Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جھوٹ اور منافقت: آج کے معاشرے کا ناسور،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں سچ بولنا کبھی کبھی مشکل اور جھوٹ بولنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم جھوٹ کو برا بھی کہتے ہیں مگر جب اپنی ضرورت سامنے آتی ہے تو اسی جھوٹ کے لیے کئی خوب صورت جواز بھی تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی رویہ آہستہ آہستہ منافقت کو جنم دیتا ہے۔

جھوٹ صرف زبان سے ادا ہونے والے چند الفاظ کا نام نہیں ہے۔ یہ اعتماد کو توڑنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ ایک جھوٹ دوسرے جھوٹ کو جنم دیتا ہے۔ اور پھر انسان اپنے ہی بنائے ہوئے جھوٹ کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ کبھی معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ تو کبھی اپنی غلطی چھپانے کے لیے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ اور کبھی کسی کے سامنے اپنی حیثیت بہتر دکھانے کے لیے بھی جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب جھوٹ معمول بن جائے تو سچ بولنے والا شخص بھی عجیب لگنے لگتا ہے۔

منافقت اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ سامنے کچھ اور اور پیچھے کچھ اور، زبان پر محبت، مگر دل میں بغض ہوتا ہے۔ سامنے تعریف اور پیچھے برائی کی جاتی ہے۔ کسی کے دکھ میں ہمدردی کے چند الفاظ مگر ضرورت کے وقت ہاتھ کھینچ لینا۔ ہم دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے میں دیر نہیں کرتے مگر اپنے رویوں کا جائزہ لینے کے لیے آئینہ دیکھنا تک پسند نہیں کرتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا نے بھی اس رویے کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ ہم اپنی زندگی کا خوب صورت حصہ لوگوں کو دکھاتے ہیں مگر اپنی حقیقت چھپا لیتے ہیں۔ خوش اخلاقی کی پوسٹیں لگاتے ہیں مگر گھر میں معمولی بات پر رشتے توڑ دیتے ہیں۔ محبت اور احترام کے الفاظ لکھتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں دوسروں کی عزت تک کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جھوٹ اور منافقت نے رشتوں میں موجود اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔ جب انسان بار بار دھوکا کھاتا ہے تو پھر اسے سچ بھی مشکوک محسوس ہونے لگتا ہے۔ یوں صرف ایک شخص جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ اس کا جھوٹ کئی دلوں سے اعتماد چھین لیتا ہے۔

ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود سے ایک سوال کرنا ہوگا: کیا میں وہی ہوں جو لوگوں کے سامنے نظر آتا ہوں؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو شاید ہم اس ناسور سے بچنے کی طرف ایک قدم بڑھا چکے ہیں۔ اور اگر جواب نہیں ہے تو اصلاح کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔

معاشرہ صرف قانون سے نہیں بدلتا، افراد کے کردار سے بدلتا ہے۔ اگر ہم سچ کو مشکل ہونے کے باوجود اختیار کر لیں، اپنی غلطی تسلیم کرنا سیکھ لیں، سامنے اور پیچھے ایک ہی رویہ رکھیں تو شاید ہمارے معاشرے سے جھوٹ اور منافقت کی یہ دھند کچھ کم ہو جائے۔ کیونکہ معاشرے کا چہرہ ہم سب کے کردار سے بنتا ہے۔ اور چہرہ بدلنے کے لیے آئینہ توڑنے کے بجائے خود کو بدلنا پڑتا ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL