کبھی کبھی جسے ہم مقدر سمجھتے ہیں، وہ امتحان ہوتا ہے،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
ہم عجیب لوگ ہیں، ہر اُس چیز کو مقدر سمجھ کر اُس سے لپٹ جاتے ہیں جو ہمارے دل کے قریب آ جائے۔ کوئی خواب آنکھوں میں ٹھہر جائے تو اُسے تقدیر کی تحریر سمجھ بیٹھتے ہیں، کوئی راستہ کھل جائے تو اُسے منزل مان لیتے ہیں، اور جب وہی راستہ اچانک بند ہو جائے تو اپنی قسمت سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر کھلنے والا دروازہ منزل کی طرف نہیں لے جاتا، کچھ دروازے صرف ہمیں وہاں تک لے جاتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر ہمیں پہلی بار اپنی ہی ذات کا کوئی نیا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔
کبھی سوچا ہے، جو چیز ہم مانگتے ہیں وہ ہمیں کیوں نہیں ملتی؟ اور جو چیز ہم نے کبھی مانگی بھی نہیں، وہ اچانک ہماری زندگی کا سب سے گہرا سبق کیوں بن جاتی ہے؟ شاید اس لیے کہ ہماری نظر خواہش تک جاتی ہے، حقیقت تک نہیں۔ ہم ایک لمحہ دیکھتے ہیں، ایک واقعہ دیکھتے ہیں، ایک کمی دیکھتے ہیں؛ مگر وقت اُن سب کے پیچھے چھپی ہوئی پوری کہانی اپنے اندر لیے چل رہا ہوتا ہے۔
کبھی کبھی خدا ہمیں محروم نہیں کرتا، صرف ہمارے دیکھنے کا زوایہ بدل دیتا ہے۔ چیز وہی رہتی ہے، مگر ہماری طلب بدل جاتی ہے۔ جس خواب کے ٹوٹنے پر کبھی لگا تھا کہ زندگی ختم ہوگئی، برسوں بعد اُسی شکست کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ خواب پورا ہو جاتا تو شاید ہم خود سے کبھی نہ مل پاتے۔ جس راستے کے بند ہونے کو ہم نے اپنی بدقسمتی سمجھا تھا، ممکن ہے وہی بندش ہمیں کسی ایسی سمت لے گئی ہو جہاں ہماری روح کو وہ سکون ملا ہو جس کا ہمیں اُس وقت شعور تک نہیں تھا۔
کچھ دعائیں حالات نہیں بدلتی، انسان بدل دیتی ہیں۔
ہم خدا سے کہتے ہیں، "یا رب! مجھے یہ عطا کر۔" اور خدا شاید ہمارے لفظوں سے زیادہ ہمارے انجام کو جانتا ہے۔ وہ کبھی ہماری مانگی ہوئی چیز نہیں دیتا، مگر اُس خواہش کے اندر چھپی ہوئی بے قراری کو آہستہ آہستہ خاموش کر دیتا ہے۔ تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا مطلب ہمیشہ اپنی مرضی منوا لینا نہیں؛ کبھی دعا کا مطلب اپنی مرضی کو اُس کے سامنے رکھ کر خاموش ہو جانا بھی ہے۔
ہم نے "میرا" کا لفظ بہت آسانی سے سیکھ لیا ہے۔
میرا وقت، میری کامیابی، میرا علم، میری زندگی۔
مگر زندگی ہر روز خاموشی سے ہمیں اس لفظ کا فریب دکھاتی رہتی ہے۔ جو آج ہمارے پاس ہے، کل نہیں ہوگا۔ جس علم پر ہمیں ناز ہے، اُس کے باوجود کتنے سوال ہمارے اندر بے جواب ہیں۔ جس ذات کو ہم سب سے زیادہ جانتے سمجھتے ہیں، اُسی ذات کے اندر بھی کتنے پردے ہیں جن سے ہم خود ناواقف ہیں۔
تو پھر "میں" آخر ہے کیا؟
شاید فنا یہیں سے شروع ہوتی ہے،جب انسان چیزوں کو چھوڑنے سے پہلے اپنی ملکیت کا وہم چھوڑنا سیکھتا ہے۔ جب اُسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ میں مالک نہیں، مسافر ہوں۔ مجھے کچھ وقت کے لیے زندگی دی گئی ہے، کچھ راستے دیے گئے ہیں، کچھ خواب دیے گئے ہیں، اور حتیٰ کہ یہ ذات بھی عطا ہے جس پر مجھے سب سے زیادہ ناز ہے۔
پھر زندگی کے واقعات اپنا مطلب بدلنے لگتے ہیں۔ جدائی صرف جدائی نہیں رہتی، محرومی صرف محرومی نہیں رہتی، ناکامی صرف شکست نہیں رہتی۔ ہر واقعہ ایک سوال بن جاتا ہے، اور ہر سوال انسان کو اُس کے اندر کی طرف دھکیلتا ہے۔
کبھی ہمیں راستے سے نہیں، اُس یقین سے ہٹایا جاتا ہے کہ ہمیں معلوم ہے راستہ کہاں ہے۔ کبھی ہماری خواہش نہیں چھینی جاتی، اُس خواہش پر ہمارا اختیار چھینا جاتا ہے۔ کبھی خواب نہیں توڑا جاتا، خواب کے ساتھ جڑی ہوئی ہماری انا توڑی جاتی ہے۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی تربیت یہی ہے کہ وہ ایک دن اپنے رب کے سامنے اپنے سارے نقشے رکھ کر کہہ دے:
"میں راستہ جاننے کا دعویٰ نہیں کرتا، بس اتنا جانتا ہوں کہ تو راستہ جانتا ہے۔"
