اسلام آباد راستے بند کرنے نہیں آ رہے،حکمران عوام کو ریلیف دیں،حافظ نعیم

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام عذاب میں مبتلا ہیں، حکومت کا 26 ارب روپے کا ریلیف پیکیج ناکافی اور بغیرورکنگ کے اعلان کیا گیا، جماعت اسلامی کا لانگ مارچ 23 اور 24 ستمبر کو اسلام آباد پہنچے گا، تاہم راستے بند نہیں کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں، مذاکرات میں بہت سی باتیں مان لی گئیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ حکومت نے صرف 26 ارب روپے کا ریلیف دیا، جبکہ عوام کو حقیقی اور مؤثر ریلیف کی ضرورت ہے۔حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے پر حکومت نے مزید کمانا شروع کیا، لیکن عالمی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی گاڑیاں زیادہ تر متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے، اس لیے پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست عام آدمی کو متاثر کرتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فروری میں ایران پر امریکی حملے کے فوری بعد حکومت کو ریفائنریوں سے بات کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کی بات کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا، جبکہ عام آدمی پر بھاری ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے شرح سود، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، آئی پی پیز اور ری گیسیفکیشن پلانٹس کو دی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک فیصد شرح سود کم ہونے سے 574 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو تین سے چار ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، تحریک کا مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ پٹرولیم لیوی کا بوجھ ختم، آئی پی پیز کا مافیا ختم اور روٹی سستی ہونی چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کسان اتحاد سے جماعت اسلامی کا رابطہ ہے، پی ٹی آئی سے بھی رابطہ ہے، انہوں نے ہماری حمایت کی، ہم بھی ان کے احتجاج کو سپورٹ کرتے ہیں۔ حکومت کے پاس اگر ریلیف دینے کا کوئی طریقہ موجود ہے تو آج ہی بات کر لے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کا وطیرہ ہے کہ عوام کو ان کا حق خیرات کے طور پر بھی نہ دیا جائے، لوگ کہاں کہاں پر یہ بھتے دیتے رہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ 20 ستمبر سے لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہوگا اور 23، 24 ستمبر کو قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔ حکومت کو اجازت کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ریلیف لینے کے لیے اسلام آباد آ رہی ہے، کسی سے تصادم کے لیے نہیں، راستے بند نہیں کیے جائیں گے اور 20 ستمبر کو اسلام آباد میں کچھ نہیں ہوگا۔ایم ڈی کیٹ طلبہ کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ ان کا ٹیسٹ ہو اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ تحریک میں بھرپور شرکت کریں، اگر قوم ساتھ نہیں دے گی تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔





