اسرائیل کا ملک میں آنے والے تمام پائلٹس کی سخت جانچ پڑتال کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد اسرائیل نے ملک میں آنے والی تمام پروازوں کے پائلٹس کی سکیورٹی جانچ کو انتہائی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیلمین کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حکام کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ اسرائیل آنے والی ملکی اور غیر ملکی دونوں ائیرلائنز کی پروازوں پر سکیورٹی پروٹوکولز میں فوری اضافہ کیا جائے۔
ترجمان نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’اسرائیل آنے والے ہر پائلٹ کی شناخت ہمارے پاس ہوگی، ہم معلوم کریں گے کہ وہ کون ہیں اور ان کی باقاعدہ سکیورٹی جانچ کی جائے گی۔ جنیوا میں اسرائیلی سفیر ڈینیل میرون کے مطابق مذکورہ پرواز میں سوار 172 مسافروں میں سے 169 اسرائیلی شہری تھے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق حالیہ واقعے نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے دوران پائلٹس کی بھرتی ان کی نفسیاتی جانچ اور سکیورٹی کلیئرنس کے حوالے سے عالمی سطح پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پائلٹس کو بھی مسافروں کی طرح ہی سخت سکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور وہ اپنے ساتھ چاقو یا بندوق جیسی چیزیں جہاز میں نہیں لے جا سکتے۔ خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے سکیورٹی اقدامات میں یہ سختی اماراتی ائیرلائن فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کی گئی ہے جو متحدہ عرب امارات سے تل ابیب جا رہی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق پرواز کے دوران کو پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان کو چاقو کے وار کر کے زخمی کر دیا اور طیارے کو جان بوجھ کر کریش کرنے کی کوشش کی۔ صورتحال اس وقت کنٹرول میں آئی جب طیارے میں موجود مسافروں نے بروقت مداخلت کر کے کو پائلٹ کو قابو کر لیا۔ بعد ازاں جہاز میں سفر کرنے والے ایئرلائن کے دیگر آف ڈیوٹی پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال کر اسے بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق سعودی حکام نے حملہ آور کو پائلٹ کو گرفتار کر کے اس سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب فلائی دبئی نے اس واقعے کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واقعے کے حوالے سے مکمل حقائق ابھی سامنے آنا باقی ہیں
مزید پڑھیں




