Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں میں ایگزیما، خارش اور گرمی دانے،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

ننھے بچوں کی گلاب کی پنکھڑیوں جیسی نرم و نازک جلد جب اچانک سرخ داغوں، دانوں یا بے چین کر دینے والی خارش کی لپیٹ میں آتی ہے تو پورا گھر اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ دودھ پیتے معصوم اور چلنا سیکھتے بچے اپنی تکلیف کو الفاظ کا روپ نہیں دے سکتے، ان کی بے چینی، مسلسل رونا، بستر پر مچلنا اور ننھے ہاتھوں سے اپنے چہرے اور گردن کو کھرچنا دراصل اس اذیت کا اظہار ہوتا ہے جو ان کی جلد پر خاموشی سے ڈیرے ڈال چکی ہوتی ہے۔ طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بچوں کی جلد بڑوں کے مقابلے میں کم از کم تیس فیصد زیادہ پتلی اور انتہائی حساس ہوتی ہے۔ اس کی قدرتی حفاظتی تہہ ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتی، جس کی بنا پر گرد و غبار، گرمی، خشکی اور موسمی تغیرات ان پر بجلی کی تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایگزیما، خارش اور گرمی دانے بظاہر جلد کے امراض دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت یہ جسم کے اندرونی مدافعتی نظام، ماحولیاتی دباؤ اور جینیاتی کمزوریوں کے مابین پیدا ہونے والی کشمکش کا بیرونی عکس ہیں۔

اس حساسیت اور جلدی سوزش کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بنیادی کردار موروثی یا جینیاتی عوامل ادا کرتے ہیں۔ اگر خاندان میں کسی فرد کو ماضی میں دمہ، الرجک نزلہ یا جلد کی بیماری رہی ہو تو بچوں میں ایگزیما کے امکانات نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کے خلیات میں نمی کو قید رکھنے والا بنیادی پروٹین کمزور ہوتا ہے، جس سے جلد اپنی قدرتی رطوبت کھو بیٹھتی ہے اور بیکٹیریا کے داخلے کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا سبب ہمارے اردگرد کا ماحول اور بدلتے موسم ہیں۔ ہمارے ہاں گرمیوں اور برسات کے دنوں میں حبس اور درجہ حرارت کی زیادتی سے پسینے کی باریک نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور اندر رکا ہوا نمکین پسینہ ننھے دانوں اور نوک دار گرمی دانوں کو جنم دیتا ہے جن میں سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھروں میں موجود صوفوں، پردوں اور قالینوں میں پنہاں خوردبینی گرد کے کیڑے، پالتو جانوروں کے بال اور فضا کا دھواں معصوم نظام تنفس اور جلد پر بیک وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔ خوراک کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوزائیدہ بچوں میں دودھ یا نئی ٹھوس غذا کے پروٹین ہاضمے کی ناتجربہ کاری کے باعث الرجی پیدا کرتے ہیں، جن کے ردعمل میں خون کی نالیوں میں ہسٹامائن کا اخراج ہوتا ہے اور چند ہی لمحوں میں بچے کی جلد پر سرخ چٹخ دار چھپاکی یا دانے ابھر آتے ہیں۔ مصنوعی کپڑوں، تیز کیمیائی سرف، اور خوشبودار کاسمیٹکس کی جلد سے رگڑ اس آگ پر مزید تیل چھڑکنے کا کام کرتی ہے۔