یہ جملہ کہنے کے لیے انسان کو اپنے اندر بہت کچھ توڑنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب تک انسان اپنے علم پر ناز کرتا رہتا ہے، اُسے ہدایت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ جب تک وہ اپنی خواہش کو حق سمجھتا رہتا ہے، اُسے تقدیر کی حکمت دکھائی نہیں دیتی۔ اور جب تک وہ خود کو مرکز سمجھتا رہتا ہے، اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ زندگی اُس کے منصوبے کی پابند نہیں۔
پھر ایک دن زندگی اُسے ایسے مقام پر لے آتی ہے جہاں سوال تو بہت ہوتے ہیں اور جواب کُچھ بھی نہیں۔ انسان خاموش بیٹھا سوچتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ میں نے تو یہ نہیں مانگا تھا۔ میں تو اس راستے پر جانا چاہتا تھا۔ میں تو سمجھتا تھی یہی میرے لیے بہتر ہے۔
اور شاید اُسی لمحے، جب انسان کے اپنے جواب ختم ہونے لگتے ہیں، یقین کی ابتدا ہوتی ہے۔
وہ علم جو کتابوں سے نہیں ملتا، کبھی انتظار سے ملتا ہے، کبھی خاموشی سے، کبھی شکست سے، اور کبھی اُس درد سے جس کا کوئی فوری مطلب سمجھ نہیں آتا۔
تب معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں ہمیشہ ہر چیز حاصل کرنے کے لیے نہیں درکار ہوتی۔ کبھی کبھی ہمیں اکیلا اور تنہا کرنے کے لیے بھی دی جاتی ہے۔
کیونکہ جو دل اپنی خواہشوں سے بھرا ہو، اُس میں قبولیت کہاں سے اترے؟ جو ذات اپنے "میں" سے بھری ہو، اُس میں فنا کی گنجائش کہاں سے پیدا ہو؟
شاید اسی لیے کچھ خلا ضروری ہوتے ہیں۔ کچھ خاموشیاں ضروری ہوتی ہیں۔ کچھ انتظار ضروری ہوتے ہیں۔ اور کچھ دعاؤں کا ادھورا رہ جانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اس لیے نہیں کہ خدا ہمیں سن نہیں رہا ہوتا، بلکہ شاید اس لیے کہ وہ ہمیں اُس جواب کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے جو ہماری زبان نے مانگا ہی نہیں تھا۔
شاید مقدر کا حسن یہی ہے کہ وہ ہمیں اپنی پوری تحریر کبھی نہیں دکھاتا۔ اگر دکھا دیتا تو انتظار ختم ہو جاتا، یقین کی ضرورت ختم ہو جاتی، اور انسان ہر قدم پر اپنی عقل کا سہارا لینے لگتا۔ مگر زندگی ہمیں صرف آج کا صفحہ دیتی ہے، کل کا نہیں۔
ہمیں معلوم نہیں اگلے صفحے پر کیا لکھا ہے۔
اور شاید یہی نہ جاننا، ایمان کا ایک خوبصورت نام ہے۔
پھر ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے۔ وہ اُن راستوں کو دیکھتا ہے جو بند ہوگئے، اُن خواہشوں کو دیکھتا ہے جو پوری نہ ہوئیں، اُن فیصلوں کو دیکھتا ہے جن پر کبھی دل نے احتجاج کیا تھا۔ اور اچانک اُسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر بند دروازے کے پیچھے صرف محرومی نہیں تھی؛ کہیں نہ کہیں اُس کی اپنی تربیت بھی چھپی ہوئی تھی۔
تب شکایت آہستہ آہستہ شکر میں بدلنے لگتی ہے۔
اور انسان کہتا ہے:
"میں اُس وقت صرف اپنا نقصان دیکھ رہا تھا،
مجھے خبر ہی نہ تھی کہ میری حفاظت لکھی جا رہی ہے۔"
شاید آخرکار زندگی کا فلسفہ اتنا پیچیدہ بھی نہیں۔ ہمیں ہر چیز پانے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ کچھ چیزیں ہمیں چھوڑنے کا ہنر سکھانے آتی ہیں، کچھ ہمیں انتظار، کچھ خاموشی، کچھ عاجزی، اور کچھ فنا۔
اور شاید سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان ایک دن یہ سمجھ لے کہ مقدر وہ نہیں جو ہمیشہ ہماری خواہش پوری کرے؛ مقدر کبھی کبھی وہ ہاتھ بھی ہوتا ہے جو ہماری خواہش سے ہمارا ہاتھ چھڑا کر ہمیں اُس راستے پر لے جاتا ہے جسے ہم دیکھ نہیں پا رہے ہوتے۔
پھر دل میں کوئی شکوہ باقی نہیں رہتا۔ بس ایک خاموش سا اطمینان رہ جاتا ہے کہ جو ملا، وہ بھی امانت تھا؛ جو نہ ملا، اُس میں بھی کوئی حکمت تھی؛ اور جو چھن گیا، شاید وہ کبھی ہمارے اختیار میں تھا ہی نہیں۔
اور شاید اسی مقام پر آ کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ سفر کبھی باہر کا تھا ہی نہیں۔ راستے بدلتے رہے، موسم بدلتے رہے، لوگ آتے جاتے رہے، خواہشیں بنتی اور مٹتی رہیں،مگر اصل سفر اُس ایک "میں" سے اُس مقام تک کا تھا جہاں "میرا" آہستہ آہستہ مٹنے لگتا ہے۔
زینبؔ، اب مقدر سے گلہ کیسا
جو لکھا تھا، وہی سفر نکلا
ہم تو سمجھتے رہے اسے اپنی شکست
وہی آخر میں رب کی نظر نکلا





