں۔ میں بھی کبھی رات کو خاموشی سے بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ زندگی کہاں جا رہی ہے۔ میں بھی اپنے مستقبل سے ڈرتا ہوں۔ مجھے بھی کبھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں اکثر یہ بات کسی کو بتاتا نہیں۔


شاید ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عورت کو مرد سے تحفظ چاہیے اور مرد کو عورت سے نفرت نہیں بلکہ سمجھ چاہیے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ انسان ہیں اور دونوں کے اپنے دکھ ہیں۔


اس لیے جب میں سنتا ہوں "مرد کو گھر میں رکھو" تو میں ہنسنے کے بجائے بس اتنا سوچتا ہوں کہ اگر میں بھی گھر میں بیٹھ جاؤں تو گھر کا خرچ کون چلائے گا؟ ماں کی دوا کون لائے گا؟ بہن کی ضرورت کون پوری کرے گا؟ بیوی کے ساتھ زندگی کون سنبھالے گا؟


اور پھر دل میں ایک ہی سوال رہ جاتا ہے۔ میں کس کی طرف دیکھوں؟ میں کیا کروں کہ مجھے بھی صرف مرد سمجھ کر نہیں بلکہ ایک انسان سمجھ کر دیکھا جائے؟