جب مرض شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف سرخی یا ہلکی کھجلی تک محدود نہیں رہتے۔ خارش کرتے کرتے جب بچہ جلد کو چھیل ڈالتا ہے تو وہاں بیکٹیریا کے حملے سے پیپ بننے لگتی ہے، زرد رنگ کی موٹی پپڑیاں جم جاتی ہیں، لمف غدود متورم ہو جاتے ہیں اور بچے کو تیز بخار چڑھ جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں غفلت کی گنجائش بالکل ختم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ثانوی انفیکشن جسم میں زہر پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورتحال سے قبل ہی اگر شعور اور دانشمندی کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو طرز زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو معصوم جان کو اس اذیت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا قدم بچے کے لباس کا انتخاب ہے؛ ہمیشہ خالص سوتی، نرم، بغیر چبھنے والے لیبلز کے اور کھلے کپڑے پہنائے جائیں۔ نہلانے کا دورانیہ محدود رکھا جائے اور زیادہ گرم پانی کے بجائے معتدل نیم گرم پانی سے چند منٹ میں غسل ختم کر کے تولیے کو رگڑنے کے بجائے نرمی سے تھپ تھپا کر سکھایا جائے۔ نہانے کے تین منٹ کے اندر اندر جب جلد میں نمی موجود ہو، پیٹرولیم جیلی یا بغیر خوشبو والا مستند موئسچرائزر لگانا ایک حفاظتی ڈھال بن جاتا ہے۔ گرم موسم میں پنکھے اور ہوادار کمرے کا بندوبست پسینے کے غدود کو کھلا رکھتا ہے، جبکہ بچے کے ناخن مسلسل تراشے جائیں تاکہ خارش کے دوران جلد کے ریشے محفوظ رہیں۔

ہومیوپیتھی اس تمام عمل میں معجزانہ اور شفابخش اثرات کی حامل ہے کیونکہ یہ صرف ظاہری دانوں کو کیمیائی مرہموں سے دبانے کے بجائے جسم کی قوت حیات کو بیدار کرتی ہے اور اندرونی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ ہر بچے کی علامات منفرد ہوتی ہیں اور اسی بنیاد پر درست دوا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اگر ننھے مریض کی جلد معمولی سی رگڑ سے بھی پک جاتی ہو، دانے زرد پیپ میں بدل رہے ہوں، مس کرنے پر بچہ چیخ اٹھتا ہو اور سردی برداشت نہ کر سکے تو ہیپر سلف وہ دوا ہے جو انفیکشن کو فوری طور پر قابو میں لاتی ہے۔ دوسری جانب اگر خارش ایسی ہو جس سے شہد یا گوند جیسا لیس دار، زرد اور چپچپا پانی خارج ہوتا ہو جو سوکھ کر موٹی پرت بنا دے، خاص طور پر کانوں کی لو کے پیچھے یا کہنیوں اور گھٹنوں کے موڑ میں تو گریفائٹس اکسیر ثابت ہوتی ہے۔

جب جلد پر خشک، سخت اور کھردرے چھلکے جمے ہوں، نہلانے سے بچہ خوف کھائے اور پانی لگتے ہی رو پڑے، بستر کی گرمائش میں جاتے ہی خارش کی شدت سے تڑپنے لگے اور کھجانے کے بعد شدید جلن کی شکایت کرے تو سلفر کا استعمال مریض کی اندرونی کیفیت کو متوازن کر دیتا ہے۔ رات کے وقت شدید اضطراب، کثرت سے پسینہ آنے کے باوجود راحت نہ ملنا، اور دانوں سے بدبودار مواد کا اخراج مرک سال کی راہنمائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس جب جلد پر موٹی پپڑیوں کے نیچے پیپ کا تالاب بنا ہو اور بچہ بستر پر پڑتے ہی بے چین ہو جائے تو میزیریم کی ضرورت پڑتی ہے۔ تیز ڈنک لگنے جیسی خارش، جلد پر سوجن اور ٹھنڈے پانی کے پھاہے رکھنے سے سکون پانے کی علامات میں ایپس میلیفیکا فوراً حرکت میں آتی ہے۔ ننھے بچوں کے لیے یہ تمام ادویات تیس طاقت میں چند بوندوں یا میٹھی گولیوں کی صورت میں انتہائی محفوظ اور آسان طریقہ علاج ہیں، جبکہ متاثرہ حصوں کی بیرونی صفائی کے لیے کیلنڈولا لوشن یا پانی کی مدد سے جراثیم کش ماحول فراہم کرنا عمل شفا کو دوچند کر دیتا ہے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ جلد کی کسی بھی خرابی کو محض ایک وقتی مسئلہ جان کر نظر انداز نہ کریں بلکہ علامات کے گہرے مطالعے اور بر وقت طبی معاونت سے اپنے معصوم گلابوں کی شادابی اور مسکراہٹ کو سدا برقرار رکھیں۔