اسلام اور جائیداد کی تقسیم،تحریر : شازیہ یاسین
نقطہ نظر
انسان اپنی پوری زندگی محنت، جدوجہد اور قربانیوں کے ذریعے مال و جائیداد جمع کرتا ہے۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کے بہتر مستقبل، بچوں کی تعلیم، ان کی ضروریات اور خاندان کی خوش حالی کے لیے دن رات کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے چھوڑے ہوئے مال کی منصفانہ تقسیم ایک اہم دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں وراثت کے معاملات اکثر محبتوں کو نفرتوں میں اور رشتوں کو دشمنیوں میں بدل دیتے ہیں۔ بہت سے خاندان صرف جائیداد کی تقسیم کے تنازعات کی وجہ سے بکھر جاتے ہیں، بہنوں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا، یتیموں کی حق تلفی کی جاتی ہے اور کمزور افراد کو دباؤ میں لا کر ان کے حصے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے وراثت کے معاملے میں ایسا جامع اور عادلانہ نظام عطا کیا ہے جو نہ صرف ہر حق دار کو اس کا حق دیتا ہے بلکہ معاشرے میں عدل، محبت اور استحکام کو بھی فروغ دیتا ہے۔
وراثت یا میراث کے معنی ہیں کسی چیز کا ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہونا۔ اصطلاحِ شریعت میں وراثت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی میت کی وفات کے بعد اس کے زندہ ورثاء کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ وراثت کے علم کو علمِ میراث اور علم الفرائض بھی کہا جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے ایک ہمہ گیر اور آفاقی ضابطۂ وراثت عطا کیا ہے اور خاندانی و معاشرتی نظام کے استحکام کے لیے ایسے ابدی اصول مقرر کیے ہیں جنہوں نے زمانۂ جاہلیت اور دیگر معاشروں میں موجود بے شمار ناانصافیوں کا خاتمہ کر دیا۔
اسلام سے قبل عورتوں، یتیموں اور کمزور افراد کو وراثت میں کوئی حق نہیں دیا جاتا تھا۔ جائیداد صرف طاقت ور مردوں کے درمیان تقسیم ہوتی تھی، لیکن اسلام نے اس ظالمانہ نظام کو ختم کرتے ہوئے عورتوں اور مردوں دونوں کے حقوق واضح طور پر مقرر کر دیے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ:
"مردوں کے لیے اس ترکے میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس ترکے میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔"
(سورۃ النساء: 7)
یہ آیت اسلام کے نظامِ وراثت کی بنیاد ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ وراثت ہر حق دار کا شرعی حق ہے اور کسی کو اس سے محروم کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
سورۃ النساء میں وراثت اور وصیت کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان حدود کی پابندی کرنے والوں کو جنت کی بشارت اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت وعید سنائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وراثت کی منصفانہ تقسیم محض قانونی یا معاشرتی معاملہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور عبادت بھی ہے۔
وراثت کی تقسیم سے قبل وصیت اور قرض کی ادائیگی کا مرحلہ آتا ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمہ اللہ تعالیٰ یا بندوں کے حقوق باقی ہوں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے بارے میں وصیت کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو اور وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی نہ ہو۔"
(صحیح بخاری)
وصیت کے چند اہم احکام درج ذیل ہیں:
1۔ وصیت تحریری شکل میں ہونی چاہیے یا اس پر گواہ موجود ہوں۔
2۔ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ میں نافذ نہیں ہوتی۔
3۔ اگر کسی کے ذمہ زکوٰۃ، کفارہ، نذر یا دیگر مالی واجبات ہوں تو ان کی ادائیگی کی وصیت کرنا ضروری ہے۔
4۔ وصیت کسی نیک، دینی یا رفاہی مقصد کے لیے کی جا سکتی ہے، لیکن کسی حرام یا نقصان دہ کام کے لیے وصیت جائز نہیں۔
5۔ ایسی وصیت کرنا جس کا مقصد کسی وارث یا فرد کو نقصان پہنچانا ہو، شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔
ابتدائی دورِ اسلام میں وصیت کے ذریعے حقوق متعین کیے جاتے تھے، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں وراثت کے تفصیلی احکام نازل فرما دیے۔ سورۃ النساء میں اولاد، والدین، میاں بیوی اور دیگر رشتہ داروں کے حصے واضح طور پر بیان کر دیے گئے تاکہ کسی قسم کی ناانصافی یا اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ پھر اگر صرف دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے نصف ترکہ ہے۔ اور اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے..."
(سورۃ النساء: 11-12)
یہ احکام اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام نے وراثت کے ہر پہلو کو انتہائی حکمت اور عدل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان حصوں میں کسی قسم کی کمی بیشی یا ذاتی خواہشات کی بنیاد پر تبدیلی کی اجازت نہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی خواتین کو ان کے شرعی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات بھائی بہنوں کو جائیداد سے دست بردار ہونے پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ بعض خاندانوں میں یتیم بچوں کا حق بھی ہڑپ کر لیا جاتا ہے۔ یہ رویے نہ صرف شریعت کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرتی فساد اور خاندانی انتشار کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ایک بہن جو اپنے والدین کے گھر میں محبت، قربانی اور خدمت کا حق ادا کرتی ہے، اسے صرف اس لیے وراثت سے محروم کر دینا کہ وہ شادی شدہ ہے، ایک سنگین ناانصافی اور ظلم ہے۔
وراثت کی منصفانہ تقسیم دولت کے ارتکاز کو کم کرتی ہے۔ جب مال مختلف افراد میں تقسیم ہوتا ہے تو دولت کی گردش بڑھتی ہے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے اور معاشرے میں خوش حالی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب جائیداد چند افراد کے ہاتھوں میں محدود ہو جائے تو معاشی عدم توازن پیدا ہوتا ہے، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور محرومی کا احساس جنم لیتا ہے۔
وراثت کے معاملات میں انصاف خاندانی محبتوں کو مضبوط بناتا ہے جبکہ ناانصافی دلوں میں حسد، نفرت اور دشمنی پیدا کرتی ہے۔ آج مسلم معاشروں میں بہت سے خاندانی تنازعات، مقدمات اور جھگڑوں کی بنیادی وجہ وراثت کے شرعی احکام سے غفلت اور ان کی خلاف ورزی ہے۔ زمین اور جائیداد کے چند ٹکڑوں کی خاطر بھائی بھائی کے دشمن بن جاتے ہیں، بہنیں اپنے حقوق کے لیے عدالتوں کے چکر لگاتی ہیں اور خاندانوں کا سکون تباہ ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم وراثت کے شرعی احکام کو سیکھیں، اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کریں اور ان اصولوں پر مکمل دیانت داری کے ساتھ عمل کریں۔ ہر حق دار کو اس کا حق بروقت دیا جائے، خصوصاً خواتین، یتیموں اور کمزور افراد کے حقوق کا خاص خیال رکھا جائے۔ ہمیں یہ بھی چاہیے کہ معاشرے میں وراثت کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کریں تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام کو سمجھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ وراثت کی منصفانہ تقسیم صرف مال بانٹنے کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے، خاندانوں میں محبت پیدا کرنے اور معاشرے میں عدل قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق وراثت تقسیم کرتے ہیں وہ دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کے مستحق بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں اور اپنے رب اور اس کے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی رضا حاصل کر سکیں۔ آمین۔





