Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنازے اٹھاتے اٹھاتے زندگی سمجھ آئی ،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

اپنی موت کا انتظار کرتے کرتے کئی لوگوں کے جنازے اٹھا لیے، تب جا کر معلوم ہوا کہ زندگی موت کا انتظار کرنے کے لیے نہیں، لوگوں کو کندھا دینے کے لیے ہے۔ ہم عجیب لوگ ہیں، زندہ رہتے ہوئے موت کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور مرتے ہوئے زندگی کی قدر سمجھتے ہیں۔ کبھی اپنی محرومیوں کا ماتم کرتے ہیں، کبھی گزرے ہوئے وقت کا، کبھی ان لوگوں کا جو ہمیں چھوڑ گئے۔ اور پھر ایک دن خبر آتی ہے کہ کوئی اور چلا گیا ہے۔ ہم کپڑے بدلتے ہیں، وضو کرتے ہیں، جنازے میں پہنچتے ہیں، چارپائی کو کندھا دیتے ہیں اور قبرستان کی خاموشی میں کھڑے ہو کر چند لمحوں کے لیے سوچتے ہیں کہ اگلی باری شاید ہماری ہو۔


مگر اگلی صبح ہم پھر اپنی زندگی میں واپس آ جاتے ہیں۔ وہی مصروفیات، وہی شکایتیں، وہی ناراضگیاں، وہی لوگوں سے گلے اور وہی اپنے مستقبل کی فکر۔ جیسے موت ہمارے سامنے سے گزر کر بھی ہمیں چھو نہیں گئی۔ ہم جنازے اٹھاتے ہیں مگر موت کو سمجھ نہیں پاتے۔ ہم قبر تک جاتے ہیں مگر اپنی زندگی کا راستہ نہیں بدلتے۔


میں نے کئی جنازے دیکھے ہیں۔ کچھ ایسے لوگوں کے جن کے جانے کا یقین ہی نہیں آتا تھا۔ کل تک جو شخص ہمارے ساتھ بیٹھا تھا، آج اسے چار کندھوں پر اٹھایا جا رہا تھا۔ کل تک جس کی آواز گھر میں گونجتی تھی، آج اس کے گھر میں خاموشی تھی۔ کل تک جس کے ہاتھ میں موبائل تھا، آج اس کے ہاتھ کفن میں بندھے تھے۔ اور ہر جنازے کے ساتھ ایک عجیب حقیقت میرے اندر اترتی گئی کہ انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے کہ اس کے پاس وقت بہت ہے۔


ہم لوگوں کو بعد میں ملنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ معافی بعد کے لیے، محبت بعد کے لیے، ملاقات بعد کے لیے، ماں باپ کے ساتھ بیٹھنا بعد کے لیے، دوست کو فون کرنا بعد کے لیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کل سب کچھ ویسا ہی ہوگا جیسے آج ہے۔ لیکن موت کو کسی کے کل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ نہ عمر دیکھتی ہے، نہ منصوبے، نہ مصروفیت، نہ یہ پوچھتی ہے کہ ابھی تم نے بہت کچھ کرنا تھا۔


شاید اسی لیے جنازہ صرف ایک میت کا سفر نہیں ہوتا، وہ زندہ لوگوں کے لیے ایک خاموش خط بھی ہوتا ہے۔ ایک ایسا خط جس میں لکھا ہوتا ہے کہ دیکھو، جس زندگی کو تم ہمیشہ مؤخر کرتے رہے، وہ کسی بھی لمحے ختم ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں سے محبت ہے، انہیں بتا دو۔ جن سے ناراضی ہے، اگر ممکن ہو تو ختم کر دو۔ جس خواب کے لیے دل دھڑکتا ہے، اس کی طرف ایک قدم بڑھا دو۔ کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ نہیں کہ ہم ایک دن مر جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم نہیں وہ دن کون سا ہوگا۔


وقت کے ساتھ مجھے یہ بھی سمجھ آیا کہ زندگی صرف اپنی سانسیں گننے کا نام نہیں۔ زندگی شاید دوسروں کے لیے آسانی بننے کا نام ہے۔ کسی کے آنسو پونچھ دینا، کسی کی بات سن لینا، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی مایوس شخص کو امید دے دینا، کسی کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہو جانا۔ کبھی کبھی انسان کی پوری زندگی چند لمحوں میں سمٹ جاتی ہے، اور وہ لمحے وہ ہوتے ہیں جب اس نے کسی دوسرے انسان کے لیے کچھ کیا ہوتا ہے۔


شاید اسی لیے کندھا دینے کی رسم میں بھی ایک عجیب فلسفہ چھپا ہے۔ آج ہم کسی کو کندھا دیتے ہیں، کل کوئی ہمیں دے گا۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان دو کندھوں کے درمیان جو زندگی ہمیں ملی ہے، ہم نے اس میں کیا کیا؟ کتنے لوگوں کا بوجھ اٹھایا؟ کتنے لوگوں کے دکھ بانٹے؟ کتنے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں؟


ہم موت سے بچ نہیں سکتے، لیکن موت تک پہنچنے سے پہلے زندگی کو ضائع ہونے سے ضرور بچا سکتے ہیں۔ ہر صبح ہمیں ایک نیا موقع ملتا ہے کہ ہم صرف اپنے لیے نہ جئیں۔ کسی کے لیے سہارا بنیں، کسی کے لیے دعا بنیں، کسی کے لیے مسکراہٹ بنیں۔ کیونکہ آخر میں شاید ہماری جائیداد، عہدہ، شہرت اور بینک بیلنس سے زیادہ یہ یاد رکھا جائے گا کہ ہم نے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔


اب جب کسی جنازے میں جاتا ہوں تو صرف مرنے والے کو نہیں دیکھتا، اپنے آپ کو بھی دیکھتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ اگر آج میری باری آ جائے تو میرے پیچھے رہ جانے والے لوگ مجھے کس بات کے لیے یاد کریں گے؟ میری شکایتوں کے لیے یا میری محبت کے لیے؟ میری تلخیوں کے لیے یا میرے ساتھ گزارے اچھے وقت کے لیے؟


شاید زندگی کا اصل سبق یہی ہے کہ موت کا انتظار کرتے ہوئے زندگی مت گزارو۔ زندگی کو اتنا جیو کہ جب کبھی تم کسی جنازے کو کندھا دو تو تمہیں اپنے زندہ ہونے پر شرمندگی نہ ہو۔


کیونکہ آخرکار ہم سب نے ایک دن چار کندھوں پر جانا ہے، مگر اس سے پہلے یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے کتنے لوگوں کے لیے اپنے کندھے پیش کیے تھے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL