Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

statehurmaz

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کی صورتحال اب کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات نے خطے کے اس اہم آبی گزرگاہ کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اب ایک نئی جغرافیائی اور تزویراتی حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حساس علاقے میں سیکیورٹی کی بحالی میں کردار ادا کریں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس حوالے سے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران ماضی میں بھی خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اس گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے بعد یہ خدشات حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دے رہے ہیں۔خلیج فارس سے خلیج عمان تک پھیلا یہ تنگ سمندری راستہ تقریباً 100 میل طویل ہے جبکہ اس کی کم سے کم چوڑائی صرف 24 میل ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL